کوشش
تمہیں بھلانے کی کوشش میں میں نے نہ جانے کتنی لڑکیوں سے جھوٹا پیار کیا ہے
تمہیں بھلانے کی کوشش میں میں نے نہ جانے کتنی لڑکیوں سے جھوٹا پیار کیا ہے
خواہش کے شکاری کتے میرا پیچھا کر رہے ہیں میری بو سونگھتے ہوئے زندگی کی آخری حد تک آ گئے ہیں اب خوابوں کا گہرا غار بھی مجھے بچا نہیں سکتا
اب چائے ٹھنڈی نہیں ہوگی داڑھی اب نہیں بڑھے گی اب قمیص کے بٹن نہیں ٹوٹیں گے تغافل کسی کا اب نہیں ستائے گا اب کسی کے انتظار کا غم نہیں رلائے گا تھکن اب پیروں سے نہیں الجھے گی فاصلے اب درمیاں نہیں آئیں گے دل میں اب کوئی خلش نہیں ہوگی اب دیر تک نیند آئے گی آفس جانے کے لئے مجھے اب بیوی ...
ٹوٹی ہوئی بوتل کی طرح بے کار بے مقصد زندگی کے طاق میں رکھا ہوا ہوں میں وہ کون تھا جو چھوڑ گیا میرے وجود کے شیشے پر اپنی لہو رنگ یادوں کے نشاں اس سے پہلے کہ بارش ان نشانات کو دھو ڈالے میں ریزہ ریزہ ہو جاؤں فرش پر بکھر جاؤں وقت کے پیروں میں چبھ جاؤں فرش زمیں کو رنگیں کر دوں اور خود ...
میرا سایہ میرے قد سے بڑا ہے لیکن جب روشنی کا زاویہ بدلے گا سایہ چھوٹا ہو جائے گا میرا سایہ روشنی کا غلام ہے
اے کاش ہو برسات ذرا اور ذرا اور بڑھ جائے ملاقات ذرا اور ذرا اور ہاتھوں میں ترا ہاتھ یہ کافی تو نہیں ہے مل جائیں خیالات ذرا اور ذرا اور کھلتی ہے یہ تنہائی تو دوری بھی مٹا دے تو مان مری بات ذرا اور ذرا اور بجھتی ہے کہاں پیاس اب آنکھوں سے پلا کر دے پیار کی سوغات ذرا اور ذرا ...
مطلب کا کوئی شعر سنائیں جہاں پناہ ہم سامعیں پہ قہر نہ ڈھائیں جہاں پناہ بچوں کو بھوکے پیٹ سلانے کے بعد ہم کیسے غزل کے شعر سنائیں جہاں پناہ ہر سو بکھیرتا ہو برابر سی روشنی ایسا بھی اک چراغ جلائیں جہاں پناہ پردے کے پیچھے بیٹھ کہ کھلیں گے کب تلک پردے کے سامنے بھی تو آئیں جہاں ...
تمہاری تاریخ کوئی بدلے اسے مٹائے تو سر اٹھاؤ اگر شرافت نہ کام آئے نہ حق دلائے تو سر اٹھاؤ کہیں اجالا کہیں اندھیرا بغیر سازش نہیں ہے ممکن چراغ جب روشنی برابر نہ بانٹ پائے تو سر اٹھاؤ کسی کے حصے کی بارشیں جب کسی کی فصلوں کو لہلہائیں اور اس کی سازش کا شک ہوا پر اگر نہ جائے تو سر ...
زبان بند رکھیں اور تم سے ڈر جائیں یہ بات ذہن میں آنے سے قبل مر جائیں معافی مانگنے جائیں خدا کے گھر لیکن خطا حرم میں ہوئی ہو تو پھر کدھر جائیں میں اب بدل نہیں سکتا مزاج جینے کا اب آپ چاہیں تو ٹھہریں وگرنہ گھر جائیں بہار نو میں نئے گل تو کھل رہے ہیں مگر جھڑی ہیں شاخ سے جو پتیاں ...
ہاتھوں کی لکیروں کا لکھا کاٹ رہے ہیں ہم اپنے گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں مٹتی نہیں تاریخ سے کوئی بھی عبارت تاریخ لکھے گی کہ لکھا کاٹ رہے ہیں ہے آج کی فصلوں میں عداوت ہی عداوت کیا بویا تھا ہم نے یہاں کیا کاٹ رہے ہیں ہم پھول ہیں مہکیں گے جدھر جائیں گے لیکن اس باغ میں رہنے کی سزا کاٹ ...