جب بھی بھولے سے کبھی لب پہ ہنسی آئی ہے
جب بھی بھولے سے کبھی لب پہ ہنسی آئی ہے غم کی تصویر مرے ذہن پہ لہرائی ہے اس قدر چرچا ہے کچھ آمد فصل گل کا خار کو خار نہ کہنے ہی میں دانائی ہے بن گئی خار سر شاخ کلی وہ اک دن پھول بننے کی تمنا میں جو مرجھائی ہے آنکھ نے دیکھا نہیں ایک بھی گل خندہ بہ لب صرف کانوں نے سنا ہے کہ بہار آئی ...