قومی زبان

شاعری میں نئی جہت رکھی

شاعری میں نئی جہت رکھی میں نے اپنی الگ لغت رکھی کوئی تعمیر کس طرح ہوتی ساری بنیاد تھی غلط رکھی مجھ کو بخشا نہیں کمال کوئی اس نے مجھ میں یہی صفت رکھی مال خیرات کر دیا سارا صرف کشکول میں بچت رکھی اس نے چاہا غلام بن جاؤں سامنے میرے سلطنت رکھی پہلے پہلی پرت بچھائی اور اور پھر ...

مزید پڑھیے

تیرا آنچل نہیں ہوتا ہے

تیرا آنچل نہیں ہوتا ہے ابر بادل نہیں ہوتا ہے بارشیں تو بہت ہوتی ہیں دشت جل تھل نہیں ہوتا ہے مستقل ہے یہ کیسی کمی کچھ مکمل نہیں ہوتا ہے زندگی جب تلک رہتی ہے مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے صرف اس کے شجر ہوتے ہیں صبر کا پھل نہیں ہوتا ہے ایک جنگل نظر آنے سے شہر جنگل نہیں ہوتا ہے اس کو ...

مزید پڑھیے

میکدے سے ایاغ لے آئے

میکدے سے ایاغ لے آئے ہم بھی اپنا سراغ لے آئے کچھ نہیں بس تمہاری محفل سے بد گمانی کے داغ لے آئے بات دل کی تھی دل سے ہو جاتی بیچ میں تم دماغ لے آئے خانۂ دل میں روشنی کے لیے ہم فلک سے چراغ لے آئے ہم نکل کر حصار جاں سے سحرؔ زندگی میں فراغ لے آئے

مزید پڑھیے

بزم جہان شوق کا محور بھی میں ہی تھا

بزم جہان شوق کا محور بھی میں ہی تھا اوراق دل پہ حرف مکرر بھی میں ہی تھا جتنے بھی عکس تھے مرے اطراف میرے تھے اندر بھی آئنے کے میں باہر بھی میں ہی تھا برسوں سے جس پہ کوئی بھی دستک نہیں ہوئی اس شہر بے چراغ میں وہ در بھی میں ہی تھا میں نے ہی اس کے حسن کو بخشی تھی دل کشی اس پیکر جمال کا ...

مزید پڑھیے

ربط پیدا ہو گیا تھا

ربط پیدا ہو گیا تھا دشت دریا ہو گیا تھا وقت کے اس آئنے میں عکس بوڑھا ہو گیا تھا عمر آدھی رہ گئی تھی کام دگنا ہو گیا تھا میں حقیقی زندگی میں خواب جیسا ہو گیا تھا لوگ مل کر جا رہے تھے وقت پورا ہو گیا تھا درد باقی تھا بدن میں زخم اچھا ہو گیا تھا بات پوری ہو چکی تھی ذہن چورا ہو گیا ...

مزید پڑھیے

دین داری کر رہے تھے

دین داری کر رہے تھے ہوشیاری کر رہے تھے لوگ اپنے ہلکے پن سے خود کو بھاری کر رہے تھے لازمی ہر کام اپنا اختیاری کر رہے تھے پھول جیسے لوگ ہم پر سنگ باری کر رہے تھے جمع ٹوٹے خواب کی بس ریز گاری کر رہے تھے چاہتے تھے جو نہ رونا آہ و زاری کر رہے تھے اونچے قد کے سائے مجھ میں خوف طاری ...

مزید پڑھیے

یار دنیا تو فقط دو حرف کی ہے

یار دنیا تو فقط دو حرف کی ہے بات لیکن آدمی کے ظرف کی ہے تم اسے پل میں سمجھنا چاہتے ہو میں نے آدھی عمر اپنی صرف کی ہے اس سے آگے اب مناظر دھوپ کے ہیں اور مرے ہاتھوں میں چھتری برف کی ہے سن رہا ہوں آج پھر آہٹ تری میں کانوں میں آواز بھی اس ظرف کی ہے کتنے پر تاثیر ہیں الفاظ پھر بھی کچھ ...

مزید پڑھیے

بیان درد جب کرتا ہوں میں اولیٰ و ثانی میں

بیان درد جب کرتا ہوں میں اولیٰ و ثانی میں بہت ملتی محبت ہے مجھے پھر شعر خوانی میں سبھی ہیں پوچھتے کے عشق کرکے کیا ملا آخر بتاتا ہوں سکوں ملتا مجھے اس رائیگانی میں جہاں بھر میں جسے میں ڈھونڈھتا پھرتا رہا اکثر ملا بن بے وفا کردار وہ میری کہانی میں سبھی اپنوں سے یاں مجھ کو چھپانا ...

مزید پڑھیے

وہ شب فرقت میں بھی یوں مسکرائے جا رہیں ہیں

وہ شب فرقت میں بھی یوں مسکرائے جا رہیں ہیں ہجر کے لمحے نہ کیوں ہم سے گزارے جا رہیں ہیں اے خدا مجھ کو اجازت دے کہ اس کو چھو سکوں میں کب سے ایسے چاند کو خالی نہارے جا رہیں ہیں آسماں کے کینوس پر چاند باقی تھا بنانا سو ترے چہرے سا اک چہرہ بنائے جا رہیں ہیں نام لکھا پھر سے ہم نے ایک ...

مزید پڑھیے

گر شور ہے دل میں بھرا تو خامشی اچھی نہیں

گر شور ہے دل میں بھرا تو خامشی اچھی نہیں جو غیر ہاتھوں میں پھنسی وہ زندگی اچھی نہیں اک بار کی ہی ہار ہے اس کو نہ دل سے تو لگا یوں زندگی سے ہار کر پھر خودکشی اچھی نہیں جو دوست بن سج جائے وہ محفل نہیں محفل کوئی یعنی اکیلے جشن کی کوئی خوشی اچھی نہیں گر جسم کی ہی چاہ ہے اس کو محبت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1365 سے 6203