شاعری

رنج و الم کی باڑھ میں ایمان بہہ گیا

رنج و الم کی باڑھ میں ایمان بہہ گیا بیٹی کے جب جہیز کا سامان بہہ گیا کچھ اس طرح سے ٹوٹ کے روئے تمام رات جو بچ گیا تھا آخری ارمان بہہ گیا کل رات میں نے خواب میں دیکھا ہے ایک خواب انصاف آنکھیں پا گیا میزان بہہ گیا یہ راز کھل سکا نہ کبھی اس شعور پر کیوں موج غم میں روح کا جزدان بہہ ...

مزید پڑھیے

دل رواں جس کا ہو اک مرشد کامل کی طرف

دل رواں جس کا ہو اک مرشد کامل کی طرف کون روکے گا اسے جانے سے منزل کی طرف چاہ کر بھی نہ اگر غم کا مداوا ہو تو پھر میں چلی جاتی ہوں ایمان مفصل کی طرف یہ مری ماں کی دعا کا ہی ثمر ہے جو مجھے تند لہروں نے اچھالا بھی تو ساحل کی طرف چاہتا کون ہے راہوں میں بھٹک جانا مگر راستہ شر کا ہی لے ...

مزید پڑھیے

چاہتوں کے زوال پر چپ ہوں

چاہتوں کے زوال پر چپ ہوں دل کے ہر اک ملال پر چپ ہوں دے گئے دھوکہ جو محبت میں میں تو ان کے کمال پر چپ ہوں دے سکے ناں جواب تم جس کا آج بھی اس سوال پر چپ ہوں تم کو چاہت کی چاہ مارے گی ہائے طوطے کی فال پر چپ ہوں کیا کہوں تجھ سے اے مرے ہمدم میں تو اپنوں کی چال پر چپ ہوں جب قلم کی ...

مزید پڑھیے

دل نے کر دی ہے خم جبیں آ جا

دل نے کر دی ہے خم جبیں آ جا اے مری روح کے مکیں آ جا دل ہے شیشے کا ہجر پتھر سا درد کی پار کر زمیں آ جا بن ترے بے ثمر حیاتی ہے دل کی بنجر ہوئی زمیں آ جا تجھ کو اخلاص سے پکارا ہے سن کے آواز ہم نشیں آ جا آرزو دل کی دید ہو تیری سن مرے ماہ رو حسیں آ جا عشق اک راز بن گیا جب سے چین پل بھر کو ...

مزید پڑھیے

نظم

ہر رات ایک صبح کا صبح کو دوپہر کا دوپہر کو شام کا اور شام کو پھر رات کا انتظار ہوتا ہے تمہارے ایک میٹھے بول کی چاہت میں میں ہر روز چار بار مرتی ہوں پھر سے جینے کے لئے

مزید پڑھیے

ان کے گیسو کی طرح اپنے خیالوں کی طرح

ان کے گیسو کی طرح اپنے خیالوں کی طرح ہم بکھرتے رہے دنیا میں اجالوں کی طرح ہم تو اخلاص و محبت کے سوا کچھ بھی نہ تھے دیکھتا کوئی ہمیں دیکھنے والوں کی طرح ہم سے پابندیٔ آداب محبت نہ ہوئی بات بھی ان سے اگر کی ہے تو نالوں کی طرح میں ہی اک گردش دوراں سے پریشان نہیں ساری دنیا ہے پریشاں ...

مزید پڑھیے

شکوہ ہو ہمیں کیا تری بیداد گری کا

شکوہ ہو ہمیں کیا تری بیداد گری کا دل لطف اٹھاتا ہے تری کم نظری کا غنچوں کو بھری نیند سے چونکا تو دیا ہے احسان گلستاں پہ نسیم سحری کا اب دل کے دھڑکنے کا بھی احساس نہیں ہے کچھ اور ہی عالم ہے مری بے خبری کا مرہم نہ سہی زخم پہ نشتر تو رکھا ہے احسان نہ بھولیں گے تری چارہ گری کا کیا ...

مزید پڑھیے

نور ہے روشنی کا ہالہ ہے

نور ہے روشنی کا ہالہ ہے عشق تو روح کا اجالا ہے دل میں اترے نہال کر ڈالے عشق کا طور ہی نرالا ہے وہ تو کہتا ہے آؤ سمجھو تم دل میں جس نے گیان ڈالا ہے جال بنتی ہے نفس کی مکڑی بس اتارو یہ شر کا جالا ہے دل کی درگاہ میں جھکا جب سر عشق کا بول تب سے بالا ہے دل کو محسوس بس ہوا جیسے عشق روئی ...

مزید پڑھیے

بڑھنے لگی ہے بھیڑ میں تنہائی آج کل

بڑھنے لگی ہے بھیڑ میں تنہائی آج کل شاید ہوئی ہے خود سے شناسائی آج کل رنج و الم کی آنچ میں رشتے بھسم ہوئے اب چل رہی ہے درد کی پروائی آج کل ہم سے بچھڑ کے جب سے وہ پردیس جا بسا سونی پڑی ہے من کی یہ انگنائی آج کل جدت نے کچھ تو پھونکا ہے پڑھ کر دیار میں ڈرنے لگی ہے جھوٹ سے سچائی آج ...

مزید پڑھیے

شور کے شر میں ناز ساکن ہیں

شور کے شر میں ناز ساکن ہیں چپ کی آنکھوں میں ساز ساکن ہیں شہر خاموش میں کبھی دیکھو زندگی کے ہی راز ساکن ہیں لے کے عمروں کی دھول چہروں پر ہم اے عمر دراز ساکن ہیں کیسی افتاد ہے زمانے پر سب یہاں چارہ ساز ساکن ہیں نیک نیت جو لوگ ہیں سارے دل میں لے کر گداز ساکن ہیں دل نے جب سے شعور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 735 سے 5858