شاعری

اب تک تھے وابستہ جو الفاظ کے تانوں بانوں سے

اب تک تھے وابستہ جو الفاظ کے تانوں بانوں سے اپنی قیمت مانگ رہے ہیں بے قدرے انسانوں سے موجوں کے قرطاس پہ دیکھو دست قدرت کا عالم ایک مقالہ لکھتا ہے وہ کتنے ہی عنوانوں سے جب سے ہے سینے کے اندر ہر سو طاری سناٹا وحشت ہے نہ خوف رہا ہے اس دل کو ویرانوں سے کتنے ہی خورشید اگرچہ امیدوں ...

مزید پڑھیے

دل یہ کہتا ہے کہ ملنے کی کوئی بات کرے

دل یہ کہتا ہے کہ ملنے کی کوئی بات کرے کوئی تو آئے جو تجدید ملاقات کرے ہے بہت تیرہ صفت چادر خورشید یہاں دن کو آغوش میں بھر لے تو اسے رات کرے یاد ہے حرف دعا بہر مناجات مگر روز و شب اس کے لیے کون مناجات کرے اس کے جانے پہ تو خاموش رہے گی یہ زباں دل کا معلوم نہیں کتنے سوالات کرے رشک ...

مزید پڑھیے

جھونکا ہوا کا ادھ کھلی کھڑکی تک آ نہ جائے

جھونکا ہوا کا ادھ کھلی کھڑکی تک آ نہ جائے جینے کا اس کو کوئی سلیقہ سکھا نہ جائے کنکر سے چکناچور ہے سیال آئنہ قرطاس موج کا کوئی لکھا مٹا نہ جائے عریاں کھڑی ہوئی یہ سیہ سی پہاڑ شب سورج کی انفعالی نظر کو جھکا نہ جائے جب سے ہوئی ہے میری زباں زہر آشنا امرت کا ایک گھونٹ بھی مجھ سے پیا ...

مزید پڑھیے

نشاں قدم کا سر رہ گزر نہ تھا کوئی

نشاں قدم کا سر رہ گزر نہ تھا کوئی ادھر کا رخ کیا ہم نے جدھر نہ تھا کوئی سفر سلگتے ہوئے موسموں کا تھا در پیش دہکتی دھوپ تھی سر پر شجر نہ تھا کوئی تھی چیخ سی کوئی گونجی فضا میں آخری بار جمود سنگ میں پھر شور و شر نہ تھا کوئی عجیب سلسلہ اک دستکوں کا تھا شب بھر کواڑ کھول کے دیکھے مگر ...

مزید پڑھیے

بند کمرے کے باہر بھی ہے زندگی (ردیف .. ے)

بند کمرے کے باہر بھی ہے زندگی کھڑکیاں کھول کر دیکھنا چاہئے اتنے الزام اور اک اکیلا خدا اپنی مرضی کا سب کو خدا چاہئے سب پہ اظہار حالات اچھا نہیں بند مٹھی کو کم کھولنا چاہئے شہر سے اور کوئی شکایت نہیں سانس لینے کو تھوڑی ہوا چاہئے تھک چلے پنکھ بھی چھا گئی دھند بھی شام ہونے کو ہے ...

مزید پڑھیے

وہیں ترک سفر کر لینا لنگر چھوڑ دینا

وہیں ترک سفر کر لینا لنگر چھوڑ دینا اترنے جب لگے طوفاں سمندر چھوڑ دینا وہ میرا ہونا ثابت گوہر نایاب آخر وہ اس کا سنگ بے مایہ سمجھ کر چھوڑ دینا کوئی اوتار تو ہرگز نہیں ہم پھر بھی جل پر ہمارے نام کا تم ایک پتھر چھوڑ دینا مرے پر ناپ آئیں گے مکان و لا مکاں سب کھلے آکاش میں مجھ کو ...

مزید پڑھیے

شدت نفرت ہو دل میں اور عمل نفرین تر

شدت نفرت ہو دل میں اور عمل نفرین تر خود بخود ہوتے ہیں پھر حالات بھی سنگین تر اتنی اشک آور نگاہوں سے ملی باد صبا ہو گئی ہے شہر کی ساری فضا نمکین تر بانٹتے تھے جو کبھی اب خود سوالی بن گئے دیکھتے ہی دیکھتے سب ہو گئے مسکین تر جب کبھی اس سر زمیں پہ میں نے حق کی بات کی اپنے ہی خوں سے ...

مزید پڑھیے

کن کی منزل پر رکا ہے قافلہ تقدیر کا

کن کی منزل پر رکا ہے قافلہ تقدیر کا بس کہ ہے ناقد مصور اپنی ہی تصویر کا مل نہ پائے گی رہائی وقت کے زندان سے صورت شام و سحر ہے سلسلہ زنجیر کا زندگی اپنی بسر ہوتی ہمیشہ خواب میں خواب میں کھلتا نہیں عقدہ اگر تعبیر کا وارث کون و مکاں ہیں کہکشاں در کہکشاں کیوں نہ ہو وابستہ ہم سے ...

مزید پڑھیے

نئی رات اک مرتب ہو رہی ہے

نئی رات اک مرتب ہو رہی ہے گھنی برسات جگنو بو رہی ہے نئے جاڑے کی کچی دھوپ تنہا مرے گھر میں پسر کر سو رہی ہے کہیں سیلاب تو آیا نہیں ہے کنارے پر ٹٹہری رو رہی ہے

مزید پڑھیے

تماشا ہائے سحر کن‌ فکاں ہم دیکھ آئے ہیں

تماشا ہائے سحر کن‌ فکاں ہم دیکھ آئے ہیں تری شاہی کے سب راز نہاں ہم دیکھ آئے ہیں خزاں آوارہ پتے کیوں ہوا میں رقص کرتے ہیں یہ ہم سے پوچھ لو سب این و آں ہم دیکھ آئے ہیں تری تصویر میں یہ رنگ حیرت خون ہے اپنا لکھا کیا ہے سر اوراق جاں ہم دیکھ آئے ہیں لگی تھی آگ کس گھر میں نہیں معلوم ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 865 سے 5858