مرا ہم سفر کبھی وہم تھا کبھی خواب تھا کبھی کیا رہا
مرا ہم سفر کبھی وہم تھا کبھی خواب تھا کبھی کیا رہا میں عجیب حال میں مست تھا سو مرا مذاق بنا رہا مری مشکلوں نے عیاں کیا مرا یار دوست کوئی نہیں سو قبیل حرص و ہواس میں میں اکیلا ڈٹ کے کھڑا رہا مرے آشیاں کو جلا گئیں مرے خام سوچ کی حدتیں مرا سر حیا سے نہ اٹھ سکا میں ندامتوں میں پڑا ...