قومی زبان

ہم جو ہر بار خواب دیکھتے ہیں

ہم جو ہر بار خواب دیکھتے ہیں یعنی بیکار خواب دیکھتے ہیں رات کا پہر ہو کہ دن کا سماں ہم لگاتار خواب دیکھتے ہیں شہر کا مسئلہ بنے ہوئے ہیں یہ جو دو چار خواب دیکھتے ہیں لشکری ان پہ ٹوٹ پڑتے ہیں جتنے ادوار خواب دیکھتے ہیں سو رہے تھے تو خواب دیکھتے تھے ہو کے بیدار خواب دیکھتے ...

مزید پڑھیے

اگرچہ مسئلہ اتنا نہیں ہے

اگرچہ مسئلہ اتنا نہیں ہے مگر ہاں فائدہ اتنا نہیں ہے مجھے چلتے ہوئے عرصہ ہوا ہے وگرنہ فاصلہ اتنا نہیں ہے بڑھا رکھا ہے زیب داستان کو حقیقی واقعہ اتنا نہیں ہے سر رہ ہی ہے بس ملنا ملانا تمہارا رابطہ اتنا نہیں ہے بہت محدود ہیں سمٹے ہوئے ہیں ہمارا دائرہ اتنا نہیں ہے

مزید پڑھیے

ترک تعلقات کا وعدہ نہیں کیا

ترک تعلقات کا وعدہ نہیں کیا وعدہ اگر کیا اسے پورا نہیں کیا اک کام تھا ضروری ضروری تھا ایک کام دل مطمئن نہیں تھا لہٰذا نہیں کیا جیسی ملی ہے ویسی گزاری ہے زندگی ہم نے کہیں بھی جھوٹا دکھاوا نہیں کیا خود کو کئی مقام پہ خم تو کیا ضرور لیکن کسی کے روبرو سجدہ نہیں کیا اپنی بساط سے ...

مزید پڑھیے

لحاظ کرتے ادب احترام کرتے ہوئے

لحاظ کرتے ادب احترام کرتے ہوئے گزر رہا ہوں محبت کو عام کرتے ہوئے یہ رات آ کے مجھے پھر سے جوڑ دیتی ہے میں ٹوٹ جاتا ہوں دن اختتام کرتے ہوئے بغیر زاد سفر ہم پہنچ گئے منزل بھٹکتے گرتے سنبھلتے قیام کرتے ہوئے کسی کا کوئی بھی کردار رہ نہ جائے کہیں خیال رکھنا کہانی تمام کرتے ہوئے مرا ...

مزید پڑھیے

کشمکش میں یوں مبتلا ہوں میں

کشمکش میں یوں مبتلا ہوں میں روبرو تم ہو آئنہ ہوں میں میری آنکھوں میں جو سما جائیں صرف وہ خواب دیکھتا ہوں میں اس سے کہہ دو صدا نہ دے مجھ کو اب بہت دور آ گیا ہوں میں دوستوں کو مرے شکایت ہے جھوٹی باتوں پہ بولتا ہوں میں کوششیں تو بہت میں کرتا ہوں کیا کروں اور کیا خدا ہوں میں تم ...

مزید پڑھیے

سجدے میں رہے کیوں کوئی بندہ مرے آگے

سجدے میں رہے کیوں کوئی بندہ مرے آگے جو ہے مرے پیچھے وہی ہوتا مرے آگے لگتا ہے کہ چھوڑ آیا ہوں منزل کہیں پیچھے چلتا ہے مسلسل یوں ہی رستہ مرے آگے ہم دو ہی مسافر ہیں خزاؤں کے ہوا میں اک میں ہوں اور اک زرد وہ پتا مرے آگے سجدے کا میں پابند ہوا ہوں یہاں آ کر جھکتا تھا وہاں پر تو فرشتہ ...

مزید پڑھیے

فقط محنت مشقت کا نتیجہ کم نکلتا ہے

فقط محنت مشقت کا نتیجہ کم نکلتا ہے دعا جب ماں کی شامل ہو تو پھر زمزم نکلتا ہے کہیں پر بھی سنبھلنے کی یہ مہلت ہی نہیں دیتا کنار وقت سے ہر حادثہ اک دم نکلتا ہے محبت کے سفر میں جب کہیں پر موڑ آ جائے سنا یہ ہے وہیں سے ہجر کا موسم نکلتا ہے سفر کا مرحلہ جو ہو جہاں پر لکھ دیا جائے اسی ...

مزید پڑھیے

مجھے جو شخص قلندر دکھائی دیتا ہے

مجھے جو شخص قلندر دکھائی دیتا ہے وہ میرے خواب کے اندر دکھائی دیتا ہے یہ لگ رہا ہے مرا شہر چھوڑ جائے گا وہ آج کل مجھے اکثر دکھائی دیتا ہے تو کیا یہ مان لوں میں آسماں سے اوپر ہوں ہر اک ستارہ زمیں پر دکھائی دیتا ہے جو سامنے ہے صریحاً نظر کا ہے دھوکا وہ ہے نہیں جو بظاہر دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

کب سے ایک تعطل ہے

کب سے ایک تعطل ہے میرے پاس تحمل ہے ہر مشکل میں اک ہتھیار میرے پاس توکل ہے تیرا کوئی مرشد ہے جی ہاں جی ہاں بالکل ہے بات سمجھ میں آتی ہے تھوڑا بہت تعقل ہے دیکھا ہے بن کر انجان یہ تو صاف تغافل ہے آنے میں کچھ مانع ہے کچھ بھی نہیں تساہل ہے روزؔ کی غزلوں پر تنقید سب کچھ مع تغزل ہے

مزید پڑھیے

اندھیری شب دیا جگنو قمر نئیں

اندھیری شب دیا جگنو قمر نئیں سفر میں اب کوئی بھی ہم سفر نئیں ہم ایسے بند کمروں کے مکیں ہیں جہاں تازہ ہواؤں کا گزر نئیں خوشامد چاپلوسی جھوٹ غیبت ہمارے پاس تو کوئی ہنر نئیں جو غربت کے اندھیروں میں پلے ہیں نئی تہذیب کا ان پر اثر نئیں عجب موسم ملا ہے زندگی کو نئی رت ہے درختوں پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1514 سے 6203