چبھن سے درد سے قربت بڑھا رہا ہے کوئی
چبھن سے درد سے قربت بڑھا رہا ہے کوئی دیار دل سے کہیں دور جا رہا ہے کوئی سمندروں سے کہو کشتیاں ڈبو ڈالیں ہماری موت کے قصے سنا رہا ہے کوئی اسے بتاؤ خوشی دیر تک نہیں رہتی مرے غموں پہ بہت مسکرا رہا ہے کوئی مرا ہی نام نہیں ہے مری کہانی میں کہ مجھ سے ذات کو میری چھپا رہا ہے کوئی کسی ...