شاعری

گلشن بے بہار ہیں ہم لوگ

گلشن بے بہار ہیں ہم لوگ دامن خار زار ہیں ہم لوگ چشم کوتاہ بیں کو کیا ہے خبر خود ہی اپنے شکار ہیں ہم لوگ آئنہ بھی یقیں نہ کر پائے ایسے بے اعتبار ہیں ہم لوگ کس قدر پر سکون ہے دنیا کس قدر بے قرار ہیں ہم لوگ وقت کے ناتمام صحرا میں زندگی کا مزار ہیں ہم لوگ آپ اپنی تلاش میں گم ہیں آپ ...

مزید پڑھیے

شہر بدری کے دن گزر جاتے

شہر بدری کے دن گزر جاتے کتنا اچھا تھا لوگ گھر جاتے آن دے کر کے جان لائے ہو کیا یہ لازم نہیں تھا مر جاتے حکم نافذ تھا اپنے گھر میں رہو بے گھری ہم بتا کدھر جاتے محتسب نے بڑی ہی جلدی کی عین ممکن تھا ہم سدھر جاتے عمر جیسی گزار دی ہم نے تم کو ملتی تو کب کے مر جاتے ہائے رے التفات چارہ ...

مزید پڑھیے

جس کی جو ہے طلب تماشہ ہے

جس کی جو ہے طلب تماشہ ہے یہ بھی کتنا عجب تماشہ ہے آنکھ ایمان لائی منظر پر دل یہ کہتا ہے سب تماشہ ہے میں نے دنیا کے رنگ دیکھے ہیں میرے آگے یہ سب تماشہ ہے دیکھتے ہیں جو ہم کسی کی طرف دیکھنے کا سبب تماشہ ہے وہ بھی دکھلائے جو کہ ہے ہی نہیں تیری دنیا عجب تماشہ ہے لا مکاں سے یہ دہر تک ...

مزید پڑھیے

غموں کے پھول سر شاخ مسکراتے ہیں

غموں کے پھول سر شاخ مسکراتے ہیں اداسیوں کے یہ موسم کہاں سے آتے ہیں بچھڑنے والوں کو الزام کیوں دیا جائے دلوں کا کیا ہے بنا بات ٹوٹ جاتے ہیں ترا خیال جو بدلا جنوں میں ہوش آیا یہ راستے تو کہیں اور لے کے جاتے ہیں پھر ایک شام ترے سنگ خود کو بھول آئے سنانے والے کئی داستاں سناتے ...

مزید پڑھیے

یہ ابتدا ہے ابھی باب اختتام کہاں

یہ ابتدا ہے ابھی باب اختتام کہاں لہو ترنگ کا قصہ ہوا تمام کہاں لکھی ہے خون سے ہم نے حکایت ہستی مگر کتاب میں ہوگا ہمارا نام کہاں ہمارا نام نہ پوچھو نہ کچھ پتا پوچھو ہماری صبح کہاں ہے ہماری شام کہاں ہمیں تو کچھ بھی نہیں ہے خبر کہ اب کے ہم اگر اٹھیں گے یہاں سے تو پھر قیام ...

مزید پڑھیے

کس سے کہئے دل کی بات

کس سے کہئے دل کی بات اپنی عزت اپنے ہات تم بن سونے ہیں یوں دن جیسے بول رہی ہو رات کیسی شادی کیسا غم اپنے اپنے محسوسات عشق ہے یہ کچھ کھیل نہیں کس کی مات اور کیسی مات دیکھ چکا ہوں حشر کا دن کاٹ چکا ہوں ہجر کی رات ہر الزام مجھے تسلیم اپنے دل پر رکھئے ہات لوٹے ہیں راتوں کے دن چمکی ہے ساقی ...

مزید پڑھیے

سچی باتوں سے کھڑے سرکار کے ہوتے ہیں کان

سچی باتوں سے کھڑے سرکار کے ہوتے ہیں کان دھیرے دھیرے بولئے دیوار کے ہوتے ہیں کان دیجئے مجھ کو سزا پیغامبر کا کیا قصور گرم کیوں اس مجرم گفتار کے ہوتے ہیں کان باغ میں غنچہ جو چٹکا میں خوشی سے پھول اٹھا آشنا کتنے صدائے یار کے ہوتے ہیں کان میکدے میں کیوں نہ خالی جائے پھر واعظ کی بات جب ...

مزید پڑھیے

لکھنؤ

ماضی کی تجلی سے معمور یہ کاشانہ احساس مسلماں کو کر دیتا ہے دیوانہ اللہ رے بیدردی طوفان حوادث کی دنیا میں حقیقت بھی بن جاتی ہے افسانہ عالم کی نگاہوں سے اترے ہوئے ایوانو بے ساختہ اشکوں کا حاضر ہے یہ نذرانہ اب حسن کی محفل میں حسرت سی برستی ہے وہ غمزۂ ہندی ہیں نے عشوۂ ترکانہ غم عظمت ...

مزید پڑھیے

ساقی

بتاؤں کیا جو رنگ گردش ایام ہے ساقی جہاں کا ذرہ ذرہ کشتۂ آلام ہے ساقی معاذ اللہ اب ہر ہر قدم پر دام ہے ساقی گلستاں میں یہ آزادی کا فیض عام ہے ساقی سمجھ سکتا ہے کون اس راز کو جز اہل مے خانہ لباس صبح میں کتنی بھیانک شام ہے ساقی قفس کیسا نشیمن کیا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں نہ جب آرام تھا ...

مزید پڑھیے

بہار شباب

محتسب کے ہوش اڑانے کا زمانہ آ گیا بے جھجک پینے پلانے کا زمانہ آ گیا جام آتش زیر پا کی اوٹ لے کر ساقیا بوتلوں میں ڈوب جانے کا زمانہ آ گیا کائنات ہوش پر کالی گھٹائیں چھا گئیں یوم شب تابی منانے کا زمانہ آ گیا پھر خیال عارض تاباں نے لیں انگڑائیاں رات کو پھر دن بنانے کا زمانہ آ گیا مست ...

مزید پڑھیے
صفحہ 825 سے 5858