شاعری

باندھے اگر جو دنیا کسی ڈور سے مجھے

باندھے اگر جو دنیا کسی ڈور سے مجھے تو کھینچ لینا اپنی طرف زور سے مجھے کچھ بول اور کاٹ دے خاموشیوں کا جال وحشت ہے یار اتنے گھنے شور سے مجھے داخل ہوں تیرے دل میں دبے پاؤں کس طرح یہ کام سیکھنا ہے کسی چور سے مجھے وے پوچھے میری خواہشیں تو میں اسے کہوں اک وعدہ چاہیئے تھا تری اور سے ...

مزید پڑھیے

بس خطروں کی خاطر جانے جاتے ہیں

بس خطروں کی خاطر جانے جاتے ہیں جن رستوں سے ہم دیوانے جاتے ہیں اتنی شہرت کافی ہے جینے کے لئے ان کی نظروں میں پہچانے جاتے ہیں ہمت والے ہجر میں کہتے ہیں غزلیں جو بزدل ہیں وہ میخانے جاتے ہیں روز بجھا دیتے ہیں خود ہی تیلی کو روز تری تصویر جلانے جاتے ہیں ان کو دیکھ کے پوری غزل ہو ...

مزید پڑھیے

چھوٹی چھوٹی باتوں پر تم خوب تماشا کرتی ہو

چھوٹی چھوٹی باتوں پر تم خوب تماشا کرتی ہو تم کو دیکھ کے کون کہے گا اک منصف کی بیٹی ہو یہ بھی اک کارن تھا تم سے اپنے راز چھپانے کا چاہے جتنا سمجھاؤ تم دنیا سے کہہ دیتی ہو وقت کے رہتے بیگ میں تم نے اپنے کپڑے رکھے نئیں گاڑی چھوٹ رہی ہے اب کیوں دیکھ کے مجھ کو روتی ہو دنیا کیا کیا سوچ ...

مزید پڑھیے

جھاڑو برتن کر کے چھت پر بیٹھ گئی

جھاڑو برتن کر کے چھت پر بیٹھ گئی آخر انساں ہے وہ تھک کر بیٹھ گئی میں پھر ٹرین کے آگے جا کر لیٹ گیا جب وہ پگلی ٹرین میں جا کر بیٹھ گئی لوگوں نے کتنے مفہوم نکالے ہیں اک لڑکی کیا میرے برابر بیٹھ گئی جان سے میں جاؤں گا اس کا کیا ہوگا وہ تو جھوٹی قسمیں کھا کر بیٹھ گئی

مزید پڑھیے

کھینچ ہی لے گا دوستی کی طرف

کھینچ ہی لے گا دوستی کی طرف اس کے دشمن بھی ہیں اسی کی طرف ایک پتوار ناؤ کی خاطر اک نظر میری زندگی کی طرف اک جھلک اس حسین چہرے کی اک قدم اور شاعری کی طرف آپ کا ساتھ جس کو مل جائے کیوں ہی دیکھے گا وے گھڑی کی طرف بچہ بولا غبارے والے سے ایک چکر مری گلی کی طرف جب بھی پھولوں کا ذکر ...

مزید پڑھیے

عشق کر نہیں رہے

عشق کر نہیں رہے پھر بھی مر نہیں رہے میری بستیوں کے گھر میرے گھر نہیں رہے تیری بارشوں سے بھی مٹکے بھر نہیں رہے عادتاً خموش ہیں تجھ سے ڈر نہیں رہے چھٹی والے دن بھی ہم اپنے گھر نہیں رہے

مزید پڑھیے

مانا میری ان سے باتیں ہوتی ہیں

مانا میری ان سے باتیں ہوتی ہیں لیکن تصویریں تصویریں ہوتی ہیں لوگوں سے اچھی تصویریں ہوتی ہیں جتنی چاہو اتنی باتیں ہوتی ہیں جھوٹے دلاسے مت دو میں یہ جانتا ہوں بیماروں سے کیسی باتیں ہوتی ہیں ہجر کے دن ایسے دن ہوتے ہیں جن میں راتوں کے آگے بھی راتیں ہوتی ہیں

مزید پڑھیے

بچھڑ کے دونوں کے ذہنوں پہ بوجھ پڑتا ہے

بچھڑ کے دونوں کے ذہنوں پہ بوجھ پڑتا ہے رہیں جو ساتھ تو آنکھوں پہ بوجھ پڑتا ہے پھلوں کے ہونے سے شاخیں فقط لچکتی ہیں پھلوں کے گرنے سے شاخوں پہ بوجھ پڑتا ہے تمہارے ذکر کی عادت ہوئی ہے ایسی انہیں کچھ اور بولیں تو ہونٹوں پہ بوجھ پڑتا ہے بس ایک چہرے کو سپنے میں دیکھنے کے لئے تمام عمر ...

مزید پڑھیے

اگر وہ پوچھے کوئی بات کیا بری لگی ہے

اگر وہ پوچھے کوئی بات کیا بری لگی ہے زیادہ سوچنا مت بول دینا جی لگی ہے بری لگی تری موجودگی کلاس میں آج کہ میرے بولے بنا تیری حاضری لگی ہے اسے مناتے مناتے میں روٹھنے لگا تھا پھر اس نے پوچھ لیا فلم کون سی لگی ہے اے موت ٹھہر ذرا صبر کر قطار میں دیکھ کہ تجھ سے آگے بہت آگے زندگی لگی ...

مزید پڑھیے

صرف زندہ ہی نہیں ہوش سنبھالے ہوئے ہیں

صرف زندہ ہی نہیں ہوش سنبھالے ہوئے ہیں آپ کو دشت میں یعنی ابھی ہفتے ہوئے ہیں کون چاہے گا درخت اس کے ثمر بار نہ ہوں تو بنے اس لیے ہم خود کو مٹائے ہوئے ہیں یہ جو بچے ہیں فقط جھولا نہیں جھول رہے شاخ پے پھول کی مانند یہ لٹکے ہوئے ہیں ان درختوں کے فوائد کا تمہیں علم نہیں ان کو مت کاٹو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5493 سے 5858