شاعری

جو سمندر ہمیں گھنگھور گھٹا دیتا ہے

جو سمندر ہمیں گھنگھور گھٹا دیتا ہے وہی قطروں کو بھی دریا سے ملا دیتا ہے جدت آموز زمانہ ہمیں کیا دیتا ہے راہ کی دھول سمجھتا ہے اڑا دیتا ہے مفلسی کتنی تڑپ اٹھتی ہے بیتابی سے آ کے سائل جو کبھی در پہ صدا دیتا ہے ضبط کا پیڑ گھنا دل میں لگائے رکھنا یہ گھنا پیڑ سدا ٹھنڈی ہوا دیتا ...

مزید پڑھیے

اس کو بھولے بنا کوئی چارہ نہیں وہ ہمارا نہیں

اس کو بھولے بنا کوئی چارہ نہیں وہ ہمارا نہیں عشق اک بار ہے یہ دوبارہ نہیں وہ ہمارا نہیں کوئی پھولوں سے خوشبو کو آ کے چنے کوئی گجرے بنے یہ محبت ہے اس میں خسارہ نہیں وہ ہمارا نہیں نیند آنکھوں ہی آنکھوں میں کٹتی گئی پو بھی پھٹتی گئی یاد کرتے رہے پر پکارا نہیں وہ ہمارا نہیں کوئی ...

مزید پڑھیے

خوابوں کو جاگیر بنانا بھول گئے

خوابوں کو جاگیر بنانا بھول گئے اس پہ ستم تعبیر بنانا بھول گئے پیار کے زہر کو چکھ لینے کے بعد کھلا ہم اس کو اکسیر بنانا بھول گئے چھوڑ گیا وہ جس پل ہم کو تب جانا چاہت کو زنجیر بنانا بھول گئے ایک دعا کی صورت تم کو چاہا تھا اور اس میں تاثیر بنانا بھول گئے تم کو پلکوں بیچ چھپانا ...

مزید پڑھیے

عشق پاگل کر گیا تو کیا کرو گے سوچ لو

عشق پاگل کر گیا تو کیا کرو گے سوچ لو سانحہ ایسا ہوا تو کیا کرو گے سوچ لو ساتھ اس کے ہر قدم چلنے کی عادت کس لیے چھوڑ کر وہ چل دیا تو کیا کرو گے سوچ لو شور باہر ہے ابھی اس واسطے خاموش ہو شور اندر سے اٹھا تو کیا کرو گے سوچ لو کر رہے ہو گھر نیا تعمیر اڑتی ریت پر یہ اچانک گر گیا تو کیا ...

مزید پڑھیے

ساتھ کشتی کے اچانک بادباں بھی جل اٹھا

ساتھ کشتی کے اچانک بادباں بھی جل اٹھا پانیوں میں ڈوبتا سایہ مکاں بھی جل اٹھا جس پرندے نے کیا تعمیر دے کر خون دل بجلیوں کی زد میں اس کا آشیاں بھی جل اٹھا میرا چہرہ ماہتابی دیکھ کر سورج جلا اور حد ہے چاند جیسا رازداں بھی جل اٹھا

مزید پڑھیے

بولا ہیں رنگ کتنے زمانے کے اور بھی

بولا ہیں رنگ کتنے زمانے کے اور بھی اس نے کہا ہیں بھید بتانے کے اور بھی بولا تمہارے دل میں محبت نے گھر کیا میں نے کہا ہیں روگ لگانے کے اور بھی میں نے کہا وفا کی کبھی داستاں سنی بولا ہیں قصے سننے سنانے کے اور بھی اظہار سے بلند ہے میں نے بتایا عشق بولا مزے ہیں اس کو جتانے کے اور ...

مزید پڑھیے

پہلے کہہ دیا ہوتا

کہا تم نے مجھے تم سے محبت ہو نہیں سکتی یہی کہنا تھا تو آغاز میں ہی کہہ دیا ہوتا نہ یہ کہتے ہوئے آنکھیں چراتے تم نہ میرے دل میں اتنا بے تحاشا درد ہی اٹھتا نہ میری بے بسی کا امتحاں ایسے لیا ہوتا اگر تم کو یہی کہنا تھا پہلے کہہ دیا ہوتا

مزید پڑھیے

محبت خواب جیسی ہے

کسی بھی آنکھ کی پتلی پہ چپکے سے اترتی ہے نشاں سا چھوڑ جاتی ہے یقیں کے رنگ دھندلا کر گماں سا چھوڑ جاتی ہے محبت کا کوئی کلیہ کوئی قانون لوگوں کی سمجھ میں آ نہیں سکتا کوئی بھی اس کے گہرے بھید ہرگز پا نہیں سکتا چمکتی دھوپ کی ان چلچلاتی زرد تاروں سے بنا ہے اس کو فطرت نے یہ سب رنگوں سے ...

مزید پڑھیے

کہانی اوڑھ لی میں نے

زمانہ چاہتا ہے ہر گھڑی بس نت نئی باتیں نئے دن اور نئی شامیں نئی صبحیں نئی راتیں نئی قسمیں نئے وعدے نئے رشتے نئے ناتے پرانے جو بھی قصے تھے وہ اب اس کو نہیں بھاتے میں خود لفظوں کی مصرعوں کی بہم تکرار سے جاناں بہت اکتا گئی تھی اب تو میں نے یوں کیا لفظوں کو مصرعوں کو لپیٹا سرخ کاغذ ...

مزید پڑھیے

انوسینس

مرے بچے نے جب مجھ سے کہا مما ذرا جگنو مجھے لا دو مجھے تتلی کے رنگوں کو بھی چھونا ہے ستارے آسماں پر ہی اگے ہیں کیوں زمیں پر کیوں نہیں آتے مجھے بس چاند لا دو اس سے کھیلوں گا میں چونک اٹھی یہی کچھ میں نے اپنی ماں سے پوچھا تھا مرا معصوم سا بچپن جو مٹھی سے پھسل کر کھو گیا شاید مرا بچہ جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4351 سے 5858