شاعری

یہ سچ ہے روح کے اندر عقیدت سانس لیتی ہے

یہ سچ ہے روح کے اندر عقیدت سانس لیتی ہے تبھی تحریر میں میری شہامت سانس لیتی ہے کوئی ناراض ہو جائے تو اکثر سوچتی ہوں میں بشر کے دل میں جانے کیوں عداوت سانس لیتی ہے شجر ہوں یا حجر ہوں یا گلوں کے رنگ ہوں صاحب ہواؤں میں فضاؤں میں یہ قدرت سانس لیتی ہے ذرا خوشیاں وہاں بھی بانٹ کر تم ...

مزید پڑھیے

یہ کیا توہین مے خانہ نہیں ہے

یہ کیا توہین مے خانہ نہیں ہے صراحی ہے تو پیمانہ نہیں ہے در دولت کے چکر آپ کاٹیں مری فطرت غلامانہ نہیں ہے تعجب ہے کہ اہل شہر نے بھی ابھی تک مجھ کو پہچانا نہیں ہے چھلک جاتی ہے ان کا نام سن کر اگرچہ آنکھ پیمانہ نہیں ہے میں تشنہ لب بھی اٹھ سکتا ہوں ساقی مگر یہ شان مے خانہ نہیں ...

مزید پڑھیے

حسرت زہرہ وشاں سرو قداں ہے کہ جو تھی

حسرت زہرہ وشاں سرو قداں ہے کہ جو تھی اپنا سرمایۂ دل یاد بتاں ہے کہ جو تھی کج کلاہوں سے بھی شرمندہ نہ ہونے پائے ہم میں وہ جرأت اظہار بیاں ہے کہ جو تھی وضع داری میں کوئی فرق نہ آیا سر مو وہی آوارگیٔ کوئے بتاں ہے کہ جو تھی میں نے سرمایۂ دل نذر بتاں کر ڈالا میرے ناصح کو مگر فکر زیاں ...

مزید پڑھیے

عجب انداز محفل ہو رہا ہے

عجب انداز محفل ہو رہا ہے کہ مرنا تک بھی مشکل ہو رہا ہے ستارہ ماہ کامل ہو رہا ہے کوئی معصوم قاتل ہو رہا ہے مری دیوانگی میں کچھ دنوں سے جنوں کا رنگ شامل ہو رہا ہے جو ہونا ہے وہی ہو کر رہے گا پریشاں کس لئے دل ہو رہا ہے قیامت جس کے قدموں سے لگی ہے وہ فتنہ جان محفل ہو رہا ہے تباہی دل ...

مزید پڑھیے

موج ہوائے شوق اسے پائمال کر

موج ہوائے شوق اسے پائمال کر رکھیں گے خاک دل کو کہاں تک سنبھال کر افسردہ دل نہ ہو یہ سفر کی تکان ہے دو چار گھونٹ پی کے طبیعت بحال کر یہ ابر یہ بہار یہ طوفان رنگ و بو اے دوست میری تشنہ لبی کا خیال کر یہ منزل شباب ہے پر پیچ و پر خطر اے پیکر جمال ذرا دیکھ بھال کر ہر اہل دل کی میری طرف ...

مزید پڑھیے

کیسی آشفتہ سری ہے اب کے

کیسی آشفتہ سری ہے اب کے کچھ عجب بے خبری ہے اب کے دیکھ کر اہل گلستاں کا چلن جان ہاتھوں میں دھری ہے اب کے شہر کا امن و سکوں ہے عنقا کیسی یہ فتنہ گری ہے اب کے موسم فصل خزاں ہے پھر بھی شاخ دل اپنی ہری ہے اب کے کور چشموں کو خدا ہی سمجھے دعویٰ دیدہ وری ہے اب کے ڈر یہی ہے کہ کہیں ٹوٹ نہ ...

مزید پڑھیے

مظلوم کسی دست حنائی کے نکلتے

مظلوم کسی دست حنائی کے نکلتے جو لوگ ارادے سے گدائی کے نکلتے غزلیں مری ان پر نہ گراں اتنی گزرتیں پہلو جو کہیں مدح سرائی کے نکلتے صیاد کو کیا جانئے کیا وہم گزرتا احکام اگر میری رہائی کے نکلتے بربادئ دل کا جو مری چھڑتا فسانہ افسانے ترے دست حنائی کے نکلتے محرومیٔ تقدیر کا احساس ...

مزید پڑھیے

کچھ روز سے پریشاں وہ زلف مشکبو ہے

کچھ روز سے پریشاں وہ زلف مشکبو ہے میرے ہی حال دل کی تصویر ہو بہ ہو ہے یہ کس کی آرزو ہے یہ کس کی جستجو ہے کس کی تلاش میں دل آوارہ کو بہ کو ہے اے بے ادب یہ کیسا انداز گفتگو ہے کمبخت کچھ خبر ہے تو کس کے روبرو ہے پھر کوئی زخم تازہ شاید ملے گا دل کو تعمیر آشیاں کی پھر دل کو آرزو ہے ان ...

مزید پڑھیے

ساقی کو اگر فکر مداوا بھی نہیں ہے

ساقی کو اگر فکر مداوا بھی نہیں ہے اس کم نگہی کا ہمیں شکوہ بھی نہیں ہے وہ جور سے باز آیا ہو ایسا بھی نہیں ہے اور شہر میں ظالم کہیں رسوا بھی نہیں ہے اچھا ہے اگر آپ کا ہو جائے اشارہ طوفان کئی روز سے اٹھا بھی نہیں ہے پلکوں پہ چمکنے لگے اشکوں کے ستارے ہونٹوں پہ تبسم ابھی آیا بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

گردش میں چشم دوست کا پیمانہ آگیا

گردش میں چشم دوست کا پیمانہ آگیا لیجے مقام سجدۂ شکرانہ آ گیا میں اور شراب ناب مگر اس کو کیا کروں غم مجھ کو لے کے جانب مے خانہ آ گیا یارائے ضبط رہ نہ سکا روبروئے دوست آنکھوں میں کھنچ کے درد کا افسانہ آ گیا سوئے حرم چلے تھے بڑے اہتمام سے قسمت کی بات راہ میں بت خانہ آ گیا سجدے مچل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 736 سے 5858