قومی زبان

اور ہوں گے وہ جنہیں ضبط کا دعویٰ ہوگا

اور ہوں گے وہ جنہیں ضبط کا دعویٰ ہوگا ہر بن مو سے یہاں ذکر کسی کا ہوگا حسن کیوں عشق کی تشہیر پہ شاداں ہے بہت عشق رسوا ہے تو کیا حسن نہ رسوا ہوگا اشک بن بن کے وہ آنکھوں سے ٹپک جائے گی کیا خبر تھی کہ یہ انجام تمنا ہوگا کہیں رسوا نہ کرے حیرت دیدار مجھے آج وہ جلوۂ مستور ہویدا ...

مزید پڑھیے

رخ ترا ماہتاب کی صورت

رخ ترا ماہتاب کی صورت آنکھ جام شراب کی صورت میری فکر سخن بھی رنگیں ہے تیرے حسن شباب کی صورت میری آنکھوں میں آ کے بس جاؤ ایک رنگین خواب کی صورت میرے دل پر محیط ہو جاؤ کیف جام شراب کی صورت مجھ کو مرغوب ہے تری آواز نغمہ ہائے رباب کی صورت جن کے سر میں ہوا سمائی تھی مٹ گئے وہ ...

مزید پڑھیے

میں اک شاعر ہوں اسرار حقیقت کھول سکتا ہوں

میں اک شاعر ہوں اسرار حقیقت کھول سکتا ہوں ندائے غیب بن کر سب کے دل میں بول سکتا ہوں خدا نے جس طرح کھولا ہے میرے دل کی آنکھوں کو یوں ہی میں ہر کسی کے دل کی آنکھیں کھول سکتا ہوں ودیعت کی ہے قدرت نے وہ میزان نظر مجھ کو کہ خوب و زشت عالم کو بخوبی تول سکتا ہوں قناعت کا یہ عالم ہے کہ ...

مزید پڑھیے

حسن فانی پر ہم اپنا دل فدا کرتے رہے

حسن فانی پر ہم اپنا دل فدا کرتے رہے اب پشیماں ہیں کہ ساری عمر کیا کرتے ہیں ہم سمجھتے ہیں جناب شیخ کیا کرتے رہے حور و غلماں کے لئے یاد خدا کرتے رہے ضبط گریہ ضبط نالہ ضبط فریاد و فغاں عشق میں جو کچھ بھی ہم سے ہو سکا کرتے رہے کس طرح سوئے پڑے ہیں چین سے زیر مزار جو زمیں پر ہر گھڑی ...

مزید پڑھیے

مزا جب ہے اسے برق تجلیٰ دیکھنے والے

مزا جب ہے اسے برق تجلیٰ دیکھنے والے جمال یار میں تحلیل ہو جا دیکھنے والے نظر آتی تجھے ہر خاک کے ذرہ میں اک دنیا نگاہ غور سے تو نے نہ دیکھا دیکھنے والے تجھے نزدیک سے بھی ایک دن وہ دیکھ ہی لیں گے تصور میں ترا حسن دل آرا دیکھنے والے خبر بھی ہے تجھے کچھ یہ تماشہ گاہ عالم ہے تماشہ ...

مزید پڑھیے

میں توڑوں عہد و پیمان وفا یہ ہو نہیں سکتا

میں توڑوں عہد و پیمان وفا یہ ہو نہیں سکتا وہ ہوتے ہیں تو ہو جائیں جدا یہ ہو نہیں سکتا پلا ساقی کہ شغل مے کشی کا وقت جاتا ہے یوں ہی چھائی رہے کالی گھٹا یہ ہو نہیں سکتا وہ چشم سرمگیں جب تک مسیحائی نہ فرمائے مریض غم کو ہو جائے شفا یہ ہو نہیں سکتا نہ دیکھے شیخ تو جب تک بتوں کو میری ...

مزید پڑھیے

مجبور ہوں گناہ کئے جا رہا ہوں میں

مجبور ہوں گناہ کئے جا رہا ہوں میں فرد عمل سیاہ کئے جا رہا ہوں میں گو جانتا بھی ہوں ترا ملنا محال ہے اس پر بھی تیری چاہ کئے جا رہا ہوں میں تیرا فریب وعدہ بہت کامیاب ہے آنکھوں کو فرش راہ کئے جا رہا ہوں میں تقسیم ہو رہی ہے مری وسعت نظر ذروں کو مہر و ماہ کئے جا رہا ہوں میں تیرا کرم ...

مزید پڑھیے

جگنو اور بچہ

جگنو ادھر آؤ اے میرے نادان بچے کروں گا میں دو چار باتیں تمہیں سے ہو مصروف کیوں کھیلنے میں تم ایسے سنو تو سہی کچھ پڑھو گھر پہ جا کے نہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے بچہ میں ابا کا جانی میں اماں کا پیارا نہیں رنج میرا کسی کو گوارا نہ جاؤں گا پڑھنے یہ ہے کیا اشارا میں کھیلوں گا تیرا ...

مزید پڑھیے

برسات

برکھا آئی بادل آئے اوڑھے کالے کمبل آئے ٹھنڈی ٹھنڈی آئیں ہوائیں کالی کالی چھائیں گھٹائیں گرمی نے ڈیرا اٹھوایا دھوپ پہ سایہ غالب آیا بادل سے امرت جل برسا امرت جل کیسا کومل برسا ہو گئی زندہ مردہ کھیتی ڈھل گئے ذرے چمکی کھیتی دریا اور سمندر ابھرے تازہ موجیں لے کر ابھرے باغوں میں ...

مزید پڑھیے

دعا

دعا اے راجہ پرجا کے مالک اے ساری دنیا کے مالک اے دونوں عالم کے داتا تیرا نہیں کسی سے ناتا کوئی نہیں ہے تیرا ہمسر تو ہے سب سے بالا برتر ہم ہیں تیرے در کے بھکاری شرم ہے تیرے ہاتھ ہماری جس کو چاہے عزت دے دے جس کو چاہے ذلت دے دے عزت ذلت کا تو مالک دوزخ جنت کا تو مالک مالک تو دونوں عالم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1097 سے 6203