قومی زبان

بلا جانے کسی کی ہجر میں اس دل پہ کیا گزری

بلا جانے کسی کی ہجر میں اس دل پہ کیا گزری کرے صیاد کیوں پروا کسی بسمل پہ کیا گزری نثار شمع ہو جانا تو پروانے کی فطرت ہے نہ پوچھو خاک ہونے سے مرے محفل پہ کیا گزری شبستان مسرت میں جو محو عیش و عشرت ہیں انہیں اس کا پتہ کیا رہرو منزل پہ کیا گزری جنون قیس پر ہنستے تو ہیں عقل و خرد ...

مزید پڑھیے

سوز دروں ہمارا ظاہر نہ ہو کسی پر

سوز دروں ہمارا ظاہر نہ ہو کسی پر اک داغ لگ نہ جائے دامان عاشقی پر لازم حذر ہے اے دل آہ و فغاں سے دائم آتا ہے حرف اس سے دعوائے دوستی پر راہ وفا میں کوئی دیتا ہے ساتھ کس کا غم کیوں منائیں ناحق ہم اپنی بیکسی پر نازاں جمال پردہ غرہ ادا پہ ان کو مجھ کو بھی فخر لیکن ہے جذب عاشقی ...

مزید پڑھیے

قفس میں رہ کے گل و نسترن کی بات کرو

قفس میں رہ کے گل و نسترن کی بات کرو چمن سے دور ہو لیکن چمن کی بات کرو ابھی تو جذب محبت کی آزمائش ہے فروغ عشق کی دار و رسن کی بات کرو جلے شباب کے طوفاں میں شمع تقویٰ کیا بہار نو کی شراب کہن کی بات کرو خلاف مسلک الفت ہے شکوۂ ساقی نہ تشنہ کامئ کام و دہن کی بات کرو یہاں فسانۂ دیر و ...

مزید پڑھیے

تھی لگن سنتے تری شوخئ پا کی آہٹ

تھی لگن سنتے تری شوخئ پا کی آہٹ مجھ کو چونکاتی رہی باد صبا کی آہٹ رات بھر قافلہ یادوں کا رہا دل میں مقیم کان میں آتی رہی اس کف پا کی آہٹ چاپ قدموں کی ترے کاش سنائی دیتی پے بہ پے آتی ہے اب پیک قضا کی آہٹ قادریؔ تیز کرو شمع یقیں تیز کرو رات تاریک ہے آتی ہے بلا کی آہٹ

مزید پڑھیے

یہ عشق بھی عجیب ہے اک آن ہو گیا

یہ عشق بھی عجیب ہے اک آن ہو گیا انسان ساری عمر کو حیران ہو گیا وہ شخص کیا گیا ہے ادھر سے کہ شہر دل پھر دیکھتے ہی دیکھتے ویران ہو گیا اس غم نے کیسی شکل بدل لی کہ کل تلک دشمن تھا میری جان کا اب جان ہو گیا وہ زلف میرے بازو پہ بکھری نہیں تو میں اس زلف سے زیادہ پریشان ہو گیا ہے سلطنت ...

مزید پڑھیے

دل ٹوٹ چکا تار نظر ٹوٹ رہا ہے

دل ٹوٹ چکا تار نظر ٹوٹ رہا ہے قسطوں میں مسافر کا سفر ٹوٹ رہا ہے ہر روز بدلتا ہے نیا رنگ زمانہ ہر شخص بہ انداز دگر ٹوٹ رہا ہے تو غور سے دیکھے تو یہ معلوم ہو تجھ کو جو کچھ ہے ترے پیش نظر ٹوٹ رہا ہے کیا جانئے کیوں لوگ تشدد پہ اتر آئے دستار بچاتے ہیں تو سر ٹوٹ رہا ہے منزل ہے کہ اوجھل ...

مزید پڑھیے

اک کار گراں ہے کھیل نہیں

اک کار گراں ہے کھیل نہیں زندگی امتحاں ہے کھیل نہیں ہر قدم سوچ کر یہاں رکھنا دشت‌ عمر رواں ہے کھیل نہیں یہ مٹی ہے نہ مٹ سکے گی کبھی اردوئے سخت جاں ہے کھیل نہیں تیرگی شب کی کیوں نہ دم توڑے زخم دل ضو فشاں ہے کھیل نہیں کچھ بھی ممکن ہے دیکھیے کیا ہو لطف چارہ گراں ہے کھیل نہیں جانے ...

مزید پڑھیے

شب فراق کا مارا ہوں دل گرفتہ ہوں

شب فراق کا مارا ہوں دل گرفتہ ہوں چراغ تیرہ شبی ہوں میں جلتا رہتا ہوں کبھی کا مار دیا ہوتا زندگی نے مجھے یہ شکر ہے کہ میں زندہ دلی سے زندہ ہوں کوئی فریب تمنا نہ جلوہ اور نہ خیال دیار عشق میں تنہا تھا اور تنہا ہوں زمانہ میری ہنسی کو خوشی سمجھتا ہے میں مسکرا کے جو خود کو فریب دیتا ...

مزید پڑھیے

جیسے صبح کو سورج نکلے شام ڈھلے چھپ جائے ہے

جیسے صبح کو سورج نکلے شام ڈھلے چھپ جائے ہے تم بھی مسافر میں بھی مسافر دنیا ایک سرائے ہے راز خودی ہے یہ فرزانو بہتر ہے یہ راز نہ جانو جو خود کو پہچانے ہے وہ دیوانہ کہلائے ہے فہم و خرد سے جوش جنوں تک ہر منزل سے گزرے ہیں ہم تو دیوانے ہیں بھائی ہم کو کیا سمجھائے ہے ہجر کی شب یوں تھپک ...

مزید پڑھیے

دیوانگئ شوق کا ساماں سجا کے لا

دیوانگئ شوق کا ساماں سجا کے لا ناداں گہر کوئی سر مژگاں سجا کے لا فن کار تو اگر ہے تو فن کا دکھا کمال تصویر یار تا حد امکاں سجا کے لا گلشن پہ ہے خزاں کا تسلط تو غم نہیں دل میں فریب حسن بہاراں سجا کے لا دے ماہتاب بن کے اندھیروں کو روشنی مردہ دلوں کے واسطے درماں سجا کے لا ہم آج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1028 سے 6203