قومی زبان

خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے

خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے تڑپ کے پھر کوئی دامن کو تیرے تھام نہ لے بس ایک سجدۂ شکرانہ پائے ساقی پر یہ مے کدہ ہے یہاں پر خدا کا نام نہ لے وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر اب اتنا سخت محبت سے انتقام نہ لے زمانے بھر میں ہیں چرچے مری تباہی کے میں ڈر رہا ہوں کہیں کوئی تیرا ...

مزید پڑھیے

زندگی کے طلسم پڑھ رہا ہوں

زندگی کے طلسم پڑھ رہا ہوں قفل کھلنے کا اسم پڑھ رہا ہوں حسن پر بعد میں کروں گا بات میں ابھی تیرا جسم پڑھ رہا ہوں کیوں نہ ٹوٹے گا نفرتوں کا فسوں میں محبت کا اسم پڑھ رہا ہوں اس کی آنکھوں میں ہیں چھپے جو راز ان کا سارا طلسم پڑھ رہا ہوں آدمی کے کئی ہیں روپ سحرؔ اس لیے قسم قسم پڑھ رہا ...

مزید پڑھیے

بجھے چراغ سے مہتاب دیکھ سکتا ہوں

بجھے چراغ سے مہتاب دیکھ سکتا ہوں میں اپنے خواب میں یہ خواب دیکھ سکتا ہوں میں اپنی آنکھ کے اجڑے ہوئے دیاروں سے کسی بھی دشت کو شاداب دیکھ سکتا ہوں تمہاری یاد کے ٹھہرے ہوئے سمندر میں چھپے ہوئے ہیں جو گرداب دیکھ سکتا ہوں میں اس زمانے کی رنگینیوں کو پل بھر میں جمال یار میں غرقاب ...

مزید پڑھیے

انہیں مت چھیڑئیے ان کو تو خواہش ہے سنگھاسن کی

انہیں مت چھیڑئیے ان کو تو خواہش ہے سنگھاسن کی فقط یہ جان لیجے یہ ہے عادت ملک دشمن کی اسے تنہائی میں جب یاد آئی اپنے ساجن کی غموں کے سائے میں گزری تھی کل کی رات برہن کی بتاؤں کیا تمہیں سرکش ہوا کی داستاں یاروں کہ شاخیں سوکھتی ہی جا رہی ہے میرے گلشن کی خدایا یہ ہماری قوم میں ...

مزید پڑھیے

کچھ تو اس کی بے حسی سے مر گئے

کچھ تو اس کی بے حسی سے مر گئے اور کچھ سادہ دلی سے مر گئے کچھ تو اس نے لوٹ کر دیکھا نہیں جو بچے تھے مے کشی سے مر گئے ہم نے اس کو دیر تک دیکھا کیا اور اس کی سادگی سے مر گئے دل میں ارماں اور لب پر کچھ نہیں ہم تو خود کی بزدلی سے مر گئے اب فقط سانسیں بچی ہیں دوستوں ہم تو کب کا زندگی سے ...

مزید پڑھیے

تم ہو میری پریم کہانی کا کردار

تم ہو میری پریم کہانی کا کردار میری فلم میں شوخ جوانی کا کردار تیری فطرت مجھ سے میل نہیں کھاتی الگ تھلگ ہے آگ سے پانی کا کردار دس دس بار پڑھی ہے میں نے مہابھارت کوئی نہیں ہے کرن سا دانی کا کردار کرداروں کی بھیڑ ہے شامل اس میں پر میں ہوں راجا تو ہے رانی کا کردار یہ چمن گل اور اس ...

مزید پڑھیے

عشق کو دنیاوی بازار نہیں کر سکتے

عشق کو دنیاوی بازار نہیں کر سکتے دل سے دل کے دل پہ وار نہیں کر سکتے عشق میں اپنی جان لگا دی اور لٹا دی اب ہم پھر سے ویسا پیار نہیں کر سکتے اس کو چاہا اور چاہت پر قائم بھی ہیں پر افسوس کے ہم اظہار نہیں کر سکتے اس کی ہی تصویر سمائی ہے آنکھوں میں اب ہم تم سے آنکھیں چار نہیں کر ...

مزید پڑھیے

رت ہے ایسی زہر یابی زندگی خطرے میں ہے

رت ہے ایسی زہر یابی زندگی خطرے میں ہے ماجرا یہ پیش ہے ہر آدمی خطرے میں ہے ہم اگر سنبھلے نہیں تو ایک دن مٹ جائیں گے چھوڑ دو یہ بد گمانی ہر کوئی خطرے میں ہے ان کی گلیوں میں بھٹکتے تھے کبھی ہم در بدر ظلم یہ کیسا ہوا آوارگی خطرے میں ہے عشق کرنا تھی خطا تو یہ خطا ہم نے کری ہے سزا اتنی ...

مزید پڑھیے

محبت ہے کیا چیز تم کو سکھا دیں

محبت ہے کیا چیز تم کو سکھا دیں تم آؤ تمہیں ہم بھی اک آسرا دیں یہ مانا محبت میں اڑچن بہت ہے اگر تم جو چاہو ہر اڑچن ہٹا دیں سوائے تمہارے کوئی اور نہیں ہے یہ دل اپنا بھی چیر کر ہم دکھا دیں دبایا کئی خواہشوں کو ہے اس نے محبت کی اس کو نہ کوئی سزا دیں کتابوں سے رشتہ پرانا ہے اپنا جو آؤ ...

مزید پڑھیے

خوشی جو سایۂ غم میں رہے پھر وہ خوشی کیوں ہو

خوشی جو سایۂ غم میں رہے پھر وہ خوشی کیوں ہو گرہن جو چاند کو لگ جائے تو پھر چاندنی کیوں ہو ادائے حسن دلکش کو ذرا سمجھے تو یہ دنیا توجہ اس میں پنہاں ہے یہ ان کی بے رخی کیوں ہو اسے کچھ اور ہی کہیے کہ دل دکھتا ہے یہ سن کر جب اس میں موت شامل ہے تو پھر یہ زندگی کیوں ہو اگر ملیے کسی سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1366 سے 6203