شاعری

نہ آئی جس کی سحر ایک رات ایسی بھی

نہ آئی جس کی سحر ایک رات ایسی بھی گزار آئے مگر ایک رات ایسی بھی ادھر گزرتی ہیں جیسے عذاب میں راتیں گزرتی کاش ادھر ایک رات ایسی بھی بجھا سکوں میں دیوں کو خوشی خوشی جس میں تو میری نذر تو کر ایک رات ایسی بھی جدا ہے دشت کی شب تیرے شہر کی شب سے لے چل سمیٹ کے گھر ایک رات ایسی بھی میں ...

مزید پڑھیے

فرشتہ

وہ جانتا تھا وہ کبھی نہیں آئے گا پھر بھی اس نے اس کے آنے کی افواہ پھیلائی تاکہ امید زندہ رہے

مزید پڑھیے

ذبح

ان دنوں کھل کر کوئی نہیں ہنستا کوئی نہیں روتا کھل کر ہنسنا چھپا ہوتا ہے رونے میں رونا چھپا ہوتا ہے ہنسنے میں ایسا مجھے نوٹنکی کے اس مسخرے نے بتایا جو ان دنوں گاؤں کے بازار میں مرغے کاٹا کرتا ہے

مزید پڑھیے

ملک ہے یا مقتل

تمہاری خوبصورتی ہے یا موت کا خیال باغوں میں اس بار کچھ زیادہ ہی کھلے ہیں گلاب دیکھو ان موروں کی آنکھوں میں بادلوں کا طویل انتظار ہماری بے چارگی تمہارے ناز و انداز تاریخ گواہ ہے کتابیں بھری پڑی ہے زندہ افسانوں سے اس کشمکش کا حاصل کیا ہے وصل یا فراق یہ آڑی ترچھی سی لکیریں جن سے بنے ...

مزید پڑھیے

رابطہ اک حسین ٹوٹا ہے

رابطہ اک حسین ٹوٹا ہے پھول تازہ ترین ٹوٹا ہے دل تو کامن سی چیز ہے یارو مجھ سے اس کا یقین ٹوٹا ہے اتنے جگنو کہاں سے آئے ہیں کیا ستارا مہین ٹوٹا ہے اب کے تو اشک بھی نہیں آئے اب کے دل بہترین ٹوٹا ہے ہنستی آنکھوں میں ٹوٹے سپنے ہیں ہے مکاں پر مکین ٹوٹا ہے

مزید پڑھیے

میں اوبتا ہوں نہ قصہ کو اور لمبا کھینچ

میں اوبتا ہوں نہ قصہ کو اور لمبا کھینچ اگر ہے ہاتھ میں ڈوری تو پھر یہ پردہ کھینچ چرا کے نیند مری چین سے جو سویا ہے اسے دکھا تو برے خواب سر سے تکیہ کھینچ بتا کہ جسم کا آزار لا علاج ہوا طبیب جان کی پروا نہ کر تو پیسہ کھینچ سرنگ جسم ہے لمبی سو احتیاط برت بھٹک نہ جائے کہیں سانس کو نہ ...

مزید پڑھیے

داخل‌ خارج

ہجرت ہوتی ہے سب کی ایک ہی جیسی منزل نہیں ملتی سب کو ایک سی سارے لگاؤ ایک سا ہی دکھ دیتے ہیں خوشیاں دیگر ہوتی ہیں سب کی جو تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دو سناتے ہوئے زندگی میں آئے وے میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے وہ لوٹا دو سناتے ہوئے چلے گئے ایک تنہا شخص جب پھر سے تنہا ...

مزید پڑھیے

بے رخی

رات بارش پھول اور انتظار میری بھاشا میں استریوں کے نام ہیں کیا فرق پڑتا ہے جو کہی بھی رہوں تمہاری ساری مسکراہٹیں تصویروں میں قید ہوں پہنچ رہی ہیں میرے پاس ایسا لگ رہا دھرتی پر دو ہی لوگ بے روزگار ہیں ایک میں اور دوسرا شاید وہ آئنہ جس میں آج کل تم کم دیکھا کرتی ہو

مزید پڑھیے

دعا گوئی

کچھ عورتیں چلی آئی ہیں زندگی بھر مجھے کرتے ہوئے معاف ان کا ہمیشہ رہتا ہوں شکر گزار کوئی ایک چوک کو بھی تا زندگی نہیں کر پائی معاف چاہے دلی رہوں یا پنجاب جان گیا ہوں عاشق ہونا نعمت ہے محبوب ہونا عذاب کیا المیہ ہے دعا کے لیے جب بھی اٹھاتا ہوں ہاتھ کم بخت معافی کے لیے دل سے آتی ہے ...

مزید پڑھیے

ڈر

مت سوچو سب اس پے چھوڑ دو مجھے ڈر ہے آخر اس کو کس پہ چھوڑ دوں

مزید پڑھیے
صفحہ 624 سے 5858