قومی زبان

کرنا ہے جو کام کر رہا ہوں

کرنا ہے جو کام کر رہا ہوں دیوانوں میں نام کر رہا ہوں دنیا تری دل فریبیوں میں بے لاگ قیام کر رہا ہوں خود پھونک کے اپنا آشیانہ بجلی کو سلام کر رہا ہوں خاموش ہے کائنات ساری میں دل سے کلام کر رہا ہوں انگڑائیاں لے رہا ہے کوئی افسانہ تمام کر رہا ہوں مرنے پہ مرے نہ آپ روئیں تبدیل ...

مزید پڑھیے

آج آئے ہیں کل جانا ہے پھر عشق کو رسوا کون کرے

آج آئے ہیں کل جانا ہے پھر عشق کو رسوا کون کرے دو روزہ دنیا ہے یہ تو دنیا کی تمنا کون کرے مجبور نہیں مختار سہی خودداری کو رسوا کون کرے جب موت ہی مانگے سے نہ ملی جینے کی تمنا کون کرے اس لذت غم کا کیا کہنا وہ یاد تو آتے رہتے ہیں غم دینے والے کے صدقے اب غم کا مداوا کون کرے بر آئے تمنا ...

مزید پڑھیے

جب کوئی مہرباں نہیں ہوتا

جب کوئی مہرباں نہیں ہوتا دل مرا بد گماں نہیں ہوتا ہر جگہ بجلیاں نہیں گرتیں ہر جگہ آشیاں نہیں ہوتا جس فضا میں ہوں آپ جلوہ فگن اس جگہ آسماں نہیں ہوتا اشک آنکھوں میں آ ہی جاتے ہیں حال دل داستاں نہیں ہوتا آپ مجھ کو جہاں سمجھتے ہیں میں خود اکثر وہاں نہیں ہوتا جب تلک بجلیاں نہیں ...

مزید پڑھیے

آئیں کیوں ہچکیاں نہیں معلوم

آئیں کیوں ہچکیاں نہیں معلوم کون ہے مہرباں نہیں معلوم خود بخود جھک گئی جبین شوق کس کا تھا آستاں نہیں معلوم بے خودی میں بڑھا رہا ہوں قدم جا رہا ہوں کہاں نہیں معلوم ساکن عرش تھا کبھی میں بھی کیسے آیا یہاں نہیں معلوم جا رہا ہوں غبار کے پیچھے ہے کہاں کارواں نہیں معلوم یاد اتنا ...

مزید پڑھیے

لے کے پہنچا اضطراب دل کہاں

لے کے پہنچا اضطراب دل کہاں میں کہاں اور آپ کی محفل کہاں جس نے خود طوفاں میں کشتی ڈال دی اس کے دل میں حسرت ساحل کہاں فصل گل بھی ہے شب مہتاب بھی سب سہی لیکن سکون دل کہاں میں کہیں محفل سے اٹھ جاؤں اگر پھر تری محفل تری محفل کہاں بات تو جب ہے کہ صورت ہو سوال ہاتھ جو پھیلائے وہ سائل ...

مزید پڑھیے

اس طرح یاد آنے سے کیا فائدہ

اس طرح یاد آنے سے کیا فائدہ مفت احساں جتانے سے کیا فائدہ جس جگہ دل ہی جھکتا نہیں آپ کا اس جگہ سر جھکانے سے کیا فائدہ ختم کچھ دم میں ہو جائے گی روشنی شمع کی لو بڑھانے سے کیا فائدہ اپنے دشمن سے واقف تو ہیں ہم مگر نام اس کا بتانے سے کیا فائدہ کھل کے ہنسئے تباہی پہ میری حضور زیر لب ...

مزید پڑھیے

وہی ہم ہیں وہی لاچاریاں ہیں

وہی ہم ہیں وہی لاچاریاں ہیں وہی یاروں کی دنیا داریاں ہیں وہ سوکھی آنکھ سے رونا بلکنا عزا داری میں بھی فن کاریاں ہیں کہاں تک تم علاج اس کا کرو گے کہ اس دل کو کئی بیماریاں ہیں نصیب اپنا لکھا ہے آسماں پر زمیں پر صرف ذمہ داریاں ہیں صبا سرگوشیوں میں کہہ رہی ہے یہاں سے کوچ کی ...

مزید پڑھیے

گرم رکھے ہے ابھی تک بھی رخ یار کی آنچ

گرم رکھے ہے ابھی تک بھی رخ یار کی آنچ وہ دہکتی ہوئی صورت لب و رخسار کی آنچ پیٹ کی آگ ہی کیا کم تھی جلانے کے لئے گھر کے گھر راکھ کئے دیتی ہے بازار کی آنچ پہلے آتی تھی صبا لے کے گلوں کی خوشبو اب تو صحرا کو جلا دیتی ہے گلزار کی آنچ گرم جوشی کے بھلاوے میں اگر آ بھی گئے ٹھہرنے ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

مجھے ڈر ہے ہنستے ہنستے کہیں رو نہ دے زمانہ

مجھے ڈر ہے ہنستے ہنستے کہیں رو نہ دے زمانہ جو بدل بدل کے عنواں میں کہوں وہی فسانہ یہ بہار یہ گھٹائیں یہ شباب کا زمانہ مجھے اب تو دیجے ناصح نہ صلاح مخلصانہ جو ہو جذب جذب کامل جو ہو شوق والہانہ تو ہے بندگی کو لازم نہ جبیں نہ آستانہ ہے مجھے ملال اس کا کہ بدل گئیں وہ نظریں مجھے اس ...

مزید پڑھیے

طبیعت سوئے آسانی کبھی مائل نہیں ہوتی

طبیعت سوئے آسانی کبھی مائل نہیں ہوتی محبت میں کوئی مشکل بھی ہو مشکل نہیں ہوتی مسافر بیٹھ جاتا ہے جہاں بس بیٹھ جاتا ہے پھر اس کے بعد اس کو خواہش منزل نہیں ہوتی انہیں رحم آ ہی جائے گا تو عرض حال کرتا جا خلوص دل سے جو کوشش ہو لا حاصل نہیں ہوتی تری محفل میں کون آیا تری محفل سے کون ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1428 سے 6203