قومی زبان

شورش جنون

بہار آئی ہے شورش ہے جنون فتنہ ساماں کی الٰہی خیر رکھنا تو مرے جیب و گریباں کی بھلا جذبات الفت بھی کہیں مٹنے سے مٹتے ہیں عبث ہیں دھمکیاں دار و رسن کی اور زنداں کی وہ گلشن جو کبھی آزاد تھا گزرے زمانے میں میں ہوں شاخ شکستہ یاں اسی اجڑے گلستاں کی نہیں تم سے شکایت ہم صفیران چمن مجھ ...

مزید پڑھیے

مجذوب

دریا جنگل جھیل سمندر برکھا رت اور ساون بھادوں سب کچھ میرے اندر ہے باہر کی دنیا کے منظر سے کیا لینا دینا میرا میں تو اپنے اندر سے ہی باتیں کرتا رہتا ہوں نظمیں لکھتا رہتا ہوں

مزید پڑھیے

کمرہ

بظاہر تم کو لگتا ہے کہ سب کچھ پاس ہے میرے نہیں ہمدم میں سب کچھ چھوڑ آیا ہوں اسی کچے مکاں کے اوپری کمرے کی دیواروں سے لپٹی چند تصویروں کے رنگوں میں جو اب تک سانس لیتی ہیں وہ تحریریں کتابیں اور تنہائی کی باتیں سب اسی کمرے کے نیلے کارپیٹ پر آج بھی ویسے پڑی ہوں گی میں جیسے رکھ کے آیا ...

مزید پڑھیے

الٹی میٹم

چلو چیزیں سنبھالو سب قلم کاغذ کتابیں حرف لمحے خواب تعبیریں تمہارے قہقہے آنسو تبسم سسکیاں آہیں خموشی چیخ حیرت اور اس میں ڈوبتی راہیں چلو جلدی سمیٹو سب تمہارے خاک میں ملنے کا موسم آن پہنچا ہے

مزید پڑھیے

یہ جور دست زمانہ کہا کہا نہ کہا

یہ جور دست زمانہ کہا کہا نہ کہا کہ دل کا حال کبھی آپ نے سنا نہ کہا جو بات تم سے تھی کہنی فقط تمہی سے کہی ہر ایک بزم میں یہ دل کا ماجرا نہ کہا یہ لوگ رائی کا پربت بنا رہے یوں ہی ترے رویے کو ہم نے تو ناروا نہ کہا خدا کا شکر ستم ناگوار بھی نہ لگے خدا کا شکر کبھی تم کو بے وفا نہ کہا اسے ...

مزید پڑھیے

اور کیا عمر کی کہانی ہے

اور کیا عمر کی کہانی ہے رائیگانی ہی رائیگانی ہے ایک خاکے میں رنگ بھرنا ہے اک کہانی مگر چھپانی ہے مجھ کو تقلید سے بھی بچنا ہے شمع سے شمع بھی جلانی ہے شہر میں اوڑھنی بھی ہے تہذیب دشت میں خاک بھی اڑانی ہے حسن قائم زمیں کا رکھتے ہوئے ایک بستی نئی بسانی ہے ایک بوڑھا یہ کہتا پھرتا ...

مزید پڑھیے

غزل جب تازہ کہتا ہوں پرانی بھول جاتا ہوں

غزل جب تازہ کہتا ہوں پرانی بھول جاتا ہوں فسانہ لکھنے بیٹھوں تو کہانی بھول جاتا ہوں مری رفتار دنیا سے بہت ہی تیز ہوتی ہے رگوں میں خون کی اکثر روانی بھول جاتا ہوں مرے ہاتھوں میں جب بھی وہ حنائی ہاتھ رکھتی ہے میں باتیں سب زمینی اور زمانی بھول جاتا ہوں میں نور آگہی کے قرمزی ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی میان دود دکھائی نہیں دیا

کچھ بھی میان دود دکھائی نہیں دیا حاکم تجھے جمود دکھائی نہیں دیا آیا خیال میرؔ تقیؔ میرؔ کا مجھے اپنا کہیں وجود دکھائی نہیں دیا تحریک میرے جذبوں کو اس سے ملے سدا کیوں جلوۂ حسود دکھائی نہیں دیا بدلا سبھی نے رنگ تو یہ بھی بدل گیا چرخ کہن کبود دکھائی نہیں دیا سب فاصلے عبور ...

مزید پڑھیے

تیری گرہ میں مال فقط چار دن کا ہے

تیری گرہ میں مال فقط چار دن کا ہے جذبوں میں اشتعال فقط چار دن کا ہے بام عروج پر بھی کبھی آؤں گا ضرور ہم دم مرا زوال فقط چار دن کا ہے کس کو خبر سحاب کہاں جا کے روئے گا موسم یہ برشگال فقط چار دن کا ہے تیری سماعتوں کے ہنر کو ملے دوام میرا سخن کمال فقط چار دن کا ہے ہم عشق لازوال کے ...

مزید پڑھیے

رستے رہتے ہیں زخم سینے میں

رستے رہتے ہیں زخم سینے میں لطف آنے لگا ہے جینے میں دل پگھلتا ہے اشک ڈھلتے ہیں آگ سی لگ گئی ہے سینے میں تیری یادوں کی دھوپ ہوتی ہے ڈوب جاتے ہیں ہم پسینے میں اشک بہتے ہیں یاد میں تیری عکس تیرا ہے ہر نگینے میں لوٹ لیتے جو ہوش میں رہتے مال تھا دفن جو دفینے میں اب یہ عالم ہے حضرت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1009 سے 6203