شاعری

اس جہان بے جہاں میں دل لگا پاویں گے کیا

اس جہان بے جہاں میں دل لگا پاویں گے کیا چھوڑ کر اپنے جہاں کو ہم نہ پچھتاویں گے کیا دھیمی دھیمی آنچ سی رہتی ہے سینے میں مدام موم کی مانند اک دن ہم پگھل جاویں گے کیا کیوں بضد ہو تم بھی میرے ساتھ چلنے کے لئے چلتے چلتے پاؤں میں چھالے نہ پڑ جاویں گے کیا دم بہ دم ہم جل رہے ہیں آگہی کی ...

مزید پڑھیے

ایک ہی پل میں ہوا آنکھ سے منظر غائب

ایک ہی پل میں ہوا آنکھ سے منظر غائب ریت ہی ریت رہی اور سمندر غائب سب کے چہرے پہ ہنسی کھیل رہی ہے لیکن سب کے چہرے ہی نظر آتے ہیں پیکر غائب کون ہیں لوگ یہاں کن کی پڑی ہیں لاشیں جسم ہی جسم کے انبار ہیں اور سر غائب کون وشواس کرے گا میں بتاؤں کس کو میرا میں ہو گیا ہے میرے ہی اندر ...

مزید پڑھیے

دشت پر ہول میں یہ کس کی صدا گونجتی ہے

دشت پر ہول میں یہ کس کی صدا گونجتی ہے خوف و دہشت سے یہاں ساری فضا گونجتی ہے کیسا سناٹا ہے اس عالم آب و گل میں اب کہیں میں ہوں نہ اب میری صدا گونجتی ہے دل میں جتنے بھی تھے ہنگامے سبک دوش ہوئے میرے اطراف میں خاموش بلا گونجتی ہے کوئی آواز سنائی نہیں دیتی یا رب تیری سرگوشی مگر مجھ ...

مزید پڑھیے

دلدل میں دھنس گئے ہم دے کر تمہیں سہارا کیا اور چاہتے ہو

دلدل میں دھنس گئے ہم دے کر تمہیں سہارا کیا اور چاہتے ہو جو کچھ بھی تھا ہمارا وہ سب ہوا تمہارا کیا اور چاہتے ہو ہم سے اگر گلہ ہے تم کو نہ دے سکے کچھ تو آؤ شوق سے تم اک جاں بچی ہے اپنی لے لو اسے خدارا کیا اور چاہتے ہو اپنی وفا کے بدلے دیکھو ہمارے سر پر بارش ہے پتھروں کی یہ گھر نہیں ...

مزید پڑھیے

قافلے کو بھٹک ہی جانا ہے

قافلے کو بھٹک ہی جانا ہے راستے میں غبار اتنا ہے پھر گھنی رات میں اجالا ہے دل میں روشن وہ چاند چہرہ ہے خار زاروں میں جسم الجھا ہے خشک آنکھوں میں ایک صحرا ہے لوگ آتے ہیں اور جاتے ہیں جیسے دنیا سرائے خانہ ہے خامشی کرب ہے سمندر کا تہہ میں طوفان اٹھتا رہتا ہے چیختا رہتا ہے نگر ...

مزید پڑھیے

جب بھی صلیب پر کوئی عیسیٰ دکھائی دے

جب بھی صلیب پر کوئی عیسیٰ دکھائی دے ساری فضا میں نور بکھرتا دکھائی دے اس چاندنی کی زد سے بچا لے کوئی مجھے میرا ہی سایہ مجھ کو ڈراتا دکھائی دے پوشیدہ کائنات ہے اس سر زمین میں دیکھو اسے جو دور سے نقطہ دکھائی دے اس شہر درد و داغ میں کس کس کو ڈھونڈئیے ہر شخص اپنے آپ میں چھپتا ...

مزید پڑھیے

بے سمت یہ سفر ہے ذرا دیکھ کر چلو

بے سمت یہ سفر ہے ذرا دیکھ کر چلو انجان رہ گزر ہے ذرا دیکھ کر چلو گزرا ادھر سے جو بھی وہ پتھر میں ڈھل گیا جادو کا یہ نگر ہے ذرا دیکھ کر چلو پتھر پگھل رہے ہیں تمازت سے دھوپ کی یہ دشت بے شجر ہے ذرا دیکھ کر چلو کرنے لگے ہیں رقص بگولے ہواؤں میں طوفان تیز تر ہے ذرا دیکھ کر چلو دامن ...

مزید پڑھیے

ریگ زار حیات سے گزرے

ریگ زار حیات سے گزرے ہر قدم حادثات سے گزرے خار‌‌ و خاشاک کا غبار لئے گلشن کائنات سے گزرے تجھ کو پانے کی جستجو یا رب ہم حد کائنات سے گزرے سب کو ہے دعویٰٔ ہمہ دانی کتنے عرفان ذات سے گزرے تیرے گھر کا طواف کرتے ہوئے عالم شش جہات سے گزرے عرش ہلنے لگا تھا آل رسول تشنہ لب جب فرات سے ...

مزید پڑھیے

چادر کو کھینچتے ہیں جگاتے ہیں رات میں

چادر کو کھینچتے ہیں جگاتے ہیں رات میں بے چہرہ لوگ مجھ کو ڈراتے ہیں رات میں دن بھر خموش رہتے ہیں جو طائران درد کمرے میں آ کے شور مچاتے ہیں رات میں دروازہ بند کر کے بھی سونا محال ہے کس راہ سے نہ جانے در آتے ہیں رات میں مجھ سے وہ دن میں ملتے ہیں بے اعتنائی سے خوابوں میں آ کے مجھ کو ...

مزید پڑھیے

جب بھی تمہاری یاد کی آہٹ مجھے ملی

جب بھی تمہاری یاد کی آہٹ مجھے ملی تنہائی کانپتی ہوئی مجھ سے جدا ہوئی آواز دے کے کس کو بلاؤں میں اپنے پاس ظلمت کی چار سو مرے دیوار اٹھ گئی وہ لوگ اتنی دیر میں کس سمت کو گئے ساحل پہ آ چکا تھا سفینہ ابھی ابھی ہیں شعلہ بار تاروں کی آنکھیں نہ جانے کیوں جھلسا رہی ہے جسم کو کیوں آج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 824 سے 5858