قومی زبان

زندگی وجہ مناجات نظر آتی ہے

زندگی وجہ مناجات نظر آتی ہے موت مایوس کمالات نظر آتی ہے مختصر تو نے جو دی ہے مجھے دو دن کی حیات میرے کاسے میں یہ خیرات نظر آتی ہے کیا کسی شمر نے پھر خیمے جلا ڈالے ہیں سر کو کھولے ہوئے سادات نظر آتی ہے کچھ مری بات کی تائید کیا کرتے ہیں کچھ کو تو صرف خرافات نظر آتی ہے اس کی ہر بات ...

مزید پڑھیے

اداسیوں کا سمندر ہے تشنہ لب اب بھی

اداسیوں کا سمندر ہے تشنہ لب اب بھی خموشی کل بھی مرے گھر میں تھی عجب اب بھی اسے تو پا لیا میں نے بڑے وثوق کے ساتھ پریشاں کرتی ہے پھر کون سی طلب اب بھی چلو یہ مان لیا ہے قریب شہ رگ سے سمجھ میں آتا نہیں ہے مجھے تو رب اب بھی سلام کرنے لگا ہوں میں آتے جاتے اسے جواب ہی نہیں دیتا وہ بے ...

مزید پڑھیے

زندگی وجہ مناجات نظر آتی ہے

زندگی وجہ مناجات نظر آتی ہے موت مایوس کمالات نظر آتی ہے مختصر تو نے جو دی ہے مجھے دو دن کی حیات میرے کاسے میں یہ خیرات نظر آتی ہے کیا کسی شمر نے پھر خیمے جلا ڈالے ہیں سر کو کھولے ہوئے سادات نظر آتی ہے کچھ مری بات کی تائید کیا کرتے ہیں کچھ کو تو صرف خرافات نظر آتی ہے اس کی ہر بات ...

مزید پڑھیے

اب تو اپنوں سے ہی ہے اپنے وطن کو خطرہ

اب تو اپنوں سے ہی ہے اپنے وطن کو خطرہ یعنی پھولوں سے بھی ہوتا ہے چمن کو خطرہ کہیں مندر سے ہیں خطرے میں میاں عبداللہ کہیں مسجد سے نظر آیا مدن کو خطرہ کوئی پامال نہ کر دے کہیں عصمت میری راہ چلنے پہ بھی ہوتا ہے بہن کو خطرہ دن بہ دن گرتا ہی جاتا ہے ادب کا معیار دیکھو ہونے کو ہے اب ...

مزید پڑھیے

ان سے کیا پوچھتے ہو لوگ تو کم جانتے ہیں

ان سے کیا پوچھتے ہو لوگ تو کم جانتے ہیں اپنے حالات کو اچھی طرح ہم جانتے ہیں ہم نے جانا ہے تجھے اپنی محبت کا خدا لوگ نادان ہیں پتھر کا صنم جانتے ہیں تو نے منہ پھیر لیا راہ میں ہم سے جب کہ ہم تری آنکھ کا جھکنا بھی ستم جانتے ہیں دل میں جو شعلے بھڑکتے ہیں کہاں دیکھے ہیں آپ تو بس مری ...

مزید پڑھیے

عمر بھر ٹھوکریں کھا کھا کے سنبھلتے رہنا

عمر بھر ٹھوکریں کھا کھا کے سنبھلتے رہنا حوصلہ جینے کا رکھتے ہو تو چلتے رہنا وصل کی رات ہو ہر روز بدن کی خواہش خصلت عشق ہے تا عمر مچلتے رہنا سوچتا ہوں تو بہت دیر تلک ہنستا ہوں میرا دن بھر تری گلیوں میں ٹہلتے رہنا یہ دعا دے کے کہا اس نے کے ماشاء اللہ جان سے جانے تلک خون اگلتے ...

مزید پڑھیے

اک مصیبت یہ ہے کہ دل مرا برہم بھی ہے

اک مصیبت یہ ہے کہ دل مرا برہم بھی ہے اور اس دل میں تری یاد کا ماتم بھی ہے فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ کیا چننا ہے دامن وقت میں آنسو بھی ہیں مرہم بھی ہے مجھ سے ملنے کی خوشی مجھ کو بہت ہے لیکن اک طرف تم سے بچھڑنے کا مجھے غم بھی ہے سرد ہے رات دسمبر کا مہینہ اور میں اور اس پر یہ ترے ہجر کا ...

مزید پڑھیے

انہیں علما کے ہاتھوں دین کو دینار ہونا ہے

انہیں علما کے ہاتھوں دین کو دینار ہونا ہے وہ دن نزدیک ہے جس دن انہیں فی النار ہونا ہے بہت خوش ہو رہے ہو کر کے بیعت کا تقاضا تم ابھی تم جانتے کیا ہو ابھی انکار ہونا ہے یہ کس غفلت میں ہو اے دوستو بیدار ہو جاؤ کسی مرد مجاہد کے لیے تیار ہونا ہے ابھی سے تم پریشاں ہو ابھی دیکھا ہی کیا ...

مزید پڑھیے

سفر سے لوٹ کے ہم اپنے گھر نہیں جاتے

سفر سے لوٹ کے ہم اپنے گھر نہیں جاتے تھکن تو ہوتی ہے اے دوست مر نہیں جاتے یہ بات طے ہے فقط آبرو ہی جاتی ہے ہے راہ عشق کبھی اس میں سر نہیں جاتے اگرچہ منزل مقصود مل گئی ہوتی تو در بدر کہاں پھرتے ٹھہر نہیں جاتے تمہاری یاد میں حجرے میں لیٹ جاتے ہیں غموں کے مارے ہوئے بام پر نہیں ...

مزید پڑھیے

میں سناؤں کسے حیات کا دکھ

میں سناؤں کسے حیات کا دکھ میرے اندر ہے کائنات کا دکھ وصل میں دن گزارنے والے ہجر میں مجھ سے پوچھ رات کا دکھ کون ہوں کیا ہوں کس لئے ہوں میں مجھ کو کتنا ہے اپنی ذات کا دکھ تلخ لہجہ کبھی گراں لہجہ میں نے جھیلا ہے بات بات کا دکھ غل ہے بستی میں مر گیا رضوانؔ اب مناؤ میری وفات کا دکھ

مزید پڑھیے
صفحہ 1529 سے 6203