قومی زبان

برنجی پاؤں میں اس کے چبھی ہے

برنجی پاؤں میں اس کے چبھی ہے بچارے موچی کو گالی پڑی ہے دھماکا دل میں ہونے والا ہے کیا کئی دن سے یہاں کچھ سنسنی ہے مجھے لگتا ہے شعلہ کی حرارت اندھیرے میں دھویں کو تک رہی ہے یہیں سے پڑھتے جا استغفر اللہ یہاں سے دور کچھ اس کی گلی ہے یہ کٹنی مول میں کرتی ہے گڑبڑ طوائف قول کی بالکل ...

مزید پڑھیے

پہلے باتیں پیاری پیاری کرتا ہے

پہلے باتیں پیاری پیاری کرتا ہے پھر وہ دلوں پر دہشت طاری کرتا ہے میں اس کی ہر چال سے واقف ہوں لیکن بعض اوقات یہ دل غداری کرتا ہے دل میں بھلے اس فتنے کے کھوٹ بھرا ہے باتوں سے لیکن دل داری کرتا ہے میں بھی نا شائستہ حرکت کرتا ہوں اور وہ بھی باتیں بازاری کرتا ہے میرا بھی کوئی دین و ...

مزید پڑھیے

زندگی چونچلے نہ کر ہم سے

زندگی چونچلے نہ کر ہم سے دیکھ پچھتائے گی تو ڈر ہم سے زخم خردوں کے جانے سے پیدا ہو گیا ہے خلا تو بھر ہم سے لوگ سرہانوں میں اڑسنے لگے پوچھ مت حال بال و پر ہم سے گر گئی روشنائی کی بوتل تیرا کاغذ ہوا ہے تر ہم سے ایک دن ہانکا تھا پرندے کو ابھی ناراض ہے شجر ہم سے رب رقیبوں کو بخشے تو ...

مزید پڑھیے

اب اس قدر بھی بدل جائے گا خبر نہیں تھی

اب اس قدر بھی بدل جائے گا خبر نہیں تھی فنا سے دور نکل جائے گا خبر نہیں تھی مرے بدن کی حرارت اتارنے والا مری تپش سے پگھل جائے گا خبر نہیں تھی وہ ابتدائے محبت کے پہلے لمحے کو بنا کے آخری پل جائے گا خبر نہیں تھی بڑھے گی لقمۂ دل سے بھی آگے اس کی ہوس یہ نفس تن کو نگل جائے گا خبر نہیں ...

مزید پڑھیے

میں نے دھڑکن سنی شجر کی رات

میں نے دھڑکن سنی شجر کی رات نیند پتوں نے بے خطر کی رات اس نے رخصت کبھی نہ لینی تھی وہ بھی مارا گیا سفر کی رات بھونکتی رہتی ہے ستاروں پر میرے اندر کسی کھنڈر کی رات میں نے دیوانگی میں پھاڑے ہوئے خیمۂ خاک میں بسر کی رات دن تو لیکن کا ڈھل گیا صاحب سامنے ہے اگر مگر کی رات میں ہوں ...

مزید پڑھیے

خد و خال سے خالی ہے

خد و خال سے خالی ہے یہ تصویر تو جعلی ہے کہتے ہیں مرگ مفاجات حکم جناب عالی ہے لشکر اسہال زدہ کی میں نے کمان سنبھالی ہے دنیا کی آواز سنو ایک ہی ہاتھ کی تالی ہے ہر اک انسان کے اندر بیٹھا ایک موالی ہے عملہ معطل ہے دل کا جاری سعیٔ بحالی ہے قیمت الگ ہے خصلت ایک یہ گندم وہ شالی ...

مزید پڑھیے

سورج تو دے دیا تھا ستارہ بھی دے دیا

سورج تو دے دیا تھا ستارہ بھی دے دیا پھر ہم نے اس کو خاک کا خرقہ بھی دے دیا اصلاً تو شہر عشق کے معمار تھے مگر رب نے دیار درد کا ٹھیکا بھی دے دیا دامن پکڑ کے پیچھے یہ قلاش تھی پڑی دنیا کو ہم نے بھیک کا کاسہ بھی دے دیا پگڑی دکان سنگ تراشی کی لی مگر روکن میں کار خانۂ‌ شیشہ بھی دے ...

مزید پڑھیے

اب مسخری مت کر چھوڑ فقیر

اب مسخری مت کر چھوڑ فقیر اٹھ مری چادر چھوڑ فقیر نیند نوالہ فرش دوشالہ دہلیز سے باہر چھوڑ فقیر تو اور سرہانا ڈھونڈ کوئی اس قبر کا پتھر چھوڑ فقیر اندر کا جو بھی شوشہ ہے اندر ہی اندر چھوڑ فقیر ہیں اور بھی لنگر دنیا میں اس درگہ کا در چھوڑ فقیر داب چکا میں تیرے پاؤں اب تو مرا سر ...

مزید پڑھیے

حسن لاچار کی باتیں کریں کیا

حسن لاچار کی باتیں کریں کیا عشق بیمار کی باتیں کریں کیا سوگواری چمن دل پر ہے برگ رخسار کی باتیں کریں کیا نار دوزخ سے ڈرانے والو ہم کسی نار کی باتیں کریں کیا کیسے حالات سے سمجھوتہ کیا اب یہ بیکار کی باتیں کریں کیا سب مکینوں سے تعارف تو ہوا در و دیوار کی باتیں کریں کیا وجہ ...

مزید پڑھیے

گلوں میں رنگ بھرے گا مجھے یہ فکر نہیں

گلوں میں رنگ بھرے گا مجھے یہ فکر نہیں چنار پھر سے جلے گا مجھے یہ فکر نہیں وہ اونٹ سونگھ کے محمل نشینوں کی خوشبو اٹھے گا یا نہ اٹھے گا مجھے یہ فکر نہیں وہ میرے آگے کوئی مورچہ سنبھالے گا کہ میرے پیچھے چھپے گا مجھے یہ فکر نہیں ہوائیں سنگ کو تعلیم حبس دم دیں یا شجر وظیفہ پڑھے گا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1029 سے 6203