قومی زبان

وہ جن کی لے ہم بھول گئے وہ میٹھے گیت پرانے ہیں

وہ جن کی لے ہم بھول گئے وہ میٹھے گیت پرانے ہیں جو سچے رشتے ناطے تھے وہ آج سبھی بیگانے ہیں کل جن سے نگاہیں ملتی تھیں اک ہوک سی دل میں اٹھتی تھی اب سارے رستے بند ہوئے وہ لوگ سبھی انجانے ہیں میں پیار کی بات کروں کس سے ہر بات خیال و خواب ہوئی کیا اپنی وفا کا ذکر کروں کہتے ہیں یہ سب ...

مزید پڑھیے

ہم لوگ

ہم لوگ اندھیروں کے عادی ہم لوگ سویروں سے خائف ہم اپنا درد سمجھتے ہیں لوگوں کے درد سے کب واقف اس ظلم کی ماری دھرتی میں دکھ درد کی فصلیں اگتی ہیں بیمار فضاؤں میں ہر سو دکھ درد کی نسلیں پلتی ہیں لیکن اونچے ایوانوں میں ان رنگ بھرے کاشانوں میں اک اور ہی خلقت پلتی ہے جو اپنی ذات میں ...

مزید پڑھیے

شکوہ

یہ ترے ہونٹ یہ رخسار یہ خاموش نظر جیسے مندر میں سجے بیٹھے ہوں پتھر کے صنم میں تو ہر روز نئے دیپ لئے آتی ہوں تو نے انجان بنے رہنے کی کھائی ہے قسم میں ہوں تصویر وفا مجھ سے گریزاں کیوں ہے عشق کی لوح پہ کیا میں ہوں کوئی حرف غلط تو نے کتنوں کو نوازا ہے کرم سے اپنے میں تو رہتی ہوں یہاں ...

مزید پڑھیے

میں اور تم

تم سورج میں رنگ کرن تم ساگر ہو میں موج مگن تم کھلا سمندر میں قطرہ تم سچ ہو اور میں افسانہ تم روشن دن میں شب زادی تم روشنیاں پھیلاتے ہو ذرہ ذرہ چمکاتے ہو میں ایک پجارن دیو داسی چپکے سے باہر آتی ہوں اور کرنوں کی اس برکھا میں اپنا تن من نہلاتی ہوں تم جیون جوت جگاتے ہو اور مجھ کو بھی ...

مزید پڑھیے

کشاکش غم لیل و نہار سے نکلیں

کشاکش غم لیل و نہار سے نکلیں ہو ختم عمر تو اس کرب زار سے نکلیں طلسم خود نگری توڑ کر تو باہر آ تو ہم بھی اپنی انا کے حصار سے نکلیں ہمارے عکس میں دھندلاہٹیں ہیں ماضی کی غبار دل کا چھٹے تو غبار سے نکلیں وہاں بھی سخت مسائل کا سامنا ہوگا تو کس امید پہ اس ریگزار سے نکلیں ہم اپنی حد سے ...

مزید پڑھیے

کب ہمیں خود پہ اعتبار آیا

کب ہمیں خود پہ اعتبار آیا بس ترے نام سے قرار آیا زمزمہ خواں جو تیرے حسن کا تھا مجھ کو اس پر بھی کیسا پیار آیا کیسا خوں راستوں میں بہتا ہے کیسی بستی ہے کیا دیار آیا اس کے وعدے تو صرف وعدے تھے پھر بھی ہر بار اعتبار آیا

مزید پڑھیے

عشق کی آنکھ اس لئے نم ہے

عشق کی آنکھ اس لئے نم ہے حسن کی زندگی بہت کم ہے راز ہستی سمجھ سکا ہے کون یوں تو ہاتھوں میں ساغر جم ہے اے مرے ہم سفر سنبھل کے چلو راستے کا چراغ مدھم ہے چاند بدلی میں چھپ نہ جائے کہیں گیسوئے یار آج برہم ہے اس کی ہر بات ہے مرا ایماں سر تسلیم آج بھی خم ہے

مزید پڑھیے

گزرے ہیں تیرے ساتھ جو دن رات ابھی تک

گزرے ہیں تیرے ساتھ جو دن رات ابھی تک آنکھوں میں بسے ہیں وہی لمحات ابھی تک کچھ عشق کی لذت بھی ہے کچھ سوزش دل بھی تازہ ہیں مرے دل میں یہ سوغات ابھی تک کرتی ہوں کبھی جب تری تصویر سے باتیں کیوں آنکھ سے ہوتی ہے یہ برسات ابھی تک وہ تیرا تبسم وہ محبت بھری نظریں رقصاں ہے لہو میں تری ہر ...

مزید پڑھیے

چاند بدلی میں نہاں تھا ہم نے یہ جانا نہیں

چاند بدلی میں نہاں تھا ہم نے یہ جانا نہیں وقت کی تاریکیوں میں خود کو پہچانا نہیں زندگی کی شورشوں میں وہ کہاں کیسے ہیں اب بھول جائیں گے وہ ہم کو ہم نے یہ جانا نہیں چل رہی ہیں کیوں زمیں پہ نفرتوں کی آندھیاں ہم تو سب اہل زمیں ہیں کوئی بیگانہ نہیں اس کے سجدے کا سلیقہ تو نہیں آیا ...

مزید پڑھیے

زمیں سورج کی جانب دھیرے دھیرے رخ بدلتی ہے

زمیں سورج کی جانب دھیرے دھیرے رخ بدلتی ہے اندھیرا خود ہی چھٹتا ہے سحر خود ہی نکلتی ہے یوں ہی پستے رہو گے وقت کی گردش میں دل والو خبر ہے انقلاب فکر سے قسمت بدلتی ہے محبت کرنے والے حوصلہ ہارے حسیں اب تک انہیں کے دم قدم سے زندگی کروٹ بدلتی ہے نہیں دیکھا ہے اس کو ہم نے اک مدت سے اے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1430 سے 6203