قومی زبان

دیوانگی سے کام لیا ہے کبھی کبھی

دیوانگی سے کام لیا ہے کبھی کبھی دامن کسی کا تھام لیا ہے کبھی کبھی کرتا رہا کسی کو بھلانے کی کوششیں یوں دل سے انتقام لیا ہے کبھی کبھی حد سے سوا جو بڑھنے لگیں بے قراریاں ایسے میں ان کا نام لیا ہے کبھی کبھی نظریں ملی ہوئی تھیں تبسم لبوں پہ تھا ساقی سے یوں بھی جام لیا ہے کبھی ...

مزید پڑھیے

ہوئے بھی عشق میں رسوا تو احترام کے ساتھ

ہوئے بھی عشق میں رسوا تو احترام کے ساتھ تمہارا نام بھی آیا ہمارے نام کے ساتھ تمہاری بزم میں سب کا گزر ہے میرے سوا خصوصیت ہے ضروری صلائے عام کے ساتھ شکایتوں کا فسانہ ترے تبسم پر تمام ہو گیا اک آہ ناتمام کے ساتھ ہر اک فضا میں مسرت کو غم سے نسبت ہے تری سحر کو ہے اک ربط میری شام کے ...

مزید پڑھیے

اندھیرے گھر کی روایات توڑ جانا ہے

اندھیرے گھر کی روایات توڑ جانا ہے ہمیں چراغ اجالے میں چھوڑ جانا ہے نہیں ہے مصرف جان اور کچھ مگر یہ ہے تمام عالم امکاں جھنجھوڑ جانا ہے وہیں سے ترک تعلق کی راہ نکلی ہے جہاں سے تم نے محبت کا موڑ جانا ہے ہے خواہشات سے چھٹنا اتر تو یوں سمجھو کہ بس حصار ہوا ہی تو توڑ جانا ہے ہماری ...

مزید پڑھیے

دھوپ کو گرم نہ کہہ سایۂ دیوار نہ دیکھ

دھوپ کو گرم نہ کہہ سایۂ دیوار نہ دیکھ تجھ کو چلنا ہے تو پھر وقت کی رفتار نہ دیکھ میری فکروں سے الجھ مجھ کو سمجھنے کے لئے دور سے موج میں الجھی ہوئی پتوار نہ دیکھ ان کی روحوں کو پرکھ آدمی ہیں بھی یا نہیں صرف صورت پہ نہ جا جبہ و دستار نہ دیکھ اپنے آنگن ہی میں کر فکر نموئے گلشن کوئی ...

مزید پڑھیے

غزل غالبؔ نہ تنہا میرؔ سے ہے

غزل غالبؔ نہ تنہا میرؔ سے ہے جڑی صد حلقۂ زنجیر سے ہے مقدر ہو چکی تھی موت لیکن یہ دل زندہ کسی تدبیر سے ہے میں منظر اور نہ پس منظر کو دیکھوں مجھے مطلب تری تصویر سے ہے گرے ہوتے مرے آنسو تو روتا کہ تیرا غم مری تقدیر سے ہے میں بیٹھا ہوں دعا سے ہاتھ اٹھائے ندامت اس قدر تقصیر سے ...

مزید پڑھیے

آدمی ارتقا کی غار میں تھا

آدمی ارتقا کی غار میں تھا پھر خدا تھا تو کس قطار میں تھا عقل ہی لائی اس کی چوکھٹ تک دل کہاں اپنے اختیار میں تھا نیکیاں راستے میں بکھری تھیں علم تسبیح کے حصار میں تھا جمع تفریق کے سوالوں سے طالب علم انتشار میں تھا راستے پر تو آ چلا تھا مگر آدمی درجۂ غبار میں تھا طے ہوئے فاصلے ...

مزید پڑھیے

شعلۂ گل سے رنگ شفق تک عارض و لب کی بات گئی

شعلۂ گل سے رنگ شفق تک عارض و لب کی بات گئی چھڑ گیا جب بھی تیرا قصہ ختم ہوا دن رات گئی سوکھے ہونٹ تو بوند کو ترسے مینا خالی جام تہی لیکن پھر بھی چند لبوں تک ساقی کی سوغات گئی سرگوشی میں بات جو کی تھی کیا تھی ہم خود بھول گئے لیکن ایک فسانہ بن کر دنیا تک وہ بات گئی یادوں کے زہریلے ...

مزید پڑھیے

ہے آگے ایک بیابان اس ببول کے بعد

ہے آگے ایک بیابان اس ببول کے بعد ہمارا کوئی نہیں ہے دل ملول کے بعد نہ جانے خود کو کہاں چھوڑ آیا رستے میں مجھے تلاش ہے اپنی ترے حصول کے بعد سفر حیات کا کب ختم ہونے والا ہے کہ جب زمیں نہ ہوئی ختم عرض و طول کے بعد تمہاری ذات ہی کیا قوس میں گھرے ہندسو نہ کچھ اصول سے پہلے نہ کچھ اصول ...

مزید پڑھیے

جینے پہ جو اکسائے وہ الجھن بھی نہیں ہے

جینے پہ جو اکسائے وہ الجھن بھی نہیں ہے اس شہر میں میرا کوئی دشمن بھی نہیں ہے سوکھے ہوئے کچھ پھول نہ پگھلی ہوئی شمعیں اللہ وہ صحرا کہ جو مدفن بھی نہیں ہے ہمسائے کی صورت کوئی دیکھے بھی تو کیوں کر دیوار وہ حائل ہے کہ روزن بھی نہیں ہے اب اپنا جنازہ لئے بازار میں گھومو جاؤ گے کہاں ...

مزید پڑھیے

زیب و آرائش کے ساماں دل کو بہلاتے نہیں

زیب و آرائش کے ساماں دل کو بہلاتے نہیں زندگی میں اب کہیں بھی پیار کے ناتے نہیں میکدے ویران ہیں مے کش بھی سب حیران ہیں موسموں کو کیا ہوا کیوں ابر اب چھاتے نہیں نفرتوں کی گرم بازاری سے جی گھبرا گیا اب محبت کے ترانے نغمہ خواں گاتے نہیں اس نے جو کچھ کہہ دیا سنتے رہے دیکھا کئے دل کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1429 سے 6203