قومی زبان

دیار شام نہ برج سحر میں روشن ہوں

دیار شام نہ برج سحر میں روشن ہوں میں ایک عمر سے اپنے ہی گھر میں روشن ہوں ہجوم شب زدگاں سے فرار ہو کر آج جمال شعلۂ شمع سحر میں روشن ہوں میں منتظر ہوں تو پھر منتظر بھی آئے گا چراغ جاں کی طرح رہگزر میں روشن ہوں نہ جانے کب مری ہستی دھواں دھواں ہو جائے میں ایک ساعت نا معتبر میں روشن ...

مزید پڑھیے

مچلتے رہتے ہیں بستر پہ خواب میرے لیے

مچلتے رہتے ہیں بستر پہ خواب میرے لیے اتارے جاتے ہیں شب بھر عذاب میرے لیے میں جب سفر کے ارادے سے گھر کو چھوڑتا ہوں سلگتا رہتا ہے اک آفتاب میرے لیے میں تیرا قرض چکاؤں گا وصل کی رت میں تو اپنے اشکوں کا رکھنا حساب میرے لیے رفاقتوں کی شگفتہ بشارتیں تیری تعلقات کے سارے عذاب میرے ...

مزید پڑھیے

لینڈسکیپ

نیلگوں کہرے میں لپٹی شام ہے لفظ سارے اپنی اپنی کشتیوں میں بیٹھ کر لمبے سفر پر جا رہے ہیں میں اکیلا اس کنارے پر کھڑا ہوں حسرتیں دل میں لیے یہ سوچتا ہوں کاش میں بھی ہم سفر ہوتا تو میں بھی دیکھتا کہ کس طرح الفاظ رستوں بستیوں اور منزلوں پر زندگی مرقوم کرتے ہیں

مزید پڑھیے

موت ٹلتی ہے تو دل دکھتا ہے

موت ٹلتی ہے تو دل دکھتا ہے جاں سنبھلتی ہے تو دل دکھتا ہے خواب جھڑ جاتے ہیں پتوں کی طرح رت بدلتی ہے تو دل دکھتا ہے خاک ہونے کا صلہ خاک نہیں شمع جلتی ہے تو دل دکھتا ہے چل چلاؤ کی ہیں زد پر سارے سانس چلتی ہے تو دل دکھتا ہے چاند اک ماند ہوا جب سے شہابؔ رات ڈھلتی ہے تو دل دکھتا ہے

مزید پڑھیے

جب بھی کشتی کے مقابل بھنور آتا ہے کوئی

جب بھی کشتی کے مقابل بھنور آتا ہے کوئی جگمگاتا سر ساحل نظر آتا ہے کوئی بے رخی اس کی دلاتی ہے جہاں کا احساس لیے دنیا کی خبر بے خبر آتا ہے کوئی شدت یاس میں چپکے سے اجالوں کی طرح میرے تاریک خیالوں میں در آتا ہے کوئی تن تنہا تو سفر دل پہ گراں گزرے گا منتظر ہوں کہ مرے ساتھ اگر آتا ہے ...

مزید پڑھیے

مسمار ہوں کہ خود کو اٹھانے لگا تھا میں

مسمار ہوں کہ خود کو اٹھانے لگا تھا میں مٹی سے آسمان بنانے لگا تھا میں بے اختیار آنکھوں سے آنسو نکل پڑے تصویر سے غبار ہٹانے لگا تھا میں آواز دے کے روک لیا اس نے جس گھڑی مایوس ہو کے لوٹ کے جانے لگا تھا میں بھٹکا ذرا جو دھیان مرے ہاتھ جل گئے بوسیدہ کاغذات جلانے لگا تھا میں افسوس ...

مزید پڑھیے

بینائی کو پلکوں سے ہٹانے کی پڑی ہے

بینائی کو پلکوں سے ہٹانے کی پڑی ہے شہکار پہ جو گرد زمانے کی پڑی ہے آساں ہوا سچ کہنا تو بولے گا مورخ فی الحال اسے جان بچانے کی پڑی ہے چھوٹا سا پرندہ ہے مگر سعی تو دیکھو جنگل سے بڑی آگ بجھانے کی پڑی ہے چھلنی ہوا جاتا ہے ادھر اپنا کلیجا یاروں کو ادھر ٹھیک نشانے کی پڑی ہے حالات ...

مزید پڑھیے

تا بام فلک خاک بسر آنے لگا ہوں

تا بام فلک خاک بسر آنے لگا ہوں جس سمت اشارہ تھا ادھر آنے لگا ہوں جب تک تری آنکھوں میں نہیں تھا تو نہیں تھا اب دیکھنے والوں کو نظر آنے لگا ہوں مت کاٹنا رستہ مرا بن کر خط امکاں اے در بدری لوٹ کے گھر آنے لگا ہوں اک وہم سہی پھر بھی مری نفی ہے دشوار اے دوست ہر آہٹ پر اگر آنے لگا ...

مزید پڑھیے

منظر کئی بارش سے زمیں پر اتر آئے

منظر کئی بارش سے زمیں پر اتر آئے پیڑوں کی طرح لوگوں کے چہرے نکھر آئے محکم نہ زمیں سے ہو تعلق ہی جڑوں کا اس پیڑ پہ آئے بھی تو کیسے ثمر آئے پسپائی نہیں ہے تو ہے پچھتاوا یقیناً ہم لوگ جو منزل سے بھی آگے گزر آئے شاید کسی محرومی کا اظہار ہوا ہے مضمون محبت کے جو شعروں میں دھر ...

مزید پڑھیے

شام آئی تو بہر سمت نمودار ہوا

شام آئی تو بہر سمت نمودار ہوا تجھ سے اچھا تو ترا سایۂ دیوار ہوا اک تری یاد کہ مانند سحر روشن ہے اک ترا نام کہ مجھ کو ابد آثار ہوا جب میں سویا تو رکھا اس نے مرے ہاتھ پہ ہاتھ بخت کم بخت بھی کس وقت پہ بیدار ہوا ایک سائل ہے ترے در کا سبھی جانتے ہیں ہاں وہی شخص کہ جو گاؤں کا سردار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1008 سے 6203