شاعری

زمیں پہ رہتے ہوئے کہکشاں سے ملتے ہیں

زمیں پہ رہتے ہوئے کہکشاں سے ملتے ہیں ہمارے رنگ بھی اب آسماں سے ملتے ہیں ہمارے حال کی بوسیدگی پہ مت جاؤ خزانے اب بھی پرانے مکاں سے ملتے ہیں تری قسم کا بھی اب کیسے اعتبار کریں ترے یقیں تو ہمارے گماں سے ملتے ہیں وفا خلوص محبت ہمارا حصہ ہے ہر ایک شخص کو یہ سب کہاں سے ملتے ہیں گلے ...

مزید پڑھیے

زندگی تجھ سے پیار کیا کرتے

زندگی تجھ سے پیار کیا کرتے تجھ پہ ہم جاں نثار کیا کرتے عمر گزری ہے خود سے لڑتے ہوئے غیر کا اعتبار کیا کرتے وہ گھڑی ہم نے جو جیا ہی نہیں زندگی میں شمار کیا کرتے اب محبت میں جی نہیں لگتا اک خطا بار بار کیا کرتے اس نے دیکھا تھا ایسی نظروں سے مر نہ جاتے تو یار کیا کرتے مفلسی ہم نے ...

مزید پڑھیے

کوئی محبوب ستم گر بھی تو ہو سکتا ہے

کوئی محبوب ستم گر بھی تو ہو سکتا ہے پھول کے ہاتھ میں خنجر بھی تو ہو سکتا ہے ایک مدت سے جسے لوگ خدا کہتے ہیں چھو کے دیکھو کہ وہ پتھر بھی تو ہو سکتا ہے مجھ کو آوارگئ عشق کا الزام نہ دو کوئی اس شہر میں بے گھر بھی تو ہو سکتا ہے کیسے ممکن کہ اسے جاں کے برابر سمجھوں وہ مری جان سے بڑھ کر ...

مزید پڑھیے

بہت اداس ہے دل جانے ماجرا کیا ہے

بہت اداس ہے دل جانے ماجرا کیا ہے مرے نصیب میں غم کے سوا دھرا کیا ہے میں جن کے واسطے دنیا ہی چھوڑ آیا تھا وہ پوچھتے ہیں کہ آخر تجھے ہوا کیا ہے نبھا رہا ہوں میں دنیا کے راہ و رسم یہاں وگرنہ جسم کے صحرا میں اب بچا کیا ہے یہاں تو عید کا موسم بھی اب نہیں آتا نہ جانے گردش دوراں کو ہو ...

مزید پڑھیے

کہاں تلک تری یادوں سے تخلیہ کر لیں

کہاں تلک تری یادوں سے تخلیہ کر لیں ہم اپنے آپ کو بھولے ہیں اور کیا کر لیں نہ اشک آنکھ میں آئے نہ آنکھ بہہ نکلے تو کیوں نہ جانب پہلو ہی آج وا کر لیں ہزار رنگ قباؤں پہ ڈال رکھے ہیں عجیب خبط ہے دامن کو پارسا کر لیں بڑے غرور سے کی ہے ضمیر نے توبہ جو تو ملے کبھی تنہا تو پھر خطا کر ...

مزید پڑھیے

کیوں نہ اب اس کے رو بہ رو روئیں

کیوں نہ اب اس کے رو بہ رو روئیں اب کے آنسو نہیں لہو روئیں میں زیادہ نہ آپ کم رؤو پاس آؤ کہ ہو بہ ہو روئیں کون ہے کس کو فرق پڑتا ہے گھر میں روئیں کہ کو بہ کو روئیں خشک آنکھوں کا رونا بھی کیا ہے آنسوؤں سے کریں وضو روئیں وقت رخصت ہے سو خدا کے لیے رکھ لیں آنکھوں کی آبرو روئیں ہائے ...

مزید پڑھیے

سر سے اک قطرہ خوں نہیں نکلا

سر سے اک قطرہ خوں نہیں نکلا ہاں ابھی تک جنوں نہیں نکلا آنکھ تک آ کے بن گیا آنسو درد دل جوں کا توں نہیں نکلا ہائے قسمت تمام عمر میں بھی ایک پل پر سکوں نہیں نکلا یوں تسلی مجھے وہ دیتا ہے میں ترے دل میں ہوں نہیں نکلا درد سے جاں نکل گئی لیکن تیر کا کیا کروں نہیں نکلا

مزید پڑھیے

لہو گرے تو کریں واہ کانچ کے ٹکڑے

لہو گرے تو کریں واہ کانچ کے ٹکڑے ہمارے پاؤں کے ہم راہ کانچ کے ٹکڑے چلیں جو ایک پہ تو دوسرا جھکا لے سر ہمارے درد سے آگاہ کانچ کے ٹکڑے نکل رہے ہیں سبھی بچ کے پر اٹھاتے نہیں پڑے ہوئے ہیں سر راہ کانچ کے ٹکڑے نہیں نہیں اسے ان کا ستم نہیں کہیے ہمارے زخم کی ہیں چاہ کانچ کے ٹکڑے سمجھ ...

مزید پڑھیے

غریب آنکھ کے گھر میں پلے بڑھے ہیں خواب

غریب آنکھ کے گھر میں پلے بڑھے ہیں خواب تبھی تو نیند کی قیمت سمجھ رہے ہیں خواب امید فصل نہ کیجے بغیر پانی کے بھری بھری ہیں جو آنکھیں ہرے بھرے ہیں خواب حقیقتوں میں تو کس کس سے روبرو ملتا سہولتیں تجھے ہوں اس لیے بنے ہیں خواب تمہارے ہجر نے تاثیر خوب پائی ہے اڑی ہیں نیند ہماری اڑے ...

مزید پڑھیے

وصل کی سانس اکھڑنے کا وقت

وصل کی سانس اکھڑنے کا وقت ہائے وہ وقت بچھڑنے کا وقت ہجر کے نام کی انگوٹھی میں یاد کے ہیرے کو جڑنے کا وقت تتلیاں دور ہوئیں پھولوں سے آ گیا باغ اجڑنے کا وقت تنگئ وقت ہے آ پیار کریں وقت فرصت رکھیں لڑنے کا وقت اس کی یادوں سے نکلنا ہے ضیاؔ ہے نئے عشق میں پڑنے کا وقت

مزید پڑھیے
صفحہ 623 سے 5858