چاند
روشنی میں اپنی عجیب سی کشش لیے یہ گول دائرہ اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے اور مجھ سے پوچھتا ہے تم کون ہو کیا پہچان ہے تمہاری
روشنی میں اپنی عجیب سی کشش لیے یہ گول دائرہ اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے اور مجھ سے پوچھتا ہے تم کون ہو کیا پہچان ہے تمہاری
زندگی ایک دن مجھ کو بھی تلخ کر دے گی میں خوشیوں کو دعوت دیتے تھکنا نہیں چاہتی کہیں بگ بینگ سے پہلے خوشی کی وداعی تو نہیں ہو گئی تھی کہیں میں اسے غلط جگہ تو دعوت نامہ نہیں بھیج دیا
یہ ایک انڈا ہے کتنی مشابہت ہے اس میں اور ہم میں اس کے اندر ایک سے زائد رنگ چھپے ہوئے ہیں لیکن صرف ایک رنگ اس کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے کہنے کو مضبوط پر اتنا نازک کہ کسی ہم ذات سے بھی ٹکرا کر بکھر جائے اور اپنا وجود کھو بیٹھے
کیا وہ بھی کبھی تھا ہاں وہ تھا ایک چھوٹا سا بیج ایک دن زمین سے باہر آیا پل پل بڑھتا رہا پل پل ترستا رہا رہائی کے لیے لیکن رہائی ہر کسی کو نہیں ملتی وہ ایک ہی جگہ کھڑا ہوا بڑھتا ہی چلا گیا کیا اس نے پھل دیے؟ نہیں لیکن وہ پھل دینے کے قابل بن گیا ایک دن بہت زور کا طوفان آیا سب کچھ اکھاڑ ...
اے زمین مجھے معاف کر دینا مانتی ہوں تیرے پھولوں میں خوب رس بھرا ہے مگر اب مجھ دل دراز کو کچھ اور دل جیتنے ہیں اپنا ذائقہ بدلنا ہے میں تو تتلی ہوں تجھے مان لینا چاہیے میری محبت کا دائرہ بہت وسیع ہے اے زمین میرے پیروں میں بیڑیاں یوں نہ ڈال کہ آزاد ہونے کے بعد میں لوٹ نہ سکوں
سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں پاس ادھورے ہیں خواب ادھوری ہے پیاس نہ کوئی حسرت باقی اور نہ ہے کوئی آس عجب تماشے دکھاتی ہے زندگی رچاتی ہے روز نیا کوئی راس
آگہی نے مجھے دکھ کے دائرے میں کھڑا کر دیا ہے میں تو انجان ہی بھلی تھی کیوں کسی نے آ کر مجھ سے میرا ہی تعارف کروا دیا
تم سے نفرت کرنا چاہتی ہوں مگر محبت کے سائے پر نفرت کی ایک بھی کرن حاوی نہیں ہو پاتی اور نہ چاہتے ہوئے بھی ان پر نفرت کی نگاہ ہے جو کبھی بہت قریب تھے بعض اوقات محبت اور نفرت ہماری مٹھیوں میں پانی کی مانند ہوتی ہے
شاطر لوگوں نے اس کے آتے ہی دیوار کھینچ دی کہیں اس کا سایہ مجھے چھو نہ لے ایک احساس کو زندگی ملتی ہے: کوئی تو طلسم ہے جو ان کے خوف کا سبب بنا
موم کی گڑیا خالی آنکھوں سے اپنی خالی مٹھی کو پگھلتے دیکھ رہی ہے کل تک ترازو اس کے ہاتھ میں تھی آج ایک فیصلہ دینے کے بعد مجرم بنی کھڑی ہے اور اپنی خالی مٹھی کو پگھلتا دیکھ رہی ہے