شاعری

کیا یہ فریب گردش شمس و قمر نہیں

کیا یہ فریب گردش شمس و قمر نہیں اب شب بھی شب نہیں ہے سحر بھی سحر نہیں آئینہ کہہ رہا ہے کہ تنہا نہیں ہوں میں حیرت کی بات یہ کہ کوئی ہم سفر نہیں کہتے ہیں دیدہ ور کہ بیاباں کہو اسے وہ گلستاں کہ جس میں کوئی دیدہ ور نہیں صورت جو دیکھیے تو ہر اک میر کارواں منزل سے پوچھئے تو کوئی راہبر ...

مزید پڑھیے

دست وحشت میں گریبان سا ہوں

دست وحشت میں گریبان سا ہوں کچھ دنوں سے میں پریشان سا ہوں کہہ رہا ہے یہ ترا حسن و جمال غالبؔ و میرؔ کا دیوان سا ہوں اور کچھ دیر مرے ساتھ رہو اور کچھ دیر کا مہمان سا ہوں روح کہتی ہے کہ الزام نہ دے جسم کہتا ہے کہ بے جان سا ہوں صورتیں دیکھ رہا ہوں نشترؔ مثل آئینہ ہوں حیران سا ہوں

مزید پڑھیے

چاہا بیاں کروں جوں ہے میرے خیال میں

چاہا بیاں کروں جوں ہے میرے خیال میں معنی الجھ کے رہ گئے لفظوں کے جال میں جیتا ہے کون بحث میں مورکھ سے آج تک بے کار کیوں الجھتے ہو تم قیل و قال میں لے جانے والے لوٹ کے سب کچھ چلے گئے ہم سوچتے ہی رہ گئے کالا ہے دال میں ممکن ہے ان کے در سے ٹکا سا ملے جواب لیکن نہ ہچکچائیے اپنے سوال ...

مزید پڑھیے

منی کی باتیں

بنا کے منہ تو مرے سامنے کھڑی کیا ہے مجھے بتا تو کسی سے ابھی لڑی کیا ہے سمجھ رہا ہوں چلی آئی ہے جگانے مجھے ذرا سا اور ٹھہر جاتی ہڑبڑی کیا ہے ابھی نہ پوری ہوئی نیند دس بجے کیسے ہمیشہ تیز جو چلتی رہے گھڑی کیا ہے گھڑی کو ڈاکٹر صاحب کے پاس لے جاؤ انہیں دکھاؤ اسے اس میں گڑبڑی کیا ہے ابھی ...

مزید پڑھیے

خرد کی زد میں اگر گلستاں بھی آتا ہے

خرد کی زد میں اگر گلستاں بھی آتا ہے یقین عالم وہم گماں بھی آتا ہے گواہ غنچہ و گل ہیں بہار کا موسم مرے چمن میں برنگ خزاں بھی آتا ہے ترے حضور ہے گویا مرے لبوں کا سکوت نگاہ عشق کو حسن بیاں بھی آتا ہے مرے سلگنے کا احوال سننے والوں کو جو اٹھ رہا ہے نظر وہ دھواں بھی آتا ہے نگاہ پڑتی ...

مزید پڑھیے

امتیاز غم و خوشی نہ رہا

امتیاز غم و خوشی نہ رہا کوئی احساس زندگی نہ رہا ہم نے اے دل تجھے بھی دیکھ لیا اب ترا اعتبار بھی نہ رہا ان سے کہتے خرد کا افسانہ کیا کہیں ہم کو ہوش ہی نہ رہا جستجو میں تری طلب میں تری مجھ کو تیرا خیال بھی نہ رہا خود سے رہتا ہوں بے خبر لیکن آپ سے بے خبر کبھی نہ رہا آپ کے بعد زندگی ...

مزید پڑھیے

کرنی ہے راہ زیست جو ہموار دوستو

کرنی ہے راہ زیست جو ہموار دوستو کیوں ڈھونڈتے ہو سایۂ دیوار دوستو ارزاں کچھ اتنی ہو گئی جنس وفا کہ اب ملتا نہیں ہے کوئی خریدار دوستو مدت ہوئی متاع دل و جاں لٹے ہوئے اب بھی وہی ہے گرمئ بازار دوستو خون جگر سے لکھتے چلو نقش پا کے ساتھ کیا کہہ رہی ہے وقت کی رفتار دوستو نشترؔ بتائے ...

مزید پڑھیے

منزل پہ پہنچتے ہی ستم ٹوٹ رہے ہیں

منزل پہ پہنچتے ہی ستم ٹوٹ رہے ہیں اے ضبط فغاں دیکھ کہ ہم ٹوٹ رہے ہیں کیوں زیست کو الفاظ و معانی نہیں ملتے کیوں صفحۂ ہستی پہ قلم ٹوٹ رہے ہیں اس دور پر آشوب میں اب اپنے ہی ہاتھوں اپنے ہی تراشیدہ صنم ٹوٹ رہے ہیں کر دیکھیں کچھ اپنی ہی وفاؤں میں اضافہ ہم ان کی جفاؤں سے تو کم ٹوٹ رہے ...

مزید پڑھیے

کس کی یادوں کا فیض جاری ہے

کس کی یادوں کا فیض جاری ہے کس لئے اتنی آہ و زاری ہے سی لئے ہونٹ پی لئے آنسو یہ ہی تہذیب انکساری ہے کس کی یادوں میں جاگتے ہو تم کس کے خوابوں کی ذمہ داری ہے صرف عنواں بدل دیا تم نے ورنہ یہ داستاں ہماری ہے جتنے احسان ہیں تمہارے ہیں جو خطا ہے فقط ہماری ہے میرؔ صاحب بھی خوب کہتے ...

مزید پڑھیے

تیری یادیں ہلاک کر دیں گی

تیری یادیں ہلاک کر دیں گی قصۂ زیست پاک کر دیں گی خواہشیں خنجروں کی ہیں مانند یہ مرے دل کو چاک کر دیں گی شہرتوں پر غرور مت کرنا یہ تجھے مثل خاک کر دیں گی یہ ہمارے لہو کی چھیٹیں ہیں تیرے دامن کو پاک کر دیں گی غم کی تاریکیاں بھی ممکن ہے زندگی تابناک کر دیں گی شاکرؔ آ جاؤ اب مری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 834 سے 5858