شاعری

ڈوبتے سورج کا منظر وہ سہانی کشتیاں

ڈوبتے سورج کا منظر وہ سہانی کشتیاں پھر بلاتی ہیں کسی کو بادبانی کشتیاں اک عجب سیلاب سا دل کے نہاں خانے میں تھا ریت ساحل دور تک پانی ہی پانی کشتیاں موج دریا نے کہا کیا ساحلوں سے کیا ملا کہہ گئیں کل رات سب اپنی کہانی کشتیاں خامشی سے ڈوبنے والے ہمیں کیا دے گئے ایک انجانے سفر کی ...

مزید پڑھیے

جو سامنے ہے مرے وہ غبار کیا ہوگا

جو سامنے ہے مرے وہ غبار کیا ہوگا اب اس سے بڑھ کے مرا انتشار کیا ہوگا تمام ذرے بکھر کر سمیٹ لیں گے مجھے یہ جانتا ہوں سر کہسار کیا ہوگا ہر ایک عہد میں ٹوٹا ہوں پھر بھی جانتا ہوں شکستہ لوگوں میں میرا شمار کیا ہوگا ہر ایک شخص جہاں اپنے آپ میں گم ہو وہاں ہم اہل ہنر کا شمار کیا ...

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ چراغوں کو وہ بجھتا دیکھے

اس سے پہلے کہ چراغوں کو وہ بجھتا دیکھے اس سے کہنا کہ وہ آئے مرا چہرہ دیکھے اس سے کہنا مرے چہرے سے یہ آنکھیں لے جائے اس سے کہنا کہ کہاں تک کوئی رستہ دیکھے میں نے دیکھا ہے سمندر میں اترتا سورج اس سے کہنا کہ مشیت کا اشارا دیکھے اس سے کہنا یہ منادی بھی کرا دی جائے کوئی اس عہد میں اب ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں ہجر چہرے پہ غم کی شکن تو ہے

آنکھوں میں ہجر چہرے پہ غم کی شکن تو ہے مجھ میں سجی ہوئی مگر اک انجمن تو ہے سانسوں کو اس کی یاد سے نسبت ہے آج بھی مجھ میں کسی بھی طور سہی بانکپن تو ہے ہر صبح چہچہاتی ہے چڑیا منڈیر پر ویران گھر میں آس کی کوئی کرن تو ہے ممکن ہے اس کا وصل میسر نہ ہو مجھے لیکن اس آرزو سے مرا گھر چمن تو ...

مزید پڑھیے

مرے اطراف یہ کیسی صدائیں رقص کرتی ہیں

مرے اطراف یہ کیسی صدائیں رقص کرتی ہیں کہ یوں لگتا ہے مجھ میں اپسرائیں رقص کرتی ہیں اسی امید پر شاید کبھی خوشبو کوئی اترے مری یادوں کے آنگن میں ہوائیں رقص کرتی ہیں میسر ہی نہیں آتی مجھے اک پل بھی تنہائی کہ مجھ میں خواہشوں کی خادمائیں رقص کرتی ہیں مجھے ہر شام اک سنسان جنگل ...

مزید پڑھیے

روح کو اپنی تہہ دام نہیں کر سکتا

روح کو اپنی تہہ دام نہیں کر سکتا میں کبھی صبح سے یوں شام نہیں کر سکتا عمر بھر ساتھ تو رہ سکتا ہوں تیرے لیکن اپنی آنکھیں میں ترے نام نہیں کر سکتا تجھ کو اتنا نہیں معلوم مرے بارے میں شرط رکھ کر میں کوئی کام نہیں کر سکتا مجھ پہ ہر اک سے محبت کی یہ تہمت نہ لگا میں کہ اس جذبے کو یوں ...

مزید پڑھیے

میں نے ہاتھوں میں کچھ نہیں رکھا

میں نے ہاتھوں میں کچھ نہیں رکھا ایسی باتوں میں کچھ نہیں رکھا اک سوا تیرے درد کے میں نے اپنی آنکھوں میں کچھ نہیں رکھا میری راتوں کا پوچھتے کیا ہو میری راتوں میں کچھ نہیں رکھا اک تسلی سی ہے روشؔ ورنہ رشتے ناطوں میں کچھ نہیں رکھا

مزید پڑھیے

دل بھی بضد ہے اور تقاضائے یار بھی

دل بھی بضد ہے اور تقاضائے یار بھی اک بوجھ ہے انا کا لبادہ اتار بھی اپنی شکستگی کا مجھے غم نہیں مگر بکھرے پڑے ہوئے ہیں یہاں وضع دار بھی وہ قہر ہے کہ دشت و بیاباں پہ بس نہیں اڑتی ہے خاک اب کے سر کہسار بھی گھٹ جائے گا شکستہ بدن کے حصار میں تو اپنے آپ کو کہیں رک کر پکار بھی خود کو ...

مزید پڑھیے

دن مہینے سال سب کے سب لگے بیمار سے

دن مہینے سال سب کے سب لگے بیمار سے جھانکتی ہیں ہڈیاں اب وقت کی دیوار سے اب سیاہی کی گھنی شاخوں کا ماتم کیجئے پتیاں جھڑنے لگی ہیں رات کے اشجار سے لگ گئی ہے چپ سی اب ذہن ہنر خاموش ہے رابطہ جس دن سے ٹوٹا ہے لب اظہار سے دیکھتے ہیں مجھ کو ننگی دھوپ شرمندہ ہوئی سایۂ دیوار نے کیا کہہ ...

مزید پڑھیے

ہر گوشے میں بکھرے ہوئے سناٹوں کے ڈر سے

ہر گوشے میں بکھرے ہوئے سناٹوں کے ڈر سے ویرانیاں گھبرا کے نکل آئی ہیں گھر سے اس درجہ تھکے ماندے نظر آتے ہیں چہرے لوٹا ہو کوئی جیسے بہت لمبے سفر سے جس سمت گھنی چھاؤں کے خیمے سے تنے ہیں گزرا ہے کڑی دھوپ کا لشکر بھی ادھر سے اکثر ہوا ایسا کہ بھرے گھر میں سر شام تنہائی کے آسیب در و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 830 سے 5858