شاعری

جسم کو جاں کا سرا پردۂ رعنائی کر

جسم کو جاں کا سرا پردۂ رعنائی کر سائے کو دھوپ میں پھیلا کے نہ ہرجائی کر فکر کو ذہن کی دیوار پہ تصویر بنا آنکھ کو مدح سرا دل کو تماشائی کر ہیں تری ذات میں بھی بو قلموں ہنگامے تو اسے صرف تماشہ گہۂ تنہائی کر شہر اور شہر ترا نام نکلتا جائے اے ستم گر مری بھی کھول کے رسوائی کر عین ...

مزید پڑھیے

دوست کو محرم بنا کر دشمن جاں کر دیا

دوست کو محرم بنا کر دشمن جاں کر دیا تو نے اے دل آپ بربادی کا ساماں کر دیا لغزش آدم تو ہم تک آئی ہے میراث میں تھے فرشتے لیکن اس خوبی نے انساں کر دیا مہرباں نے غم غلط کرنے کی رکھی ہے سبیل جب پڑا ہے قحط مے تو زہر ارزاں کر دیا کیسے کیسے عزم ہو کر رہ گئے منزل کی نذر کیسی کیسی خواہشوں ...

مزید پڑھیے

جو کچھ ہوا خبر ہے اسی کی رضا سے ہے

جو کچھ ہوا خبر ہے اسی کی رضا سے ہے ہم کو گلہ کسی سے نہیں ہے خدا سے ہے جنت میں مطمئن نہ جہنم میں مضطرب پروردہ دل زمین کی آب و ہوا سے ہے دشمن ہے آدمی کا ازل سے خود آدمی یعنی مقابلہ یہ بلا کا بلا سے ہے ہر غیر سے تو خوب گزارہ کیا مگر اے دل معاملہ ترا اب آشنا سے ہے ہے ذوق کا جمال سے آگے ...

مزید پڑھیے

جنوں سکون خرد اضطراب چاہتی ہے

جنوں سکون خرد اضطراب چاہتی ہے طبیعت آج نیا انقلاب چاہتی ہے نہ آج تیری نظر سے برس رہا ہے نشہ نہ میری تشنہ لبی ہی شراب چاہتی ہے نہیں سرور مسلسل نباہ پر موقوف مدام آنکھ کہاں لطف خواب چاہتی ہے سنا رہا ہوں فسانہ تری محبت کا یہ کائنات عمل کا حساب چاہتی ہے وہ عزم ہائے سفر لا زوال ...

مزید پڑھیے

عجیب بات ہے دن بھر کے اہتمام کے بعد

عجیب بات ہے دن بھر کے اہتمام کے بعد چراغ ایک بھی روشن ہوا نہ شام کے بعد سناؤں میں کسے روداد شہر نا پرساں کہ اجنبی ہوں یہاں مدتوں قیام کے بعد خرد علیل تھی دور شراب سے پہلے قدم میں آئی تھی لغزش شکست جام کے بعد ستم ظریفیٔ تاریخ ہے کہ مسند گیر سدا خواص ہوئے انقلاب عام کے بعد حباب ...

مزید پڑھیے

دل کے مندر میں تیری مورت ہے

دل کے مندر میں تیری مورت ہے اب خداؤں کی کیا ضرورت ہے گر ذرا سا سکوں میسر ہو زندگی کتنی خوب صورت ہے نہ کسی سے کوئی توقع ہے نہ کسی سے کوئی کدورت ہے آج دنیا نے ہم کو چھوڑ دیا آج تیری بڑی ضرورت ہے دیکھنے میں ہزار چہرے ہیں اور کہنے کو ایک صورت ہے شوکتؔ اب شعر کی ہوئی تکمیل میرے ...

مزید پڑھیے

پھولوں سے بھرے باغ بھی ویراں نظر آئے

پھولوں سے بھرے باغ بھی ویراں نظر آئے شہروں میں بہت کم ہمیں انساں نظر آئے صیقل نہ کرو آئنے کیا اس کی ضرورت کردار تو چہروں پہ نمایاں نظر آئے کی ہے ثمر و گل کی عجب پرورش اس نے تا حد نظر باغ بیاباں نظر آئے کپڑے تو الگ جس نے بدن نوچ لیے ہیں لو نام کہ وہ شخص بھی عریاں نظر آئے حیرت ہے ...

مزید پڑھیے

درمیاں گر ہیں فاصلے کوئی

درمیاں گر ہیں فاصلے کوئی دل کے رستے سے آ ملے کوئی دشت ہے راہ میں بہار یہاں گل نمونے ہی کو کھلے کوئی جی میں ہے بے رخی کریں اب ہم اور ہم سے کرے گلے کوئی یوں بھی ٹوٹے ہیں زود رنج حبیب زندگی بھر کے سلسلے کوئی لٹ گئے ہیں پہنچ کے منزل پر جو بچے رہ میں قافلے کوئی ناشناسان فن سے تو ...

مزید پڑھیے

کچھ ہنر اور سمجھتے ہیں نہ فن جانتے ہیں

کچھ ہنر اور سمجھتے ہیں نہ فن جانتے ہیں ہم ترے ذکر کو شایان سخن جانتے ہیں روح کی غایت علوی کا نہ ہو اندازہ ہم مگر مقصد تخلیق بدن جانتے ہیں استعارے ہیں ترے عارض و چشم و لب کے یہ حدیث گل و شہلا و سمن جانتے ہیں یہ الگ بات نہیں آئی زمانہ سازی ہم مگر خوب زمانے کا چلن جانتے ہیں رقص ...

مزید پڑھیے

خلاف ہنگامۂ تشدد قدم جو ہم نے بڑھا دیے ہیں

خلاف ہنگامۂ تشدد قدم جو ہم نے بڑھا دیے ہیں بڑے بڑے بانیان جور و ستم کے بدھیے بٹھا دیے ہیں خیالی غنچے کھلا دیئے ہیں خیالی گلشن سجا دیے ہیں نئے مداری نے دو ہی دن میں تماشے کیا کیا دکھا دیے ہیں کوئی تو ہے بے خود تعیش کوئی ہے محو حصول ثروت کھلونے ہاتھوں میں رہبروں کے یہ کس نے لا کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 762 سے 5858