شاعری

ٹھہرا پانی

چھل چھل کرتی دھارا پانی کی ذہن کو جیسے آئینہ دکھائے دم دم بڑھتی جیون دھارا کا بھرم بتائے پر وقت جیسا شیتل جل بھی مٹھی میں سے چھن جاتا ہے خالی مٹھی بھیگی بھیگی یاد دلائے شیتل جل کی آس پاس سب ٹھہرا ٹھہرا ہے جیسے دھارا جم سی گئی ہو جیون جیسے تھم سا گیا ہو اس ٹھہرے ٹھہرے گدلے پانی ...

مزید پڑھیے

دل ایذا طلب لے تیرا کہنا کر لیا میں نے

دل ایذا طلب لے تیرا کہنا کر لیا میں نے کسی کے ہجر میں جینا گوارا کر لیا میں نے بت پیماں شکن سے انتقاماً ہی سہی لیکن ستم ہے وعدۂ ترک تمنا کر لیا میں نے نیاز عشق کو صورت نہ جب کوئی نظر آئی جنون بندگی میں خود کو سجدہ کر لیا میں نے وفا نا آشنا اس سادگی کی داد دے مجھ کو سمجھ کر تیری ...

مزید پڑھیے

بروز حشر مرے ساتھ دل لگی ہی تو ہے

بروز حشر مرے ساتھ دل لگی ہی تو ہے کہ جیسے بات کوئی آپ سے چھپی ہی تو ہے نہ چھیڑو بادہ کشو میکدے میں واعظ کو بہک کے آ گیا بیچارہ آدمی ہی تو ہے قصور ہو گیا قدموں پہ لوٹ جانے کا برا نہ مانیے سرکار بے خودی ہی تو ہے ریاض خلد کا اتنا بڑھا چڑھا کے بیاں کہ جیسے وہ مرے محبوب کی گلی ہی تو ...

مزید پڑھیے

شیشوں کی بات اور ہے ساغر کی بات اور

شیشوں کی بات اور ہے ساغر کی بات اور ساقی ہے تیری چشم فسوں گر کی بات اور فانوس نے فروغ دیا شمع حسن کو پردے سے بڑھ گئی رخ انور کی بات اور عشرت سرائے خلد کا منکر تو میں نہیں لیکن تمہارے دم سے ہے اس گھر کی بات اور دل نازکی میں فرد خرد سختیوں میں طاق شیشے کی بات اور ہے پتھر کی بات ...

مزید پڑھیے

دعائیں دے کے تمہیں لطف مختصر کے لیے

دعائیں دے کے تمہیں لطف مختصر کے لیے گزر گیا کوئی آپے سے عمر بھر کے لیے کچھ اس ادا سے طلسم حجاب کو توڑا کہ بڑھ کے جلووں نے بوسے مری نظر کے لیے تمہیں تمہارے رخ‌ شب فروز کی ہے قسم ہماری رات بھی دن کر دو رات بھر کے لیے وفور یاس میں اکثر میں ہنس دیا فاروقؔ بحال غیر بھی تسکین چارہ گر ...

مزید پڑھیے

جاں بہ لب حسرت و ارمان پہ رونا آیا

جاں بہ لب حسرت و ارمان پہ رونا آیا مہرباں آپ کے احسان پہ رونا آیا خانۂ بے سر و سامان پہ رونا آیا گھر میں آئے ہوئے مہمان پہ رونا آیا پھول بھی دامن فطرت میں تھے انگارے بھی آنکھ والے تری پہچان پہ رونا آیا گھر کے لٹنے کا مجھے غم نہیں لیکن اے دوست کوتہ اندیش نگہبان پہ رونا آیا بادۂ ...

مزید پڑھیے

کھنچ کے وہ اور طرحدار نظر آتے ہیں

کھنچ کے وہ اور طرحدار نظر آتے ہیں بل جو ابرو پہ ہیں تلوار نظر آتے ہیں پھر مرے حال پہ ہے چشم عنایت ان کی پھر وہ کچھ در پۂ آزار نظر آتے ہیں کس نے محفل میں یہ چہرے سے اٹھائی ہے نقاب آئنے نقش بہ دیوار نظر آتے ہیں قصۂ دار و رسن ختم نہ فرمائیں حضور کچھ ابھی حق کے پرستار نظر آتے ہیں اک ...

مزید پڑھیے

جو رہا یوں ہی سلامت مرا جذب والہانہ

جو رہا یوں ہی سلامت مرا جذب والہانہ مجھے خود کرے گا سجدہ ترا سنگ آستانہ رہ حق کے حادثوں کا نہ سنا مجھے فسانہ تری رہبری غلط تھی کہ بہک گیا زمانہ میں جہان ہوش و عرفاں بہ لباس کافرانہ بہ حجاب پارسائی تو ہمہ شراب خانہ تجھے یاد ہے ستم گر کوئی اور بھی فسانہ وہی ذکر آب و دانہ وہی فکر ...

مزید پڑھیے

مشیت کس کے بس میں فضا سے کون لڑتا ہے

مشیت کس کے بس میں فضا سے کون لڑتا ہے یہاں جو سر اٹھاتا ہے اسے جھکنا ہی پڑتا ہے چلا ہوں دیر سے سوئے حرم لیکن یہ عالم ہے کہ جیسے کوئی رہ رہ کر مرا دامن پکڑتا ہے حقیقت سے بغاوت الجھنوں میں ڈال دیتی ہے یہ سودا لاکھ سستا ہو مگر مہنگا ہی پڑتا ہے جناب شیخ نے پردہ اٹھایا اس حقیقت سے کہ ...

مزید پڑھیے

مرا پیام ہے ارباب فکر و فن کے لیے

مرا پیام ہے ارباب فکر و فن کے لیے کہ من کا خوں نہ کریں ارتقائے تن کے لیے جہان فکر میں تسبیح بھی ہے تیغ بھی ہے وہ خود شکن کے لیے ہے یہ صف شکن کے لیے مری سمجھ میں نہ یزدانیوں کی بات آئی اک اہرمن سے لڑائی اک اہرمن کے لیے ترا یہ فلسفۂ ہم وجودیت اے دوست نہ شیخ کے لیے موزوں نہ برہمن کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 826 سے 5858