قومی زبان

تمہیں پسند ہے تنہا سفر زیادہ تر

تمہیں پسند ہے تنہا سفر زیادہ تر یہی رہا مرے پیش نظر زیادہ تر گماں کہ لوٹ کے آ جائیں گے کسی ساعت اسی گماں نے اجاڑے ہیں گھر زیادہ تر گریز کے کوئی لمحے بھی آ گئے ہوں گے تمہاری یاد رہی ہم سفر زیادہ تر دکھائی دیتی ہیں کب خود کو خامیاں اپنی فریب کھاتی ہے اپنی نظر زیادہ تر کہاں مقام ...

مزید پڑھیے

وہ لوگ جن کو ہے اب خود کشی سے دلچسپی

وہ لوگ جن کو ہے اب خود کشی سے دلچسپی کبھی بہت تھی انہیں زندگی سے دلچسپی ہے رسم و راہ بس اپنے مفاد کی حد تک یہاں کہاں ہے کسی کو کسی سے دلچسپی معاملات کیے جائیں اب سپرد ان کے معاملات میں جو لیں خوشی سے دلچسپی نہ سمت دیکھی نہ رستہ عجیب عالم تھا ہمیں تھی صرف تری ہمرہی سے ...

مزید پڑھیے

ایک اک بات کا پتا ہے مجھے

ایک اک بات کا پتا ہے مجھے سارے حالات کا پتا ہے مجھے میں نے دیکھے ہیں سب نشیب و فراز جیت اور مات کا پتا ہے مجھے اپنی کمزوریوں سے واقف ہوں اپنی اوقات کا پتا ہے مجھے تو ابھی منزل گمان میں ہے تیرے شبہات کا پتا ہے مجھے بے سکونی نظر میں ہے تیری تیرے دن رات کا پتا ہے مجھے ہاتھ ہے ایک ...

مزید پڑھیے

زہر کے جام ہیں بہت سارے

زہر کے جام ہیں بہت سارے سچ کے انعام ہیں بہت سارے یہ جو ان کا سلام آیا ہے اس میں پیغام ہیں بہت سارے ذکر کس کا کریں کسے چھوڑیں ذہن میں نام ہیں بہت سارے سادگی کم نوائی نادانی ہم پہ الزام ہیں بہت سارے ایک ہی کام تو نہیں ہم کو اور بھی کام ہیں بہت سارے بچ کے چلنا نہیں نعیمؔ آساں دام ...

مزید پڑھیے

محبت

محبت پر فدا سارا زمانہ محبت کا ہر اک دل میں ٹھکانہ محبت رات دن صدمے اٹھانا مگر لب پر کبھی شکوہ نہ لانا محبت ہمت دل آزمانا محبت آفتوں میں مسکرانا محبت بارش لعل بدخشاں محبت خون کے آنسو بہانا محبت نالہ و ماتم بظاہر مگر باطن میں عشرت کا ترانا محبت جذبۂ ایثار یکسر محبت زندگی پر کھیل ...

مزید پڑھیے

کبھی ہنسنا کبھی رونا کبھی نالے ہیں ترے

کبھی ہنسنا کبھی رونا کبھی نالے ہیں ترے کیا کہوں ہائے کہ سب روپ نرالے ہیں ترے چاندنی پھول کہ خوشبو کا تصور کرنا نام کچھ بھی رہے یہ سب ہی حوالے ہیں ترے اب تو اس دل میں نہیں کچھ بھی بچا تیرے سوا ان میں یادوں کے نئے زخم جو پالے ہیں ترے دشت کا دشت ترے ہجر میں چھانا میں نے پاؤں میرے ...

مزید پڑھیے

خاک نے اپنا تسلط تھا جمایا جس دم

خاک نے اپنا تسلط تھا جمایا جس دم میں نے افلاک کو سوچوں سے اٹھایا جس دم میرے اطراف بھی کہرام کا بادل برسا میں نے اک شخص کو کچھ دیر ہی سوچا جس دم رابطہ ٹوٹ کے حیرانی تلک آ پہنچا ایک اپنا مرا اغیار میں بیٹھا جس دم وقت تو آن ہی پہنچا تھا ترے وصل کا بھی سلسلہ سانس کا اس روح سے ٹوٹا جس ...

مزید پڑھیے

اپنے نخرے سنبھال چلتا بن

اپنے نخرے سنبھال چلتا بن تجھ میں کیا ہے کمال چلتا بن روبرو تیرے رکھ دیا میں نے ہر جواب و سوال چلتا بن فون کرتا ہے روز جس کو تو رکھ اسی کا خیال چلتا بن کنکری بھی پہاڑ جیسی ہے اپنے پتھر سنبھال چلتا بن فانی دنیا میں ہم بشر جیسے اور تو بے مثال چلتا بن تو ہماؔ کو جو سخت سست کہے تیری ...

مزید پڑھیے

عذاب دید کا مژدہ سنا رہا ہے مجھے

عذاب دید کا مژدہ سنا رہا ہے مجھے کسی کی بات سنا کر جلا رہا ہے مجھے وہ اپنے سچ کو کبھی کر نہیں سکا ثابت جو ایک عمر سے جھوٹا بنا رہا ہے مجھے جو شخص میم کے مفہوم تک نہیں پہنچا خدا کی شان محبت سکھا رہا ہے مجھے اسے عروج کا مفہوم آ گیا ہے سمجھ سو اس لیے بھی نظر سے ہٹا رہا ہے مجھے حصار ...

مزید پڑھیے

خیالی طاقچے میں دھر دیا دیا لوگو

خیالی طاقچے میں دھر دیا دیا لوگو کسی نے جیسا کہا میں نے وہ کیا لوگو یہ سوچ کر کہ نشانی ہے جانے والے کی وہ زخم میں نے کبھی بھی نہیں سیا لوگو نہ چاہ کر بھی میں گھنگھرو گوارا کر لوں گی کسی بھی طور سے مانے مرا پیا لوگو میں جس کے ہجر میں گھٹ گھٹ کے مرنے والی ہوئی وہ شخص کھل کے مری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1096 سے 6203