دیوار کے ہوئے تو کبھی در کے ہو گئے
دیوار کے ہوئے تو کبھی در کے ہو گئے میرے چراغ باد ستم گر کے ہو گئے میں اس طرح سے کوچۂ وحشت کی ہو گئی ملاح جس طرح سے سمندر کے ہو گئے اس کے دل و نگاہ کا کس سے کریں گلہ اس کے دل و نگاہ تو پتھر کے ہو گئے جو مجھ کو چاہتے تھے کبھی سر سے پاؤں تک دشمن نہ جانے کیوں وہ مرے سر کے ہو گئے جو ...