شاعری

ہاتھ میں اپنے حفاظت کا عصا لے جانا

ہاتھ میں اپنے حفاظت کا عصا لے جانا گھر سے جانا تو بزرگوں کی دعا لے جانا بات جب ترک تعلق ہی پہ آ پہنچی ہے اپنے خط بھی مرے کمرے سے اٹھا لے جانا جیب خالی ہے مگر دل میں بڑی وسعت ہے تم مرے گاؤں کے لوگوں سے وفا لے جانا تیرے ہاتھوں میں ہے پتوار مری کشتی کی تو جدھر چاہے اسی سمت بہا لے ...

مزید پڑھیے

کھو جاؤں مشت خاک میں ایسا نہیں ہوں میں

کھو جاؤں مشت خاک میں ایسا نہیں ہوں میں دریا ہوں اپنی ذات میں قطرہ نہیں ہوں میں گزروں گا جس جگہ سے نشاں چھوڑ جاؤں گا آندھی ہوں اپنے وقت کی جھونکا نہیں ہوں میں منزل سے یہ کہو کہ کرے میرا انتظار ٹھہرا ہوا ضرور ہوں بھٹکا نہیں ہوں میں پوچھی ہے خط میں آپ نے جو خیریت مری کیسے لکھوں ...

مزید پڑھیے

عجب ہی کیا ہے اگر دھند میں غبار میں ہے

عجب ہی کیا ہے اگر دھند میں غبار میں ہے وہ شخص اپنے بنائے ہوئے حصار میں ہے کہاں ہے وقت ابھی ہم کو دل لگانے کا ہماری سوچ ابھی فکر روزگار میں ہے غموں کے سائے میں خوشیوں کے پھول مہکے ہیں خزاں کا عکس بھی کچھ موسم بہار میں ہے جو اقتدار کے لائق نہ تھا کسی صورت ستم یہ ہے کہ وہی شخص ...

مزید پڑھیے

بے نیاز صوت و محروم بیاں رکھا گیا

بے نیاز صوت و محروم بیاں رکھا گیا یعنی حرف شوق کو زیر زباں رکھا گیا خواب میں رکھی گئی بنیاد شہر آرزو قید میں برفاب کی شعلہ جواں رکھا گیا رہنمائی دی گئی ہر موج تند و تیز کو پانیوں پر ہر سفینے کو رواں رکھا گیا قدسیوں کو رفعتیں بخشی گئیں فردوس کی خاک کے پتلے کو زیر آسماں رکھا ...

مزید پڑھیے

بھیڑ چاروں طرف مگر تنہا

بھیڑ چاروں طرف مگر تنہا لوگ رہتے ہیں عمر بھر تنہا کارواں کارواں ہر اک منظر آدمی آدمی مگر تنہا سیکڑوں قافلے گزرتے ہیں اور رہتی ہے رہ گزر تنہا اب محافظ بھی لوٹ لیتے ہیں چھوڑ کر جائیے نہ گھر تنہا روز ملتا ہوں سیکڑوں سے مگر روز جاتا ہوں اپنے گھر تنہا دوستوں کی تلاش میں ...

مزید پڑھیے

جب بھی اس کا خیال کرتا ہوں

جب بھی اس کا خیال کرتا ہوں اپنی غزلوں میں رنگ بھرتا ہوں شہر سے اس کے جب گزرتا ہوں خود بخود ٹوٹتا بکھرتا ہوں دیکھتا ہوں بلندیوں کی طرف سیڑھیاں جب کبھی اترتا ہوں آپ ڈرتے ہیں اپنے دشمن سے اور میں دوستوں سے ڈرتا ہوں ظالموں سے تجھے کرم کی امید میں تری سادگی پہ مرتا ہوں میں مسافر ...

مزید پڑھیے

نفرتوں کی نئی دیوار اٹھاتے ہوئے لوگ

نفرتوں کی نئی دیوار اٹھاتے ہوئے لوگ کیا عجب لوگ ہیں زندان بناتے ہوئے لوگ تیرا ہر نقش مٹاتی ہوئی یادیں تیری اور پھر مجھ کو تری یاد دلاتے ہوئے لوگ کیا خبر کس کو ترے ہجر نے بخشی ہے نجات جانے وہ کون تھے اشکوں میں نہاتے ہوئے لوگ اب تو ہر گام پہ ہر موڑ پہ مل جاتے ہیں دیکھ کر مجھ کو ...

مزید پڑھیے

محبتوں کے نئے دائروں میں رہتا ہوں

محبتوں کے نئے دائروں میں رہتا ہوں خطوں کے متن سے اب حاشیوں میں رہتا ہوں تمام جسم ہی آنکھیں کئے ہے وہ اپنا میں ایک وقت کئی آئنوں میں رہتا ہوں میں جان جان نچھاور ہوں اپنی مٹی پر وہ سوچتے ہیں کہ میں سازشوں میں رہتا ہوں قدم قدم پہ بلائیں ہیں میرے حصے میں میں خوش نصیب سدا سانحوں میں ...

مزید پڑھیے

دیکھتے ہی دھڑکنیں ساری پریشاں ہو گئیں

دیکھتے ہی دھڑکنیں ساری پریشاں ہو گئیں تیری آنکھیں اے ستم گر آفت جاں ہو گئیں آ گیا پلکوں پہ اشکوں کے پتنگوں کا ہجوم جب کسی کی یاد کی شمعیں فروزاں ہو گئیں پھر مری تسبیح کے دانے بکھر کر رہ گئے پھر دعائیں آج ان کے در کی مہماں ہو گئیں ان کے ہر اک لمس کا ایسا اثر مجھ پر ہوا دل کی ...

مزید پڑھیے

جو ایک عمر ہنسا تھا مجھے ستاتے ہوئے

جو ایک عمر ہنسا تھا مجھے ستاتے ہوئے وہ رو پڑا ہے مری داستاں سناتے ہوئے کسی کے پیار کی یہ آخری نشانی ہے ہوا نے یہ بھی نہ سوچا دیا بجھاتے ہوئے تمہیں بھی وقت کی گردش نگل نہ جائے کہیں ذرا خیال ہو میری ہنسی اڑاتے ہوئے وہ شخص جس کا تعلق نہ تھا کوئی مجھ سے یہ کیا کہ رونے لگا مجھ سے دور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4394 سے 5858