قومی زبان

کہاں یہ اوس نہیں آفتاب کی زد میں

کہاں یہ اوس نہیں آفتاب کی زد میں زمانہ آج بھی ہے انقلاب کی زد میں ظہور زاویۂ قائمہ سے ہے ثابت یہ کائنات ہے علم الحساب کی زد میں اگرچہ ان کی تسلی میں ہے یقیں شامل دل حزیں ہے مگر اضطراب کی زد میں میں اپنے نالۂ بے اختیار کے قرباں جو نغمہ بن کے نہ آیا رباب کی زد میں وہ دشت جس میں ...

مزید پڑھیے

تو نہیں تو زندگی آزار ہے تیرے بغیر

تو نہیں تو زندگی آزار ہے تیرے بغیر زندگی زندہ دلی پر بار ہے تیرے بغیر زندگانی سے کسے انکار ہے تیرے بغیر زندگانی ہے مگر بے کار ہے تیرے بغیر آ کہ پیہم اب یہ حال زار ہے تیرے بغیر ہر نفس اک تیز رو تلوار ہے تیرے بغیر ننگ ہو کیوں کر نہ میرے واسطے دنیا مری زندگی میری مجھے خود عار ہے ...

مزید پڑھیے

فضا خموش زمین دنگ آسماں چپ ہے

فضا خموش زمین دنگ آسماں چپ ہے زمانہ چیخ رہا ہے مگر جہاں چپ ہے ٹٹولتا ہوں در طاق اجنبی کی طرح مرے مکاں کے اندھیروں میں شمع داں چپ ہے اسی سے خطرہ افشائے راز ہے درپیش وہ آدمی جو ہمارے ہی درمیاں چپ ہے بہت سنبھل کے گزر زندگی کے لمحوں سے نہ جانے گر پڑے کب ریت کا مکاں چپ ہے نگاہ میں ...

مزید پڑھیے

شعور ہوش سے بیگانہ کہہ دیا ہوتا

شعور ہوش سے بیگانہ کہہ دیا ہوتا ذرا سی بات تھی دیوانہ کہہ دیا ہوتا ہوئی یہ خیر نہ دیکھا مری طرف ورنہ نگاہ شوق نے افسانہ کہہ دیا ہوتا اگر نہ ہوتیں ان آنکھوں کی مستیاں مخصوص تو عام لوگوں نے مے خانہ کہہ دیا ہوتا کہا ہر ایک نے مجھ کو تمہارا دیوانہ کبھی تو تم نے بھی دیوانہ کہہ دیا ...

مزید پڑھیے

تیری دستک کی آس دروازے

تیری دستک کی آس دروازے شام سے ہیں اداس دروازے پھر بھی باہر قدم نہیں رکھا تھے مرے آس پاس دروازے اس کے آنگن میں جا کے کھلتے ہیں میری قسمت کے خاص دروازے کوئی آواز سن نہیں سکتا جب کہ لیتے ہیں سانس دروازے اس کے گھر میں خموش دیواریں میرے گھر میں اداس دروازے اس گلی کی طرف نہیں ...

مزید پڑھیے

بات کی جب عشق نے تہذیب کی

بات کی جب عشق نے تہذیب کی تیرے غم میں روز اک تقریب کی زندگی کو نظم کرنے کے لیے میں نے ہر حربے سے اک ترتیب کی چل پڑا پھر سلسلہ تعمیر کا کچھ نہیں بس تھوڑی سی تخریب کی بھول جانا چاہتے تھے سو اسے یاد کرنے کی کوئی ترکیب کی پہلے اپنے آپ کو سچا کہا اور پھر ہر بات کی تکذیب کی سارے قصے ...

مزید پڑھیے

اگر مزاج ہی میں گرد گرد ہونا تھا

اگر مزاج ہی میں گرد گرد ہونا تھا تو پھر جناب کو صحرا نورد ہونا تھا اسے پسند بہت نیلے والے پتھر ہیں مجھے عقیق نہیں لاجورد ہونا تھا تمہیں یہ شہر بسانے کی کیا ضرورت تھی تمہیں تو اپنے قبیلے کا فرد ہونا تھا یہ ایک سوچ مسلسل جلا رہی تھی مجھے مرے خیال کے موسم کو سرد ہونا تھا سحرؔ ...

مزید پڑھیے

خامشی سے کہو ذرا خاموش

خامشی سے کہو ذرا خاموش سن رہا ہے مرا خدا خاموش ایک میں ہی تھا بولنے والا وہ بھی تو نے کرا دیا خاموش کر رہی تھی کلام خاموشی اس لیے ہونا پڑ گیا خاموش میں نے دیکھا ہے لوگ ہوتے ہیں اس سے کر کے مکالمہ خاموش زندگی کی یہی کہانی ہے ابتدا شور انتہا خاموش گفتگو کرنی تھی مجھے لیکن میں ...

مزید پڑھیے

ہجرت بھی وہی نقل مکانی بھی وہی ہے

ہجرت بھی وہی نقل مکانی بھی وہی ہے ہم خانہ بدوشوں کی کہانی بھی وہی ہے یہ شاعری کرنا کوئی آسان ہے یارو جو بات چھپانی ہے بتانی بھی وہی ہے کمرے میں ترے ہجر کے جالے بھی وہی ہیں دیوار پہ تصویر پرانی بھی وہی ہے گھر بھی ہے ابھی تک تری خوشبو سے معطر آنگن میں مرے رات کی رانی بھی وہی ...

مزید پڑھیے

یہ طے ہے میں اپنے مطابق نہیں تھا

یہ طے ہے میں اپنے مطابق نہیں تھا تو کیا زندگی کے موافق نہیں تھا نئی تو یہاں ایک شے بھی نہیں تھی مگر کچھ یہاں حسب سابق نہیں تھا تمہاری ہر اک بات جھوٹی بھی سچ ہے مرے دوستو میں ہی صادق نہیں تھا کسی کی نظر کار فرما تھی مجھ میں مقلد رہا ہوں محقق نہیں تھا تھا شہر محبت محبت سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1364 سے 6203