شاعری

میں اجنبی نہیں

مرے خدا تو مرے قلب کو منور کر مرے وجود کو بہتر سے اور بہتر کر مری حیات ترے ذکر میں گزر جائے کرم بس اتنا اے پروردگار مجھ پر کر اگر ہے سر پہ مرے آفتاب ہی رکھنا نصیب میں ہے اگر اضطراب ہی رکھنا تو اے خدائے کریم اک یہی دعا سن لے ہر امتحاں میں مجھے کامیاب ہی رکھنا مرا ضمیر کبھی داغدار ...

مزید پڑھیے

بے رنگ شجر

زندگی کی شاخ سے زرد پتوں کی صورت ایک ایک کرکے رنگ برنگی آرزوئیں ٹوٹ کر گرتی جا رہی ہیں خاک ہوتی جا رہی ہیں شجر وجود کا بے برگ ہوتا جا رہا ہے محرومیوں کے ہاتھوں اجڑتا جا رہا ہے

مزید پڑھیے

سماعت کا دھوکا

کھلا ہوا دروازہ ہاں مگر دبیز پردہ گرا ہوا باہر سے کھلے پٹ پہ ایک دستک اندر سے آواز آئے سماعت کا دھوکا آئیے پردہ کا ہٹنا چوڑیوں کا کھنک اٹھنا حیرتوں کا حملہ شرمندگی کی چھینٹیں سکوت کی فتح ندامت کے آنسو دوستی کا واسطہ

مزید پڑھیے

پھول لٹاتے بچے

ہنستے بچے گاتے بچے جیون جوت جگاتے بچے لاکھوں سوانگ رچاتے بچے گھر بھر کو بہلاتے بچے امی کو سمجھاتے بچے ڈیڈی سے اتراتے بچے اپنے بھولے پن سے سب کی بگڑی بات بناتے بچے گھر سے پڑھنے پڑھ کے گھر کو آتے بچے جاتے بچے جیون کی سنسان ڈگر پر لاکھوں پھول لٹاتے بچے ایک خوشی کی چنگاری سے پل پل دیپ ...

مزید پڑھیے

شرارت پہ تماشا

ساتھی نے کی شرارت اور مار میں نے کھائی باجی نے کی شکایت ابو نے کی پٹائی سب گھر میں سو گئے جب وہ چپکے چپکے اٹھا آہستہ سے کچن میں چوروں کی طرح پہنچا کھرچی توے سے کالک پھر اس میں تیل ڈالا لے کر کچن سے نکلا کالک بھرا پیالہ سب نیند میں تھے کھوئے سب بے خبر تھے سوئے لایا تلاش کر کے روئی کے ...

مزید پڑھیے

افق سے جب بھی نیا آفتاب ابھرے گا

افق سے جب بھی نیا آفتاب ابھرے گا بشکل کرب برنگ عذاب ابھرے گا ہر ایک موج سمندر میں چھپ کے بیٹھ گئی اس اک یقیں پہ کبھی تو حباب ابھرے گا یہ گہری ہوتی ہوئی خامشی بتاتی ہے وہ دن قریب ہے جب انقلاب ابھرے گا ندی وہ ریت کی ہوگی جدھر بھی دیکھو گے لگے گی پیاس تو ہر سو سراب ابھرے گا میں ...

مزید پڑھیے

اے نئے دور کوئی خواب نیا لے آنا

اے نئے دور کوئی خواب نیا لے آنا ڈوبنا ہے مجھے سیلاب نیا لے آنا کوئی اب سننے کو تیار نہیں کہنہ صدا شہر آشوب میں مضراب نیا لے آنا تیرگی اتنی کہ آنکھوں کا بھی دم گھٹتا ہے ہو سکے تو کوئی مہتاب نیا لے آنا اس سے پہلے کہ تمہیں جھیل کوئی کہہ اٹھے ذہن کی ندی میں گرداب نیا لے آنا خود کو ...

مزید پڑھیے

جدھر بھی دیکھیے اک پھیکا پھیکا منظر ہے

جدھر بھی دیکھیے اک پھیکا پھیکا منظر ہے نظر نظر کے لیے بے بسی کا منظر ہے نہ تتلیاں ہیں نہ بھنورے نہ کوک کوئل کی بہار رت میں بھی بے منظری کا منظر ہے سزا کے بعد بھی پھرتا ہے سر اٹھائے ہوئے ادھر نہ دیکھو وہ اب بھی نفی کا منظر ہے کرن بھی پھوٹ پڑی شاخیں بھی ہوئیں خالی مگر سڑک پہ ابھی ...

مزید پڑھیے

یہ کیسی وادی ہے یہ کیسا اک قبیلہ ہے

یہ کیسی وادی ہے یہ کیسا اک قبیلہ ہے ہر ایک جسم سمندر کی طرح نیلا ہے تنا ہوا جو کبھی رہتا تھا کماں کی طرح اسی بدن کا ہر اک جوڑ آج ڈھیلا ہے بھلانا تم کو بہت ہی محال ہے پیارے تمہارے واسطے جذبہ جو ہے ہٹیلا ہے یہ کیسے سمجھوں کہ تم بھی ہو ہم سفر میرے تمہارے شہر کا ماحول تو رنگیلا ...

مزید پڑھیے

امید مری شہزادی تھی

امی کی محبت ملتی ہے ابو کی بھی شفقت ملتی ہے اے ماضی ترے اک دامن سے کیا کیا مجھے دولت ملتی ہے بچپن کا زمانہ تجھ میں ہے ہر لمحہ سہانا تجھ میں ہے جو خوابوں کو دستک دیتا تھا وہ عہد پرانا تجھ میں ہے ناکامی نہ یہ نا شادی تھی بے فکری تھی آزادی تھی شہزادہ تھا میں ارمانوں کا امید مری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 836 سے 5858