قومی زبان

محبت کا سفر ہے اور میں ہوں

محبت کا سفر ہے اور میں ہوں وہ منظور نظر ہے اور میں ہوں پرندہ بے رخی کا اڑ رہا ہے وفا کا اک شجر ہے اور میں ہوں قفس میں لے چلا صیاد مجھ کو خیال بال و پر ہے اور میں ہوں سفر آسان کتنا ہو گیا ہے وہ میرا ہم سفر ہے اور میں ہوں وہی آنگن وہی محراب و منبر وہی دیوار و در ہے اور میں ہوں اب ان ...

مزید پڑھیے

زبان پہ نالہ و فریاد کے سوا کیا ہے

زبان پہ نالہ و فریاد کے سوا کیا ہے ہمارے دل میں تری یاد کے سوا کیا ہے ادھر تو رنگ ہے مستی ہے شادمانی ہے ادھر بس اک دل ناشاد کے سوا کیا ہے جو دیکھیے تو ادھر سو جہان ہیں آباد ادھر اک عالم برباد کے سوا کیا ہے خزاں کی فکر نہ اب انتظار فصل بہار چمن میں شکوۂ صیاد کے سوا کیا ہے ہے ایک ...

مزید پڑھیے

اسی لباس اسی پیرہن میں رہنا ہے

اسی لباس اسی پیرہن میں رہنا ہے اسے فقط مرے شعر و سخن میں رہنا ہے تمام عمر ترا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہو تمام عمر اسی اک جتن میں رہنا ہے وہ اہل حسن ہیں ہم سے جدا ہے بزم ان کی ہم اہل فن ہیں ہمیں اہل فن میں رہنا ہے ہے تیرا اور مرا ساتھ چند لمحوں کا پھر اس کے بعد کسے انجمن میں رہنا ہے کسے ...

مزید پڑھیے

جس نے شیرازہ بکھیرا عمر کا

جس نے شیرازہ بکھیرا عمر کا یہ جنوں حاصل ہے میرا عمر کا ایک لمحہ کیا ملا تھا ہجر کو کر لیا اس نے بسیرا عمر کا تھا دیا لیکن اسے بجھنے دیا چن لیا میں نے اندھیرا عمر کا ایک دن آئے گا جب آفاق میں ڈوب جائے گا سویرا عمر کا کو بہ کو ہیں ہجر کی پرچھائیاں اس سے ہے آباد ڈیرا عمر کا جانتی ...

مزید پڑھیے

تلخ لمحات میں جیا ہوا ہے

تلخ لمحات میں جیا ہوا ہے میں نے یہ کام بھی کیا ہوا ہے کیا کریدا ہے اپنے زخموں کو یا کوئی اور سانحہ ہوا ہے کچھ دنوں سے میں اضطراب میں ہوں کچھ دنوں سے یہ سلسلہ ہوا ہے ایسے لہجے میں مجھ سے بات نہ کر آج کل میرا سر پھرا ہوا ہے ایک سجدہ ہے تشنۂ مسجود ایک سجدہ ابھی ادا ہوا ہے اب تلک ...

مزید پڑھیے

گرچہ مدھم دکھائی دیتا ہے

گرچہ مدھم دکھائی دیتا ہے اس کو تاہم دکھائی دیتا ہے وصل کو خواب جاننے والے کیا تجھے کم دکھائی دیتا ہے حسن جب سے گریز پا ہے ذرا شوق برہم دکھائی دیتا ہے رات بھر ٹوٹتا ہوا تارا مجھ کو پیہم دکھائی دیتا ہے روزؔ دیتا ہے ایک زخم نیا وہ جو مرہم دکھائی دیتا ہے

مزید پڑھیے

آئنہ دیکھتا ہوا کوئی

آئنہ دیکھتا ہوا کوئی ایک پل میں بدل گیا کوئی اس گلی سے نکل گیا آگے میرے بارے میں پوچھتا کوئی اس نے دھیرے سے کچھ کہا دل میں تھم گیا جو تھا شور سا کوئی دل تلک راستہ بناتا گیا میری آنکھوں میں جھانکتا کوئی دل کی خواہش بس ایک وصل ترا حاصل زیست معجزہ کوئی روزؔ یوں مجھ کو دیکھتے ہیں ...

مزید پڑھیے

ہجر نے اس طرح اتارے رنگ

ہجر نے اس طرح اتارے رنگ جیسے تھے ہی نہیں ہمارے رنگ ایک منظر سے ہو گئے گھائل تم نے دیکھے کہاں ہیں سارے رنگ نیند ٹھہری ہوئی تھی پلکوں پر رہ گئے خواب کے کنارے رنگ نقش ابھرے تمہاری نظروں سے آپ کی آنکھ نے نکھارے رنگ کس قدر شان سے کشید ہوئے کس قدر تمکنت سے ہارے رنگ سرخ جوڑے کا ...

مزید پڑھیے

جب سے تیری عطا نہیں موجود

جب سے تیری عطا نہیں موجود ایک بھی التجا نہیں موجود دیکھ آ کر مری ہتھیلی میں کیا ہے موجود کیا نہیں موجود ڈھیل دینے کا یہ نہیں مطلب تم سمجھ لو خدا نہیں موجود کیا رسائی ہے دسترس کیا ہے جب کوئی حوصلہ نہیں موجود اب بھلا کیوں ہوائیں پاگل ہیں اب تو کوئی دیا نہیں موجود

مزید پڑھیے

کوئی خواب تھا جو بکھر گیا کوئی درد تھا جو ٹھہر گیا

کوئی خواب تھا جو بکھر گیا کوئی درد تھا جو ٹھہر گیا مگر اس کا کوئی بھی غم نہیں جو گزر گیا سو گزر گیا یہ دل و نظر کا معاملہ بھی بہت عجیب و غریب ہے کبھی ان لبوں پہ ہنسی رہی کبھی اشک آنکھ میں بھر گیا میں زباں سے کچھ بھی نہ کہہ سکا وہ نظر سے کچھ نہ سمجھ سکا نہ مرے ہی دل سے جھجک گئی نہ تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1512 سے 6203