نشیب
پہاڑوں میں گھری وادی کی بلکھاتی ہوئی سڑکیں گزرتے موڑ پر جھکتی ہوئی شاخوں سے پوچھیں گی پرانے ماڈلوں کی گاڑیوں نے کیا کہا تم سے مسافر خواہشوں کی منزلوں پر بھی پہنچتے ہیں کہ رستے کی کسی کھائی میں اپنے نام کی قبروں میں جا کر لیٹ جاتے ہیں
پہاڑوں میں گھری وادی کی بلکھاتی ہوئی سڑکیں گزرتے موڑ پر جھکتی ہوئی شاخوں سے پوچھیں گی پرانے ماڈلوں کی گاڑیوں نے کیا کہا تم سے مسافر خواہشوں کی منزلوں پر بھی پہنچتے ہیں کہ رستے کی کسی کھائی میں اپنے نام کی قبروں میں جا کر لیٹ جاتے ہیں
اندھیرے دوڑتے ہیں رات کی ویران آنکھوں میں چراغوں کی جڑوں سے روشنی کا خون رستا ہے سمندر کشتیوں میں چھید کرتی مچھلیوں سے بھر گئے آخر مسافر منزلوں کی خواہشوں سے ڈر گئے آخر صدا اس قید گہہ سے بھاگ جانے کی کڑی کوشش میں زخمی ہے زمیں فالج زدہ ہونٹوں کی جنبش سے ٹھہر جانے کو شاید کہہ رہی ...
محبت حادثہ ہے حادثے سے بچ نکلنے کی کوئی تدبیر کر لو اس سے پہلے خواب ہو جاؤ جسے ہم حادثہ کہتے ہیں جیون کو گھڑی بھر میں مٹا کر خاک کرتا ہے کوئی الزام دھرتا ہے کبھی معذوریوں کے جال میں قیدی بنا کر چھوڑ دیتا ہے یہ بندھن توڑ دیتا ہے محبت حادثہ ہے حادثے سے بچ نکلنے کی کوئی تدبیر کر ...
محبتوں کا خیال رکھنا کہیں نہ ایسا ہو بے دھیانی میں تم ہتھیلی کو کھول ڈالو ہوائیں سازش پہ آن اتریں تو خشک پتوں سا حال ہوگا گلاب رت کا زوال ہوگا محبتوں کا خیال رکھنا
وہ اکثر مجھ سے کہا کرتا کہ میں تمہاری شہرت سے بالکل بھی خائف نہیں ہوں میں بہت خوش ہوتا ہوں تمہاری کامیابیوں کو دیکھ کر لیکن لیکن جب تم کسی اجنبی کو کسی بھی اجنبی کو آٹوگراف دیتی ہو تو تو میں ڈر جاتا ہوں کیونکہ میں نے بھی تو میں نے بھی آغاز میں تم سے آٹوگراف ہی لیا تھا
تمہیں اپنا بنانا کس قدر دشوار ہے جاناں مگر اس سے بھی مشکل ہے تمہیں دل سے بھلا دینا ذرا سی بات تھی جو تم سے کہنی تھی مگر کہنے کی نوبت ہی نہیں آئی مقدر نے نہایت ہی سہولت سے تمہیں میرا بنا ڈالا بنا مشکل کے پھر میں نے تمہیں دل سے بھلا ڈالا
کبھی ہم پھول ہوتے تھے گلابی نرم و نازک اوس میں بھیگا مہکتا مسکراتا خوشبوؤں کو چومنے والا محبت کرنے والے جھوم اٹھتے جب ہمیں پاتے ہمیں پوروں سے چھو کر روح تک محسوس کرتے تھے کئی کالر کئی آنکھیں انوکھے وصل کے لمحے ہمارے منتظر ہوتے ہمارے حسن کے چرچے گلی کوچوں میں ہوتے تھے اداؤں کے ...
خدا نے جب شفا تقسیم کی سارے زمانے میں تمہاری انگلیوں پر اس نے اپنے ہاتھ سے لکھا کسی بیمار کو چھو لو شفا اس کا مقدر ہے تم ہر بیمار کو اپنا سمجھتے ہو مداوا اس کا کرتے ہو ہر اک بیمار کے چہرے پہ رونق تم سے قائم ہے دعا عیسائی کی تم کو لگ گئی شاید تمہی امید ہو اس کی شفا ہاتھوں پہ تم نے رب ...
کوئی تو بات ایسی تھی جدائی کا سبب ٹھہری جو صدیوں کے سفر سے تھی مگر پلکوں پہ پل بن کر کھٹکتی ہے نفس میں آ کے چبھتی ہے جو دل میں چھید کرتی ہے زمانے پر عیاں سب بھید کرتی ہے کروں جب یاد تو یہ سانس رکتا ہے یہ دل تھم تھم کے چلتا ہے کوئی تو بات ایسی تھی
سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے ان میں کچھ کمیٹڈ بھی ہوتے ہیں لیکن سنا ہے اب یہ قسم نایاب ہو گئی ہے جیسے ڈائناسور