شاعری

خونیں گلاب سبز صنوبر ہے سامنے

خونیں گلاب سبز صنوبر ہے سامنے آنکھوں میں قید کرنے کا منظر ہے سامنے فوج سیاہ چاروں طرف محو گشت ہے خنجر برہنہ رات کا لشکر ہے سامنے وہ سانس لے رہا ہے مگر زندگی کہاں شیشے میں بند لاکھ کا پیکر ہے سامنے اترا کے چل شعور کی ٹھوکر بھی کھا کے دیکھ بے لمس آگہی کا وہ پتھر ہے سامنے فطرت پہ ...

مزید پڑھیے

بے آب و بے گیاہ ہوا اس کو چھوڑ کر

بے آب و بے گیاہ ہوا اس کو چھوڑ کر کیسے بجھاؤں پیاس میں پتھر نچوڑ کر وہ بھی عجیب شام تھی جن ساعتوں کے بیچ میں بھی بکھر بکھر گیا شیشے کو توڑ کر میں گھر گیا ہوں رنگ سپید و سیاہ میں وہ خوش ہے زعفران کی اک شاخ توڑ کر کچھ اور تیز ہو گئی اندر کی روشنی اک پل بھی مل سکا نہ سکوں آنکھ پھوڑ ...

مزید پڑھیے

کسی نے ایسا طلسم یقیں نہیں دیکھا

کسی نے ایسا طلسم یقیں نہیں دیکھا کہ اس کے بعد اسے پھر کہیں نہیں دیکھا یہ کس نے دشت کی تصویر آنکھ میں رکھ دی سکوت ایسا برہنہ نشیں نہیں دیکھا سرائے شب میں جو ٹھہرے تھے کیا ہوئے آخر غبار راہ دم واپسیں نہیں دیکھا ستارے ٹوٹ کے گرتے تھے جانماز پہ رات کہ ایسا عرش نے صاحب جبیں نہیں ...

مزید پڑھیے

لگا لیا تھا گلے اس نے با وفا کہہ کر

لگا لیا تھا گلے اس نے با وفا کہہ کر ہمیں نے ٹال دیا حرف آشنا کہہ کر کف طلب پہ کبھی تو مرے حضور لکھو حنا کے نقش کو تحریر خوں بہا کہہ کر کچھ ایسی شکل مجھے روبرو دکھائی دی نظر پلٹ گئی آئینۂ ریا کہہ کر اڑا کے لے گئی موج صبا نہ جانے کہاں تمہارے جسم کی خوشبو کو آشنا کہہ کر فصیل وقت سے ...

مزید پڑھیے

ہوس وقت کا اندازہ لگایا جائے

ہوس وقت کا اندازہ لگایا جائے رات پاگل ہوئی دروازہ لگایا جائے آشنا شہر کی آنکھوں میں نیا شخص لگوں ایسا چہرے پہ کوئی غازہ لگایا جائے بیتے موسم میں جو پھل آئے کسیلے نکلے اب کوئی پیڑ یہاں تازہ لگایا جائے بھاگتے دوڑتے شہروں کو پنہا کر زنجیر خلوت جاں کا بھی اندازہ لگایا جائے میں ...

مزید پڑھیے

کیسے منزل پہ پہنچ پائیں گے جانے والے

کیسے منزل پہ پہنچ پائیں گے جانے والے راستہ بھول گئے راہ بتانے والے کس طرح میں نے گزارے ہیں شب و روز مرے کیا تجھے یاد نہیں مجھ کو رلانے والے کرسیاں پانے کی لوگوں کی سیاست دیکھو آج شرمندہ ہیں مسجد کو گرانے والے موسموں کی طرح تبدیل ہوا کرتے ہیں رہنما آج کے خوابوں کے دکھانے ...

مزید پڑھیے

کوسا دودھ

تو یہ دودھ کوسا ہے! یہ دودھ ہے اور کوسا ہے جس سے بدن کی نسیں اونگھ جاتی ہیں جس سے مرے دل کی باقاعدہ دھڑکنوں میں اضافے کی صورت نہیں یہ وہی دودھ ہے جس کو فرہاد کی گرمیٔ شوق نے بیستوں کی سیہ چوٹیوں سے اتارا تو اس کے لہو کی حرارت کا جویا ہوا پھر بھی کوسا رہا یہ وہی دودھ ہے چاندنی بن کے ...

مزید پڑھیے

غنچے وہی ہیں گل وہی گلزار بھی وہی

غنچے وہی ہیں گل وہی گلزار بھی وہی دست جنوں سنبھلنا کہ ہیں خار بھی وہی ہیں انتظار سنگ میں اسمار بے شمار اور انکسار سے جھکے اشجار بھی وہی خوش ہو کے جھوم لیتی ہے اکثر تو زندگی لیکن وفور غم سے ہے بیزار بھی وہی ہے شہریار جس کو نہ ہو زر کی احتیاج اہل دول کے شہر میں مختار بھی وہی مر ...

مزید پڑھیے

ترے مزاج ترے خلق تیری خو میں رہا

ترے مزاج ترے خلق تیری خو میں رہا یہ انکسار تری ذات میں لہو میں رہا خموشیوں سے ہیں ظاہر متانتیں جو تری ترا سلیقہ عیاں تری گفتگو میں رہا میں خود کو کھو کے تجھے پا لیا زہے قسمت زمانہ سارا یہاں تیری جستجو میں رہا بہکتے دل میں رہا تیرے حسن کا وہ سرور خمار عشق مری روح کے سبو میں ...

مزید پڑھیے

تم سے یہ کب کہا ہے کہ اکثر ملا کرو

تم سے یہ کب کہا ہے کہ اکثر ملا کرو مجھ سے مرے جنوں کے برابر ملا کرو میں تم سے جب ملوں تو مکمل ملا کروں تم مجھ سے جب ملو تو سراسر ملا کرو نامہ برائے نصف ملاقات بھول جاؤ تکمیل کار خیر کو آ کر ملا کرو ملتا نہیں وجود کے باہر کسی سے میں مجھ سے مرے وجود کے اندر ملا کرو داد جمال و حسن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 866 سے 5858