برف ہوتی ہوئی حدت کو نہیں جانتے ہو
برف ہوتی ہوئی حدت کو نہیں جانتے ہو تم پگھلنے کی اذیت کو نہیں جانتے ہو دیکھیے عام عداوت میں تو گنجائش ہے تم مگر جوش رقابت کو نہیں جانتے ہو بے گناہی کے لیے آگ پہ چلنا ہوگا تم قبیلے کی روایت کو نہیں جانتے ہو اب پلٹنے کا نتیجہ ہے کسی ایک کی موت تم مرے پیار کی شدت کو نہیں جانتے ...