شاعری

یاد گوئی

گریشم کی دل فریب راتری کیا ہوڑ لگا کر کھلے ہیں املتاس اور مدھو مالتی رنگ اور سگندھ آج ڈھو رہے ہیں تمہاری یادوں کی پالکی اس سڑک سے اتنی بار گزرا ہوں کہ آہٹ کو پہچاننے لگے ہیں کتے مجھے اپنے اتنے قریب دیکھ کر بھی ان میں کوئی حرکت کوئی سگبگاہٹ نہیں غالباً اب انہیں بھی مجھ سے کوئی ...

مزید پڑھیے

سمجھا جانا

من کو سمجھنا آسان نہیں رہا تتھاگت کے لئے نہ ہی اچھاؤں کو جاننا واتسیاین کے لئے سمبندہ میں ہونا نہیں سمجھا جانا نیتی ہے منشیہ کی سب سے سہج ہے کہہ دینا کسی سے کہ تم نے مجھے سمجھا ہی نہیں تراسدیوں مہا نایکوں کے جیون میں ہی نہیں ہمارے آپ کے جیون میں بھی ہیں بس ان پر لکھے نہیں جاتے مہا ...

مزید پڑھیے

ضد

ضد اسے بھی ہے ضد مجھے بھی ہے ہمارا پیار دونوں ہاتھوں میں ضد کی بالٹیاں اٹھائے سیڑھیاں چڑھ رہا ہے

مزید پڑھیے

بازار

میں اڑ رہا ہوں آسماں میں تو نگل رہا ہے زمیں پر میری پرچھائی

مزید پڑھیے

پریم گلی

کبیر کی پریم گلی بہت تنگ ہے گھٹن ہوتی ہے ذرا فاصلے کرو میرے پیچھے ہجوم آ رہا ہے

مزید پڑھیے

الجھن

سلجھاتے سلجھاتے آخر کار اتنے الجھ گئے ہیں سارے سمیکرن کہ زندگی گویا موج کی رسی ہو گئی ہے اس کے جیون میں نہ کوئی پریم بچا ہے نہ پرتکشا وہ خود ہی محسوس کرنے لگا ہے خود کی ویرتھتا جب بھی سنانا شروع کرتا ہے کوئی قصہ کیندر سے پریدھی تک خود کو کہیں بھی نہیں پاتا ان دنوں اداسی کوئی ہیر ...

مزید پڑھیے

کونا

میرے بھیتر ایک گول کمرہ ہے جس میں رہتی ہے ایک لڑکی جو رونے کے لئے کونے ڈھونڈتی لگاتار گھوم رہی ہے

مزید پڑھیے

اٹھو زمانے کے آشوب کا ازالہ کریں

اٹھو زمانے کے آشوب کا ازالہ کریں بنام گل بدناں رخ سوئے پیالہ کریں بیاد دیدۂ مخمور پر پیالہ کریں اٹھو کہ زہر کا پھر زہر سے ازالہ کریں وہ رند ہیں نہ اٹھائیں بہار کا احساں ورود ہم تری خلوت میں بے حوالہ کریں کہاں کے دیر و حرم آؤ ایک سجدۂ شوق بپائے ہوش ربایان بست سالہ کریں برس پڑے ...

مزید پڑھیے

لائی نہیں پیام کوئی زلف یار سے

لائی نہیں پیام کوئی زلف یار سے مجھ کو شکایتیں ہیں نسیم بہار سے کھیلا ہو جو درازیٔ گیسوئے یار سے وہ کیا ڈرے گا طول شب انتظار سے آہستہ اے نسیم کہ یہ زندگی مری ملتی ہوئی ہے شمع سر رہ گزار سے میرا ہی ایک عکس ہے کیا طور کیا کلیم دیکھے کوئی مجھے نگہ اعتبار سے اک داغ ہی سہی ٹھہر اے ...

مزید پڑھیے

جیامیتی

جیون بھی جیامیتی کی طرح پورک اور انوپورک کونوں سے ہوتا ہے سنچالت کچھ پکڑتے ہیں تو چھوٹ جاتا ہے بہت کچھ کچھ چھوٹتا ہے تو مل جاتا ہے کچھ اپنے حصے کا مان ہی نہیں ملتا یہاں پانا ہوتا ہے اپمان بھی جو کھاتا ہے کٹہل کا کوآ اسے ہی پچانا ہوتا ہے بیج اور موسل بھی کیول دیوتاؤں کے حصے آئے وش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 625 سے 5858