قومی زبان

میں سوچتا ہوں کنارہ کروں محبت سے

میں سوچتا ہوں کنارہ کروں محبت سے گزر ہی جاؤں کسی دن مقام عبرت سے میں ایک تختۂ یخ کو پکڑ کے بہتا ہوں بھنور کی آنکھ مجھے تک رہی ہے حیرت سے عجب نہیں کہ جنوں میں یہ معجزہ بھی ہو میں اختیار میں آ جاؤں اپنے وحشت سے غبار خواب اڑا کے گزر گیا کوئی لگی تھی آنکھ مری چاندنی میں غفلت سے نظر ...

مزید پڑھیے

قرض کی مہلت گزر گئی ہے

قرض کی مہلت گزر گئی ہے بھائی مدت گزر گئی ہے وصل کے دعویدار کہو کیا ہجر کی عدت گزر گئی ہے ہم تو ایسے رونے لگے ہیں جیسے محبت گزر گئی ہے دشت جنوں! مجنوں کے غم میں کیا بے وحشت گزر گئی ہے عشق سے بے پروا لوگوں کی عمر سلامت گزر گئی ہے اے کفار تشنہ بدناں شب جہالت گزر گئی ہے گھور ...

مزید پڑھیے

اے موجۂ سراب تو پھانکے گی کتنی خاک

اے موجۂ سراب تو پھانکے گی کتنی خاک مجھ کو ڈبونے کے لئے چھانے گی کتنی خاک بچ جائے مشت بھر سہی دفنانے کے لئے موج بلائے عشق میں ڈوبے گی کتنی خاک کتنے حسین خواب ترستے ہیں دید کو آئینۂ جمال پہ بیٹھے گی کتنی خاک جس کے در و دریچہ و دیوار ہیں تباہ اس خانۂ سکوت کو پوچھے گی کتنی ...

مزید پڑھیے

میں ہوں اک کاغذ قلم بیزار

میں ہوں اک کاغذ قلم بیزار باد صرصر میں برگ نم بیزار عربی لوگ ہیں تو ہونے دو وہ خدا تو نہیں عجم بیزار دیکھ کر بول چہرے بشرے سے نظر آتا ہوں کیا ستم بیزار اے گریزان آبلہ پائی! دشت مجنون ہے قدم بیزار اک دل مضطرب ہے پہلو میں اور سینہ ہے ایک دم بیزار رشک شانہ سے پیچ کھاتا ہوں میں ...

مزید پڑھیے

تو نے نظر سے پیاس کی دیکھا بھی ہے کہیں

تو نے نظر سے پیاس کی دیکھا بھی ہے کہیں گرد جبین دشت میں دریا بھی ہے کہیں پھرتا رہا ہوں جس کے تعاقب میں عمر بھر کیا نقش اس خیال نے چھوڑا بھی ہے کہیں یا سب ہی میری طرح کے آوارہ گرد تھے دل میں کوئی قرار سے بیٹھا بھی ہے کہیں ہم بھی عجب تھے غاروں میں اترے یہ دیکھنے بچ کر نکلنے کا کوئی ...

مزید پڑھیے

لہرا رہی ہیں کھیت میں گندم کی بالیاں

لہرا رہی ہیں کھیت میں گندم کی بالیاں اور پہرے پر بجوکے ہیں لے کر دو نالیاں روئے سخن ہے اس کا خریدار کی طرف قصاب دے رہا ہے جو بلی کو گالیاں خنجر اتار دے گا جمورے کے پیٹ میں بوڑھے جوان بچے بجائیں گے تالیاں جوتے نکالتی ہیں ادب سے طوائفیں لیکن پھٹے جرابوں پہ ہنستی ہیں سالیاں بوٹا ...

مزید پڑھیے

نہیں یہ عکس ہوا ہے سمجھتا کیوں نہیں میں

نہیں یہ عکس ہوا ہے سمجھتا کیوں نہیں میں مرے قریب کھڑا ہے سمجھتا کیوں نہیں میں یہ چیز اور نہیں کوئی میرا سایا ہے مگر یہ مجھ سے جدا ہے سمجھتا کیوں نہیں میں یہ کوئی پہلو مرا ہے جو ذات سے میری کئی دنوں سے جدا ہے سمجھتا کیوں نہیں میں جہاں پہ جسم کی دیوار میں شگاف پڑا وہیں سے سبزہ اگا ...

مزید پڑھیے

خود اپنے آپ پہ ایسے عطا ہوا ہوں میں

خود اپنے آپ پہ ایسے عطا ہوا ہوں میں صدی کے سب سے بڑے جرم کی سزا ہوں میں لہولہان ہے چہرہ وجود چھلنی ہے صدی جو بیت گئی اس کا آئنہ ہوں میں عجیب عالم آہ و بکا ہے میرا وجود تڑپتے چیختے لمحوں کا مرثیہ ہوں میں عجیب سا مرے سینے میں اک تلاطم ہے کہ موج موج سمندر بنا ہوا ہوں میں کبھی تو ...

مزید پڑھیے

اسی خیال سے دل میں مرے اجالا ہے

اسی خیال سے دل میں مرے اجالا ہے دماغ وقت کی دھڑکن کو سننے والا ہے تڑپ طلب ہے مری تشنہ لب سمندر ہوں حباب کہتے ہیں جس کو زباں پہ چھالا ہے تمام خواب خیالات بن کے ٹوٹے ہیں یہ دور دیکھیے اب کیا دکھانے والا ہے میں اپنے حال سے گھبرا کے مر گیا ہوتا مجھے تو واقعی بیتے دنوں نے پالا ...

مزید پڑھیے

اب آفتاب منور پہ قرب شام ہوا

اب آفتاب منور پہ قرب شام ہوا اک اور سال مری عمر کا تمام ہوا رگوں میں گردش خوں کا غلام ٹھہرا ہے نہ اس بدن کا کبھی مجھ سے احترام ہوا مرے چہار طرف ہے حصار محرومی تمام عمر کٹی اور نہ کوئی کام ہوا کوئی زمین نہ دلدل نہ آسمان ہے اب کہاں پہنچ کے مری رہ کا اختتام ہوا عجب لطیف سی تیزابیت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1030 سے 6203