قومی زبان

ہم اپنی زندگی سے پیار نہ کرتے تو کیا کرتے

ہم اپنی زندگی سے پیار نہ کرتے تو کیا کرتے یہ نعمت ملتی ہے اک بار نہ کرتے تو کیا کرتے محبت کا اگر بیوپار نہ کرتے تو کیا کرتے ہے دنیا حسن کا بازار نہ کرتے تو کیا کرتے محبت ایسی مجبوری میں اکثر ہو ہی جاتی ہے تم اتنے پیارے ہو ہم پیار نہ کرتے تو کیا کرتے برے لوگوں میں اچھائی کا عنصر ...

مزید پڑھیے

چوری کیسی بھی ہو یہ لت بھی بری ہوتی ہے

چوری کیسی بھی ہو یہ لت بھی بری ہوتی ہے دل چرا لینے کی عادت بھی بری ہوتی ہے اچھی عادت کا نفع لوگ اٹھا لیتے ہیں حد سے زیادہ تو شرافت بھی بری ہوتی ہے یہ زمانہ بڑا نازک ہے سنبھل کر چلئے جان من اتنی نزاکت بھی بری ہوتی ہے خوب شہہ دیتی ہے یہ اور گنہ کرنے کو کیا خدا آپ کی رحمت بھی بری ...

مزید پڑھیے

جانے کیا کیا میں ہار بیٹھا ہوں

جانے کیا کیا میں ہار بیٹھا ہوں کھو کے اپنا وقار بیٹھا ہوں ملنے آئیں گے آج وہ مجھ سے اس لیے بے قرار بیٹھا ہوں بپھری موجیں ہیں پھر بھی میں یارو کر کے دریا کو پار بیٹھا ہوں نوٹ بندی نے ایسا مارا ہے ساری دولت میں ہار بیٹھا ہوں آج تک اچھے دن نہیں آئے پھر بھی دل تجھ پہ وار بیٹھا ...

مزید پڑھیے

میں اب ماضی کا ہر سپنا سہانہ بھول جاتا ہوں

میں اب ماضی کا ہر سپنا سہانہ بھول جاتا ہوں مری جاناں ترا ملنا ملانا بھول جاتا ہوں وہ میرا دوست تھا اب دشمن جاں بن گیا ہے جب میں اس کو دیکھ کر اپنا نشانہ بھول جاتا ہوں جو کل تک یار تھا میرا مگر اب غیر ہے یارو تبھی تو اس سے اب دل کا لگانا بھول جاتا ہوں کبھی جس نے دیا تھا درد مجھ کو ...

مزید پڑھیے

تو جواں اب کوئی کام کا نہ رہا

تو جواں اب کوئی کام کا نہ رہا اس میں کچھ جذبۂ ارتقا نہ رہا یہ فسانہ نہیں یہ حقیقت ہے سن میرا ہو کے صنم تو مرا نہ رہا ہر طرف شور ہے اب گلستان میں شاخ پر کوئی پتا ہرا نہ رہا عشق میں تیرے جب بے وفائی ملی تجھ سے ملنے کا اب آسرا نہ رہا حسن یوسف پہ جس کی نگاہیں پڑیں مصر میں کوئی بھی ...

مزید پڑھیے

شمس و قمر سے اور کبھی کہکشاں سے ہم

شمس و قمر سے اور کبھی کہکشاں سے ہم گزرے ہیں لاکھ بار حد لا مکاں سے ہم رہبر ترے کرم سے ہو اس کارواں کی خیر اب تک وہیں کھڑے ہیں چلے تھے جہاں سے ہم ماضی کی تلخیوں میں رہے مطمئن مگر کیوں خوش نہیں ہیں دوستو سال رواں سے ہم جوش جنوں میں آج ہیں ہم کس مقام پر یہ بھی پتہ نہیں ہے چلے تھے ...

مزید پڑھیے

یہ حقیقت ہے کہ ہر راہ گزر سے پہلے

یہ حقیقت ہے کہ ہر راہ گزر سے پہلے منزلیں ڈھونڈھتی آئی ہیں سفر سے پہلے اپنا انجام بھی سوچا ہے کبھی ماہ جبیں پھول جھڑ جائیں گے شاخوں پہ ثمر سے پہلے کیا خبر تھی کہ ترے بعد یہ حالت ہوگی شام کترائے گی آنے کو سحر سے پہلے اپنے قدموں سے یہ افلاک ہوئے ہیں روشن ہم ہی پہنچے ہیں وہاں شمس و ...

مزید پڑھیے

ہم تو اک گرتی ہوئی دیوار ہیں

ہم تو اک گرتی ہوئی دیوار ہیں آپ کے رحم و کرم پر بار ہیں ہر قدم پر ہیں صلیبیں دار ہیں زندگی کے راستے پر خار ہیں آج تک پیتے رہے ہیں اشک غم زہر بھی پینے کو اب تیار ہیں پائیں گے سایہ بھی اک دن دھوپ میں وقت کے گیسو اگر خم دار ہیں یار تو خاموش ہیں مدت ہوئی اب کرم فرما فقط اغیار ...

مزید پڑھیے

امن کی کر خیرات عطا میرے مولا

امن کی کر خیرات عطا میرے مولا جنگ و جدل کو دور ہٹا میرے مولا اب کے برس تو شاخوں پہ پھل پھول کھلیں دھرتی کو گلزار بنا میرے مولا نفرت اور تعصب کی اس نگری میں چاہت کا بازار سجا میرے مولا ہم کو اس بارود کے عہد میں زندہ رکھ ایسا کوئی کھیل رچا میرے مولا تاریکی سے روشنیوں کی منزل ...

مزید پڑھیے

زمانے سے مری زندہ دلی دیکھی نہیں جاتی

زمانے سے مری زندہ دلی دیکھی نہیں جاتی خوشی ہو دوسروں کی تو خوشی دیکھی نہیں جاتی الٰہی نور سے روشن ہیں راہیں اس کے بندوں کی وہ ایسی روشنی ہے جو کبھی دیکھی نہیں جاتی محبت ہی سے اس دنیا میں سارے کام چلتے ہیں کسی سے کیوں کسی کی دوستی دیکھی نہیں جاتی گھروں کی شان و شوکت تو گھروں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1367 سے 6203