محبت خاک کر دے گی
کہا تھا ناں محبت خاک کر دے گی جلا کر راکھ کر دے گی کہیں بھی تم چلے جاؤ کسی کے بھی بنو تم جس کسی کو چاہے اپناؤ ہماری یاد سے پیچھا چھڑانا اس قدر آساں نہیں جاناں کہا تھا ناں محبت خاک کر دے گی جلا کر راکھ کر دے گی
کہا تھا ناں محبت خاک کر دے گی جلا کر راکھ کر دے گی کہیں بھی تم چلے جاؤ کسی کے بھی بنو تم جس کسی کو چاہے اپناؤ ہماری یاد سے پیچھا چھڑانا اس قدر آساں نہیں جاناں کہا تھا ناں محبت خاک کر دے گی جلا کر راکھ کر دے گی
مت تہذیب تمدن کی تم ہم سے بات کرو دل کا درد چھلک جائے گا ورنہ آنکھوں سے غیرت کے اس نام پہ اب تک جتنے خون ہوئے ان میں کل اک چار سال کی بچی بھی دیکھی جس نے ہاتھ میں کپڑے کی اک گڑیا تھامی تھی مٹھی میں اک ٹافی تھی جو اس نے کھانی تھی اس کی پلکوں پر حیرت تھی حیرت میں تھا خوف گردن پر خنجر کا ...
کل شب فون کیا جب تم نے ہولے ہولے سے یوں بولے جاناں سن لو تم نے آ کر چاہت کا احساس دلا کر میرے دل کو جیت لیا ہے اتنی جلدی واپس کیوں تم لوٹ گئی ہو پلٹ کے ایک نظر بھی نہ دیکھا اس کی جانب آج تلک جو دیکھ رہا ہے راہ تمہاری جس کو سچ مچ مار گئی ہے چاہ تمہاری
بہت بے درد لمحہ تھا ہمارے درمیاں آ کر نہیں پل بھر رکا جاناں نہ ہم دونوں سے کچھ پوچھا نہ اس نے کچھ بھی بتلایا فقط چھو کر ہمیں گزرا لہو میں سرسراہٹ سی زباں میں لڑکھڑاہٹ سی عطا کرکے بھلا بیٹھا بہت بے درد لمحہ تھا بہت ہی یاد آتا ہے
کیا ہوا جو حیات فانی ہے غم کا لمحہ تو جاودانی ہے زندگانی بحال رکھنے کو سائے پینے ہیں دھوپ کھانی ہے کوئی چومے کہ میری آنکھوں میں جو صحیفہ ہے آسمانی ہے لوگ روئے لپٹ کے سایوں سے قحط انساں کی یہ نشانی ہے حملہ آور بدلتے رہتے ہیں بستی لیکن وہی پرانی ہے دل بھی اپنا نہیں یہاں ...
جب خاک اڑاتا ہوا نیندوں کا سفر ہو پھر کیوں نہ کسی اور ہی دنیا سے گزر ہو وہ میرے برابر سے نکل آیہ تھا ورنہ دیوار نہ تھی ایسی کہ جس میں کوئی در ہو میں جسم سے گزرا ہوں یہی سوچ کے اکثر شاید کہ تری روح کا اس راہ میں گھر ہو یہ کیسی تمنا ہے کہ اس دشت میں فیصلؔ دریا ہو کنارہ ہو سفینہ ہو ...
بادلوں کی طرح کیوں چھا گیا ہے دل پر غم وہ کون تھا جو آیا اور چلا گیا اپنی یاد کی طرح قدم کے حسیں نشاں چھوڑ کر گیا جنہیں ہواؤں نے مٹا دیا اور غبار سا اڑا دیا پتھروں کی طرح راستے خموش ہیں راستوں سے کیا کہیں فاصلے ہیں درمیاں جو وقت کی طرح چلا گیا وہ لوٹ کر نہ آئے گا شام کیوں اداس ...
دھوپ کتنی خوب صورت ہے یہاں حسیں چہروں پر دھوپ تاج محل پر دھوپ حسن خود چل کر یہاں حسن کو دیکھنے آتا ہے میں چلتے پھرتے حسن میں ایسا کھویا ہوں کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تاج کو دیکھوں یا حسن گریزاں کو
خالی گلاس کے مقدر میں ہونٹوں کا لمس ہاتھوں کی نرمی کہاں شبنم روتی ہے اسے فنا کا غم ہے لمس کی قیمت کا احساس نہیں ہے اس کو پھولوں کی آغوش میں موت بھی حسین ہو جاتی ہے زندگی کی طرح خوش قسمت ہیں وہ لفافے جن پر ثبت ہوتی ہے مہر حسین لبوں کی مجھے بھی کوئی چھولے مجھے بھی کوئی پی لے میں پھر ...
جو بحر احتیاط میں پالی نہیں گئی اس زندگی کی ناؤ سنبھالی نہیں گئی ساحل سے دیکھتے رہے سب ڈوبتے ہوئے لیکن بھنور سے ناؤ نکالی نہیں گئی ان کے ہر اک اشارے پہ سر کو جھکا دیا مجھ سے بڑوں کی بات بھی ٹالی نہیں گئی پرکھوں سے اپنا طور ہے دستار باندھنا پگڑی کسی کی ہم سے اچھالی نہیں ...