شاعری

سفر سے لوٹتے لمحوں میں

وہ جسم جس کو اندھیرے نے چاندنی میں بنا وہ جسم جس کو تراشا نہیں گیا تھا مگر وہ جسم خود ہی تراشا ہوا تھا اک پیکر وہ جسم جس کے وسیلے سے اس جزیرے کی جو سیر میں نے کبھی کی تھی بھولنا ہے عبث وہ فاصلہ کہ جو صدیوں میں طے نہیں ہوگا وہ طے ہوا تھا فقط صرف چند لمحوں میں مری رگوں میں ابھی خون ...

مزید پڑھیے

خار ہی خار دے گلاب نہ دے

خار ہی خار دے گلاب نہ دے زندگی تو مجھے سراب نہ دے تیرے چہرے کا جس میں عکس نہ ہو مجھ کو ایسی کوئی کتاب نہ دے اب تو بستر کو نیند آ جائے اب تو تکیے کو اضطراب نہ دے اپنا ماضی بڑا بھیانک ہے شیشہ گر آئنے پہ آب نہ دے بند کر لے جو اپنی مٹھی میں ایسے ہاتھوں میں آفتاب نہ دے اپنے شہزادؔ کو ...

مزید پڑھیے

بس اک نظر سے ہی تصویر کر گیا یہ کون

بس اک نظر سے ہی تصویر کر گیا یہ کون مرے وجود کو زنجیر کر گیا یہ کون کتاب زیست پہ میں تھا بجھا ہوا اک حرف سنہرے رنگ میں تحریر کر گیا یہ کون ہے میرے جسم میں اب تک وہ لمس کی خوشبو زمین دشت کو تسخیر کر گیا یہ کون ہر ایک کوچہ ہے ساکت ہر اک سڑک ویران ہمارے شہر میں تقریر کر گیا یہ ...

مزید پڑھیے

زمیں پہ پاؤں کہیں سر پہ آسمان نہیں

زمیں پہ پاؤں کہیں سر پہ آسمان نہیں وہ سانحہ ہے کہ جو قابل بیان نہیں تم اپنے پیچھے سراغ اپنا چھوڑ جاؤ گے کہ تم سے اچھی یہ دھرتی ہے جو چٹان نہیں جزیرے والو ہو کیوں اپنے حال پہ شاداں فضائے بحر کا ہر لمحہ با امان نہیں اس ایک لمس سے اب تک سلگ رہا ہوں میں کہ اس بدن سا کوئی اور شعلہ دان ...

مزید پڑھیے

قسمت میں نیک فال نہ کل تھا نہ آج ہے

قسمت میں نیک فال نہ کل تھا نہ آج ہے کوئی شریک حال نہ کل تھا نہ آج ہے میں بھی بدل سکا نہ مزاج اپنا آج تک اس میں بھی اعتدال نہ کل تھا نہ آج ہے اس کی جبیں پہ اس لیے پڑتی نہیں شکن دل مال یرغمال نہ کل تھا نہ آج ہے جس سے مری حیات کی بڑھ جائے تشنگی نظروں میں ایسا تال نہ کل تھا نہ آج ...

مزید پڑھیے

استعارہ ہے وہ اک تمثیل ہے

استعارہ ہے وہ اک تمثیل ہے تیرگی کے شہر میں قندیل ہے دل کشی نظاروں کی جاتی رہی وہ پرندہ ہے نہ اب وہ جھیل ہے فاختہ امن و اماں کی کیوں رہے گنبدوں کی تاک میں جب چیل ہے رنگ جیسا بھی ہو تیری جلد کا دل تو تیرا اب بھی مثل بھیل ہے پھر بھی لہجہ ہے نیا شہزادؔ کا گو کہ اس کے شعر میں ترسیل ...

مزید پڑھیے

نیا آدم

برسوں کی ریاضت کے بعد زندگی کے تمام نمایاں اصولوں کے فولاد بنتے ہوئے سے دائروں کو توڑ کر ٹھیک دل کے بیچوں بیچ ایک انچ چھید کرنے کی کامیاب ٹریننگ ہم نے لے لی ہے اور اب تو جس تھالی میں کھاتے ہیں اس میں چھید کرنے کا گر بھی ہمیں آ گیا ہے مانا کہ درندوں کے بھی شکار کرنے کے اپنے اصول ...

مزید پڑھیے

ہجرتوں کا دکھ

نیا پرانا ہو کوئی موسم تلاش جائے اماں رہے گی بہت دنوں تک دلوں کی سرحد پر پھر تشدد کی جنگ ہوگی اصول کی دھجیاں اڑیں گی گلی گلی میں قبیح لمحوں کے دیوتاؤں کا رقص ہوگا بہت دنوں تک فضا میں گرد و غبار ہوگا دھواں دھواں زندگی کی راہوں میں خار و خس کا حصار ہوگا بہت دنوں تک لہو لہو آسمان ...

مزید پڑھیے

منظر یوں تھا

شام رخصت ہو چکی تھی احساس کے تلووں کو سہلا کر کتنا سکون ملا تھا تب ننگے پاؤں گھاس پر چلنے کو بڑا دل چاہا کہ اچانک رات آئی سیاہ کفن میں اپنا منہ چھپائے اور بے ترتیب شب و روز کے درمیان ٹنگی ہوئی الگنی پر مجبور زندگی اپنے کرتب دکھلانے لگی اور رات جس طرح آسمان پر آوارہ بادلوں کے ...

مزید پڑھیے

طلسم سفر

ایک دہشت زدہ نیم تاریک جنگل میں عقل و خرد کی ضرورت نہیں شاعری اور فکشن کی پرچھائیوں کا میں پیچھا کروں اور سپنے بنوں ایسی عادت نہیں نیم تاریک جنگل کے لمبے سفر پہ جو نکلے ہو تم تو سن لو نیم تاریک جنگل میں چاروں طرف ابوالہول سے واسطہ بھی پڑے گا تمہارا کئی شکل میں ورغلائیں گی تم کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 837 سے 5858