قومی زبان

برف ہوتی ہوئی حدت کو نہیں جانتے ہو

برف ہوتی ہوئی حدت کو نہیں جانتے ہو تم پگھلنے کی اذیت کو نہیں جانتے ہو دیکھیے عام عداوت میں تو گنجائش ہے تم مگر جوش رقابت کو نہیں جانتے ہو بے گناہی کے لیے آگ پہ چلنا ہوگا تم قبیلے کی روایت کو نہیں جانتے ہو اب پلٹنے کا نتیجہ ہے کسی ایک کی موت تم مرے پیار کی شدت کو نہیں جانتے ...

مزید پڑھیے

ہو رہی تھی کمی اداسی کی

ہو رہی تھی کمی اداسی کی پھر یہ محفل جمی اداسی کی میرے آنسو نکال دیتی ہے گفتگو باہمی اداسی کی وصل کی مسکراہٹیں لب پر آنکھ میں ہے نمی اداسی کی محفلوں میں بھی کس قدر تنہا دیکھیے برہمی اداسی کی صبح ہوتے ہی رو پڑی شبنم دیکھ کر بے بسی اداسی کی روزؔ جب شام ہو گئی گہری خیریت پوچھ لی ...

مزید پڑھیے

خلوتوں میں بہا لیا ترا غم

خلوتوں میں بہا لیا ترا غم بزم میں گنگنا لیا ترا غم ہر اداسی پہ اک تبسم تھا مسکراہٹ سے کھا لیا ترا غم تھا کبھی چاک چاک گلیوں میں ہم نے اپنا بنا لیا ترا غم پوچھنے پر خدا کا شکر کیا دھڑکنوں کو سنا لیا ترا غم روزؔ کس طرح زندگی کرتے شکر ہے ہم نے پا لیا ترا غم

مزید پڑھیے

مجھے وہ شخص قلندر دکھائی دیتا ہے

مجھے وہ شخص قلندر دکھائی دیتا ہے جو میرے خواب کے اندر دکھائی دیتا ہے یہ لگ رہا ہے مرا شہر چھوڑ جائے گا وہ آج کل مجھے اکثر دکھائی دیتا ہے تو کیا یہ مان لوں میں آسماں سے اوپر ہوں ہر اک ستارہ زمیں پر دکھائی دیتا ہے جو سامنے ہے صریحاً نظر کا ہے دھوکہ وہ ہے نہیں جو برابر دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

جب دیکھتے رہتے ہیں وہ کردار ہمارے

جب دیکھتے رہتے ہیں وہ کردار ہمارے ہوں کیوں نہ پشیماں در و دیوار ہمارے دیتے ہیں ہر اک راہ میں رہ گیر کو سایہ جلتے ہیں کڑی دھوپ میں اشجار ہمارے تقسیم کے صدقے میں ہمیں کچھ تو ملے گا چل پھول تمہارے ہیں تو سب خار ہمارے آ جاؤ کہ مل جل کے کوئی شکل بنا لیں ہیں تشنۂ تکمیل وہ شہ کار ...

مزید پڑھیے

مرے یاقوت اور مرجان مرشد

مرے یاقوت اور مرجان مرشد تمہارے نام پر قربان مرشد کسی لمحے بھی رد ہوتا نہیں ہے تمہارے وصل کا امکان مرشد اچانک آئیے اور آئیے یوں مجھے کر دیجئے حیران مرشد مسلسل سر اٹھانے لگ گئے ہیں مرے اندر کے یہ طوفان مرشد ہے میری شاعری اس کے سوا کیا مرے ہر شعر کا عنوان مرشد

مزید پڑھیے

وہ مجھے دل میں یاد کرتا ہے

وہ مجھے دل میں یاد کرتا ہے رنگ چہرے کا بول اٹھتا ہے بجھنے لگتیں ہیں جب مری آنکھیں آخر شب چراغ جلتا ہے نیند میں آ رہی ہیں آوازیں واہمہ دور جا نکلتا ہے جب چمکتی ہے فکر آنکھوں میں تب کہیں راستہ نکلتا ہے روزؔ اک خواہشوں کا جولاہا خواب بنتا ہے خواب بنتا ہے

مزید پڑھیے

ایک اڑان کا ڈر اور میں

ایک اڑان کا ڈر اور میں میرے ٹوٹے پر اور میں بھیگ رہے ہیں ساون میں میری چشم تر اور میں ڈوب گئے ہیں صحرا میں شام کا اک منظر اور میں کروٹ سلوٹ اکتاہٹ نیند بھرا بستر اور میں خواب کا منظر خواب نہیں اتنے سارے در اور میں ہنستے بستے جیتے ہیں مرشد بچے گھر اور میں

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے میں ادھوری ہوں

کون کہتا ہے میں ادھوری ہوں میں تو ہر زاویے سے پوری ہوں بیوی بیٹی بہو بہن بھائی کوئی رشتہ ہو میں ضروری ہوں میں ہوں تیرے شعور کا حصہ تیری سوچوں میں لا شعوری ہوں مجھ سے تہذیب اور تمدن ہے نیاز مندی ہوں جی حضوری ہوں خاک ہوں اور نمو کا باعث ہوں روزؔ ناری ہوں اور نہ نوری ہوں

مزید پڑھیے

چھوڑ اپنی دلیل رہنے دے

چھوڑ اپنی دلیل رہنے دے دل کو میرا وکیل رہنے دے شہر دل کو بچا نہ پائے گی ایک جانب فصیل رہنے دے میں ترے آسماں پہ لہراؤں کھینچ کر چھوڑ ڈھیل رہنے دے مشورہ ہے گمان منزل کا ہے مسافت طویل رہنے دے فیصلے پر یہ فیصلہ ہے روزؔ سامنا کر اپیل رہنے دے

مزید پڑھیے
صفحہ 1513 سے 6203