شاعری

کیڑے

مرے کپڑوں کو کیڑے کھا گئے تو میں نے یہ سوچا مرے ننگے بدن کا بھی یہی انجام ہونا ہے مگر یہ جان کر میں کتنا خوش ہوں کتنا آسودہ کہ میری روح میرا ذہن اور افکار و احساسات ہیں محفوظ کیڑوں سے مجھے ان کا خیال آتا ہے جن کی روح کو اور ذہن کو چاٹا ہے کیڑوں نے چھپانا چاہتے ہیں جو لباس فاخرہ میں ...

مزید پڑھیے

زندگی اک سزا لگے ہے مجھے

زندگی اک سزا لگے ہے مجھے جب سے تو بے وفا لگے ہے مجھے تجھ میں خود کو تلاش کرتا ہوں تو مرا آئینہ لگے ہے مجھے ناصح کم نگاہ کا کردار عشق میں اب برا لگے ہے مجھے اپنی آواز سے بھی ڈرتا ہوں ساز دل بھی سزا لگے ہے مجھے انتہا ہے یہ بد نصیبی کی ہر دعا بد دعا لگے ہے مجھے عاشقی جرم تو نہیں ...

مزید پڑھیے

کیا خبر تھی ایک دن یہ حادثہ ہو جائے گا

کیا خبر تھی ایک دن یہ حادثہ ہو جائے گا عمر بھر چاہا جسے وہ بے وفا ہو جائے گا ہو اگر عزم مصمم خواہش منزل کے ساتھ راہ کا پتھر بھی اک دن رہ نما ہو جائے گا اس قدر بڑھنے لگی ہے ہر طرف آلودگی سانس لینا آدمی کا مسئلہ ہو جائے گا زندگی بھر ساتھ چلنے کی جو کھاتا ہے قسم دیکھنا وہ راستے ہی ...

مزید پڑھیے

سب کچھ کاروباری ہے

سب کچھ کاروباری ہے لہجہ تک بازاری ہے چہروں پر چہروں کا بوجھ کیسی دنیا داری ہے کہتے ہیں آسان ہے سب کرنے میں دشواری ہے رشتے ناطے رسم و رواج دین سے دنیا بھاری ہے ہم ہیں دور سیاست سے ہم کو عزت پیاری ہے اس کو پا کر خود کھو جاؤں کیسی یہ بیماری ہے ہے مشہور بھی رسوا بھی وہ اعجازؔ ...

مزید پڑھیے

اپنے محافظوں سے ہراساں ہے زندگی

اپنے محافظوں سے ہراساں ہے زندگی اس زندگی کے حال پہ حیراں ہے زندگی یوں رونما ہوئے مرے حالات میں تضاد گلشن کبھی تھی آج بیاباں ہے زندگی اس شخص کا بھی آج مقدر سنور گیا لکھا تھا جس کے در پہ پریشاں ہے زندگی گھر بیٹھنے سے مل نہ سکے گا کوئی سراغ عزم و عمل کی راہ میں پنہاں ہے ...

مزید پڑھیے

خدا اسے بھی کسی دن زوال دیتا ہے

خدا اسے بھی کسی دن زوال دیتا ہے زمانہ جس کے ہنر کی مثال دیتا ہے وہ جب شعور کو لفظوں میں ڈھال دیتا ہے عجیب سوچ نرالے خیال دیتا ہے کوئی سمجھ نہ سکا اس کی دین کا اندازہ کبھی خوشی کبھی رنج و ملال دیتا ہے کبھی وہ زخم لگاتا ہے میرے سینے پر کبھی وہ پاؤں سے کانٹا نکال دیتا ہے اسی نے دی ...

مزید پڑھیے

بچھڑ کے تجھ سے مجھے دکھ تو ہے ملال تو ہے

بچھڑ کے تجھ سے مجھے دکھ تو ہے ملال تو ہے مگر یہ پیار نبھانا بھی اک کمال تو ہے کرم سہی نہ سہی اب ترے ستم ہی سہی یہی بہت ہے کہ تجھ کو مرا خیال تو ہے میں اس خیال سے شہرت سے دور رہتا ہوں عروج کتنا بھی ہو ایک دن زوال تو ہے میں بجھ گیا ہوں زمانے کی آندھیوں سے مگر مرا وجود سلگتا ہوا سوال ...

مزید پڑھیے

ہر اک تحریر نفرت کی مٹانا چاہتا ہوں میں

ہر اک تحریر نفرت کی مٹانا چاہتا ہوں میں محبت ہی محبت کا فسانہ چاہتا ہوں میں فصیلیں نفرتوں کی سب گرانا چاہتا ہوں میں امیر شہر کا لیکن اشارہ چاہتا ہوں میں اندھیری رات میں سورج اگانا چاہتا ہوں میں چراغوں میں لہو اپنا جلانا چاہتا ہوں میں فلک چھوتے مکانوں کی ہوس تم کو مبارک ہو فقط ...

مزید پڑھیے

غم حیات کا منظر بدلنے والا ہے

غم حیات کا منظر بدلنے والا ہے خوشی مناؤ کہ سورج نکلنے والا ہے وہ شخص جس نے ہمیشہ خلوص بانٹا تھا ذرا سی بات پہ تیور بدلنے والا ہے غرور ہونے لگا اس کو اپنی شہرت پر یہ اژدہا اسے زندہ نگلنے والا ہے سنبھالو اپنے سفینے خود اپنے ہاتھوں میں سنا ہے آج سمندر مچلنے والا ہے وقار علم و ہنر ...

مزید پڑھیے

یہ تیری یاد ہے تیرا خیال ہے کیا ہے

یہ تیری یاد ہے تیرا خیال ہے کیا ہے اندھیری رات ہے پھر بھی بہت اجالا ہے وفا فریب ہے اعجازؔ عشق دھوکا ہے بنا غرض کے یہاں کون کس سے ملتا ہے غموں نے چہرا کچھ اتنا بگاڑ رکھا ہے کہ آئنہ ہو مقابل تو خوف آتا ہے بدن ہے شاخ کی مانند گل سا چہرہ ہے ہماری جاگتی آنکھوں نے کس کو دیکھا ہے غرض ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4393 سے 5858