قومی زبان

صحرا میں اب تو جا کر اک گھر بنایا جائے

صحرا میں اب تو جا کر اک گھر بنایا جائے بستی سے بھر گیا دل جنگل بسایا جائے کیوں اپنے غم کی ان سے حالت بیان کر کے مٹی میں آبرو کو اپنی ملایا جائے سودائے عاشقی کا ہے آج پھر تقاضا پھر قیس کے جنوں کا جلوہ دکھایا جائے آؤ کہ شیخ جی کو ساغر دکھا کے دیکھیں اک بار شیخ کو بھی اب آزمایا ...

مزید پڑھیے

حسن اور برسر پیکار خدا خیر کرے

حسن اور برسر پیکار خدا خیر کرے آپ کے ہاتھ میں تلوار خدا خیر کرے مجھ کو ڈر ہے کہ نہ بن جائے قیادت کا سبب آپ کے عشق کا اقرار کیا ہے ہم نے آپ کے عشق کا اقرار کیا ہے ہم نے ہم ہیں اور مرحلۂ دار خدا خیر کرے آئے تھے ہم ترے دیدار کی حسرت لے کر اب ہیں کچھ اور ہی آثار خدا خیر کرے وہ جو بدنام ...

مزید پڑھیے

جیون میں ہریالی

ہم پیڑ لگائیں گے ماحول بنائیں گے پیڑ لگا کر جیون میں خوشحالی لائیں گے ہم پیڑ لگائیں گے ماحول بنائیں گے اس بڑھتے پردوشن کو ہم دور بھگائیں گے ہم پیڑ لگائیں گے ماحول بنائیں گے کتنا سندر پیڑوں سے موسم ہو جاتا ہے گرمی میں ٹیمپریچر بھی کچھ کم ہو جاتا ہے پیڑ لگا کر ہم سب کو گرمی سے ...

مزید پڑھیے

اسے کہنا دسمبر آیا ہے

اسے کہنا دسمبر آیا ہے خزاں نے بہار کی خوبصورتی کو چنار کے زرد پتوں میں دفن کر دیا ہے ان پتوں کی جوانی اب بڑھاپے کی سسکیوں میں رو رہی ہے اب یہ رونا بھی رفتہ رفتہ دم توڑ دے گا اور اپنے معشوق کی بے بس ٹہنیوں سے جدائی کا کرب سہتے سہتے یہ سوکھے پتے خاک نشین ہو جائیں گے پھر کون انہیں یاد ...

مزید پڑھیے

یہی زندگی ہے

دل کی اداس نگری میں جب یادوں کی بانسری بجتی ہیں تو کتنی ہی اودی پیلی نیلی یادوں کی شہنائیاں احساس کے گھنگرو بجا دیتی ہیں ان شہنائیوں کی کرب ریز و نشاط انگیز آوازیں کبھی روح کو احساس فرحت کے ناچ نچانے پر مجبور کرتی ہیں اور کبھی ستم زدہ خیالات کے سمندر کی تند و تیز لہروں ...

مزید پڑھیے

بابا کتا بھی روتا رہا

بابا میں بہت روئی تھی مجھ سات برس کی نا سمجھ بچی کو کتے اور انسان کے فرق کا کیا پتہ تھا میں تو اپنی کاپی پر محبت کے قلم سے انسان کی تصویر بناتی تھی اور کتے کی تصویر بناتے بناتے نفرت خود بخود دل میں امنڈ آتی تھی لیکن آج جب میں گھر سے اسکول کی طرف نکل پڑی تو راستے پر کتے اور انسان کا ...

مزید پڑھیے

یہ کشمکش دل بھی کچھ کم نہیں محشر سے

یہ کشمکش دل بھی کچھ کم نہیں محشر سے ہر فتنہ جواں ہو کر اٹھتا ہے مرے گھر سے یہ مہر و مہ تاباں اس درجہ حسیں کب تھے پائی ہے یہ تابانی ان کے رخ انور سے مے خوار کی محفل میں پھر دور شراب آیا ٹکرانے لگے ساغر پھر بزم میں ساغر سے اس بزم مسرت کی زینت کا بیاں کیا ہو ملتا ہے سماں بالکل فردوس ...

مزید پڑھیے

تعریف سن رہے ہیں تمہارے جمال کی

تعریف سن رہے ہیں تمہارے جمال کی تحریر کیجئے کوئی صورت وصال کی لے کر تمہارا نام جو جیتے ہیں عمر بھر تم کو بھی کچھ خبر ہے غریبوں کے حال کی دل میں ہمارے ظلمت غم کا گزر نہیں اک شمع جل رہی ہے کسی کے خیال کی ساقی سے ہے شراب حسیں تر کی آرزو تصویر کھینچنی ہے کسی کے جمال کی دل لے کے پہلے ...

مزید پڑھیے

دست ساقی میں چھلکتا جام ہے

دست ساقی میں چھلکتا جام ہے پینے والا لرزہ بر اندام ہے کیوں رخ انور ہے زلفوں میں نہاں میری نظروں میں سحر بھی شام ہے اپنے انداز کرم کو دیکھیے میری توبہ پر عبث الزام ہے چلتے چلتے جس جگہ ٹھہرے قدم میری منزل بس اسی کا نام ہے ہے کوئی محروم کوئی شاد کام کیا تری بخشش اسی کا نام ہے ان ...

مزید پڑھیے

اس کا جواب ملنا جہاں میں محال ہے

اس کا جواب ملنا جہاں میں محال ہے وہ حسن لاجواب خود اپنی مثال ہے یہ اور بات ہے کہ نہ ہوں ان کو التفات وہ خوب جانتے ہیں ہمارا جو حال ہے طالب کوئی ہے ایک کرم کی نگاہ کا کیجے نہ رد کسی کا یہ پہلا سوال ہے جتنے ہیں دور اتنے ہی دل کے قریب ہیں ہم کو تو دور ہجر بھی دور وصال ہے ہم بادہ کش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1531 سے 6203