شاعری

خواب آنکھوں میں نہاں ہے اب بھی

خواب آنکھوں میں نہاں ہے اب بھی بجھ گئی آگ دھواں ہے اب بھی وہ مرے پاس نہیں ہے لیکن اس کے ہونے کا گماں ہے اب بھی کیا بہادر کوئی آیا ہی نہیں راہ میں سنگ گراں ہے اب بھی کوئی پیاسا ہی نہیں ہے ورنہ چشمۂ‌ شوق رواں ہے اب بھی گھر کو کاندھے پہ لیے پھرتا ہوں مجھ میں یہ تاب و تواں ہے اب ...

مزید پڑھیے

ٹھہرے پانی میں نہاں ایک حسیں خواب بھی ہے

ٹھہرے پانی میں نہاں ایک حسیں خواب بھی ہے آس کی جھیل میں عکس رخ مہتاب بھی ہے دشت تنہائی کے تپتے ہوئے ویرانے میں تیری یادوں کا ہے اک پیڑ جو شاداب بھی ہے پار کرنا بڑا مشکل ہے کہ یہ بحر‌‌ ہوس کہیں گہرا ہے بہت اور کہیں پایاب بھی ہے اس کی تصویر میں آنکھوں میں بسا لوں کہ یہ شے لاکھ ...

مزید پڑھیے

مری حیات کو بے ربط باب رہنے دے

مری حیات کو بے ربط باب رہنے دے ورق ورق یوں ہی غم کی کتاب رہنے دے میں راہگیروں کی ہمت بندھانے والا ہوں مرے وجود میں شامل شراب رہنے دے تباہ خود کو میں کر لوں بدن کو چھو کے ترے تو اپنے لمس کا مجھ پر عذاب رہنے دے ذرا ٹھہر کہ ابھی خون میں سمائی نہیں مرے قریب بدن کی شراب رہنے دے بھلا ...

مزید پڑھیے

دل برباد کو چھوٹا سا مکاں بھی دے گا

دل برباد کو چھوٹا سا مکاں بھی دے گا جب نیا زخم بھرے گا تو نشاں بھی دے گا پہلے گزروں گا میں امید و یقیں کی رہ سے پھر ترا پیار مجھے وہم و گماں بھی دے گا پیکر رنگ جو پل بھر میں بکھر جائے گا جاگتی آنکھوں کو خوابوں کا جہاں بھی دے گا تم جلانا مجھے چاہو تو جلا دو لیکن نخل تازہ جو جلے گا ...

مزید پڑھیے

ورق ورق یہ فسانہ بکھرنے والا تھا

ورق ورق یہ فسانہ بکھرنے والا تھا بچا لیا مجھے اس نے میں مرنے والا تھا شگفتہ پھول پریشاں ہوا تو غم نہ کرو کہ وہ تو یوں بھی ہوا میں بکھرنے والا تھا میں اس کو دیکھ کے پھر کچھ نہ دیکھ پاؤں گا یہ حادثہ بھی مجھی پر گزرنے والا تھا صدائے سنگ نے مجھ کو بچا لیا ورنہ میں اس پہاڑ سے ٹکرا کے ...

مزید پڑھیے

ستا رہی ہے بہت مچھلیوں کی باس مجھے

ستا رہی ہے بہت مچھلیوں کی باس مجھے بلا رہا ہے سمندر پھر اپنے پاس مجھے ہوس کا شیشۂ نازک ہوں پھوٹ جاؤں گا نہ مار کھینچ کے اس طرح سنگ یاس مجھے میں قید میں کبھی دیوار و در کی رہ نہ سکا نہ آ سکا کبھی شہروں کا رنگ راس مجھے میں تیرے جسم کے دریا کو پی چکا ہوں بہت ستا رہی ہے پھر اب کیوں ...

مزید پڑھیے

ہدایت

روشنی کی کوئی سرحد نہیں کوئی مذہب نہیں ہوا کا کوئی جسم نہیں کوئی ملک نہیں پانی کا کوئی رنگ نہیں روشنی کو کوئی نام نہ دو ہوا کو کوئی جسم نہ دو پانی کو رنگین نہ بناؤ پانی میں لہو نہ ملاؤ

مزید پڑھیے

چھوٹے قد کے لوگ

بلند بانگ دعووں کی آوازیں کھوٹے سکوں کی طرح بجتی ہیں پھر بھی چھوٹے قد کے لوگ ان قد آور آوازوں کو سنتے رہتے ہیں کاغذ کے ٹکڑوں کی اب کوئی قیمت نہ رہی پھر بھی بھوکی آنکھیں انہیں ڈھونڈھتی ہیں اور ناکام رہتی ہیں اور بے رحم ہاتھ انہیں جمع کرتے رہتے ہیں چھوٹے قد کے لوگ اپنی آواز کھو چکے ...

مزید پڑھیے

بارش

کل بھی بارش ہوئی تھی آج بھی بارش ہوگی اور پھر کھوکھلی عظمتیں پیدل چلتی سڑکوں پر کیچڑ اچھالتے ہوئے ہوا کی طرح گزر جائیں گی آراستہ دوکانیں یہ تماشا دیکھیں گی اور ہنسے گی

مزید پڑھیے

میں سن نہیں سکتا

زندگی بس کی قطار کے عشق کی طرح سطحی سہی لیکن بے کیف نہیں زندگی دل کش ہے شہر کے ہنگاموں کی طرح میں ہنگاموں کا دل دادہ ہوں خموشی سے نفرت ہے مجھے کہ میں خاموشی میں بیتے کل کی ٹک ٹک گھڑی کی طرح سن نہیں سکتا

مزید پڑھیے
صفحہ 4352 سے 5858