شاعری

دیپ اندھوں کے درمیاں ہوگا

دیپ اندھوں کے درمیاں ہوگا تو اجالے کا امتحاں ہوگا دل کے اندر بھی چار خانے ہیں کوئی کیسے نہ بد گماں ہوگا جس کے پیروں تلے زمیں ہوگی اس کے قدموں میں آسماں ہوگا اک حقیقت سے آشنا ہوں میں سب کا دنیا میں امتحاں ہوگا جاؤ گے تم جہاں جہاں احیاؔ اک دوانہ وہاں وہاں ہوگا

مزید پڑھیے

ہیں میرے زخم کی رعنائیاں عجیب و غریب

ہیں میرے زخم کی رعنائیاں عجیب و غریب کہ اس کو چاہئے گہرائیاں عجیب و غریب یہ کس کا زور ہے میرے چراغ کی لو پر بنا رہا ہے جو پرچھائیاں عجیب و غریب ہمارے خواب کی گلیوں سے کون گزرا ہے کہ آ رہی ہیں یہ انگڑائیاں عجیب و غریب نظر اتارتی ہے وقت وقت پر میری ملی ہے ماؤں کو بینائیاں عجیب و ...

مزید پڑھیے

قسم خدا کی نہ جانا کہیں نہیں جانا

قسم خدا کی نہ جانا کہیں نہیں جانا بہت برا ہے زمانہ کہیں نہیں جانا رکو رکو مرے بھائی پتے کی بات سنو یہیں دبا ہے خزانہ کہیں نہیں جانا اگر تمہیں کبھی جانا ہو تم چلے جانا مجھے تو وعدہ نبھانا کہیں نہیں جانا ستارہ خود ہی مرا جب طواف کرتا ہے تو پھر مجھے کہاں جانا کہیں نہیں جانا یوں ...

مزید پڑھیے

جب ہو گیا کمال تو سگریٹ جلا لیا

جب ہو گیا کمال تو سگریٹ جلا لیا یا پھر ہوا ملال تو سگریٹ جلا لیا خود پر کسی کو ہنسنے کا موقع نہیں دیا پوچھا کسی نے حال تو سگریٹ جلا لیا سوکھے گلے سے لفظ کو لانا تھا ذہن تک جب آ گیا خیال تو سگریٹ جلا لیا غصے میں خوں کے گھونٹ تو پیتا رہا مگر آنکھیں ہوئیں جو لال تو سگریٹ جلا ...

مزید پڑھیے

کیوں ہر طرف تو خوار ہوا احتساب کر

کیوں ہر طرف تو خوار ہوا احتساب کر ناراض کیوں ہے تجھ سے خدا احتساب کر حاصل تو ہو گئیں تجھے ساری سہولتیں رزق حلال کتنا ملا احتساب کر ہر دن کریدتا ہے تو اپنے ہی زخم کو کیا ہے یہی مرض کی دوا احتساب کر کب تک رہے گا روشنی کے انتظار میں جلتا نہیں ہے خود سے دیا احتساب کر گمنام ہو گیا ...

مزید پڑھیے

ہجرت کرو تو رشتہ و سامان چھوڑ کر

ہجرت کرو تو رشتہ و سامان چھوڑ کر ورنہ نہ جاؤ تم کبھی میدان چھوڑ کر یوں تو لڑائی جھگڑے کی عادت نہیں مجھے پھر بھی غلط کیا تھا گریبان چھوڑ کر اب کوئی ملنے جلنے کو آتا نہیں ہے گھر میں بھی ہوں بند کمرے میں دالان چھوڑ کر اچھے برے سے پاک یہاں کوئی شے نہیں تم فائدہ گنا کرو نقصان چھوڑ ...

مزید پڑھیے

کسی کی چاہت میں قید رہنا برا نہیں ہے تو اور کیا ہے

کسی کی چاہت میں قید رہنا برا نہیں ہے تو اور کیا ہے بغیر کھڑکی کے گھر میں رہنا سزا نہیں ہے تو اور کیا ہے پرانے پتوں کو جھاڑ دینا نئے نویلوں کو راہ دینا خدا کے بندے اگر یہ کار خدا نہیں ہے تو اور کیا ہے خود اپنے کاندھوں پہ لاش اٹھائے میں دفن ہونے کو جا رہا ہوں یہ زندہ لاشوں کا آخری ...

مزید پڑھیے

ہزاروں سال سے میں جس کے انتظار میں تھا

ہزاروں سال سے میں جس کے انتظار میں تھا وہ عکس خواب تو میرے ہی اختیار میں تھا وہ میری ذات کے پرتو سے ماہتاب ہوا وگرنہ کرۂ بے نور کس شمار میں تھا کوئی لگاؤ نہ تھا اب ہرے شجر سے مجھے میں برگ خشک تھا اڑتے ہوئے غبار میں تھا سفر میں یوں ہی جھلستا رہا خبر نہ ہوئی کہ ٹھنڈے پانی کا چشمہ ...

مزید پڑھیے

چراغ دل کا تھا روشن بجھا گیا پانی

چراغ دل کا تھا روشن بجھا گیا پانی کہ بن کے سیل بلا گھر میں آ گیا پانی خلوص پیار وفا سب اسی کے ساتھ گئے محبتوں کے نشاں سب مٹا گیا پانی چڑھا ہوا تھا جو دریا اتر گیا لیکن ہماری اونچی عمارت ڈھا گیا پانی بجھے گی پیاس بھلا کیا زمیں کی اشکوں سے ہماری آنکھ میں کیوں آج آ گیا پانی ہوئی ...

مزید پڑھیے

استادہ ہے جب سامنے دیوار کہوں کیا

استادہ ہے جب سامنے دیوار کہوں کیا حاصل بھی نہیں روزن درکار کہوں کیا لگتا تو ہے کچھ دید کو نادید کے پیچھے کھلتا نہیں منظر کوئی اس پار کہوں کیا ہوں تنگ ذرا جیب سے اے حسرت اشیا شامل تو ہے فہرست میں بازار کہوں کیا جس بات کے انکار کا حد درجہ گماں ہے وہ بات یقیں کے لئے سو بار کہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4354 سے 5858