یہ سچ ہے روح کے اندر عقیدت سانس لیتی ہے
یہ سچ ہے روح کے اندر عقیدت سانس لیتی ہے تبھی تحریر میں میری شہامت سانس لیتی ہے کوئی ناراض ہو جائے تو اکثر سوچتی ہوں میں بشر کے دل میں جانے کیوں عداوت سانس لیتی ہے شجر ہوں یا حجر ہوں یا گلوں کے رنگ ہوں صاحب ہواؤں میں فضاؤں میں یہ قدرت سانس لیتی ہے ذرا خوشیاں وہاں بھی بانٹ کر تم ...