اب تک تھے وابستہ جو الفاظ کے تانوں بانوں سے
اب تک تھے وابستہ جو الفاظ کے تانوں بانوں سے اپنی قیمت مانگ رہے ہیں بے قدرے انسانوں سے موجوں کے قرطاس پہ دیکھو دست قدرت کا عالم ایک مقالہ لکھتا ہے وہ کتنے ہی عنوانوں سے جب سے ہے سینے کے اندر ہر سو طاری سناٹا وحشت ہے نہ خوف رہا ہے اس دل کو ویرانوں سے کتنے ہی خورشید اگرچہ امیدوں ...