دیار شام نہ برج سحر میں روشن ہوں
دیار شام نہ برج سحر میں روشن ہوں میں ایک عمر سے اپنے ہی گھر میں روشن ہوں ہجوم شب زدگاں سے فرار ہو کر آج جمال شعلۂ شمع سحر میں روشن ہوں میں منتظر ہوں تو پھر منتظر بھی آئے گا چراغ جاں کی طرح رہگزر میں روشن ہوں نہ جانے کب مری ہستی دھواں دھواں ہو جائے میں ایک ساعت نا معتبر میں روشن ...