کس طرح رات کی دہلیز کوئی پار کرے
خواب چنتی ہوئی آنکھیں ہیں پرندوں کی طرح اور یہ جسم کہ جیسے کوئی بے برگ شجر غیر واضح سا تصور کوئی مبہم سا خیال کس طرح رات کی دہلیز کوئی پار کرے
خواب چنتی ہوئی آنکھیں ہیں پرندوں کی طرح اور یہ جسم کہ جیسے کوئی بے برگ شجر غیر واضح سا تصور کوئی مبہم سا خیال کس طرح رات کی دہلیز کوئی پار کرے
دور تک پھیلے ہوئے ایک گھنے جنگل میں دو شجر کھینچ کے سایوں کو جہاں ملتے ہیں اس جگہ دھوپ بھی سورج سے ملا کرتی ہے اوڑھ کر شام کی پھولوں بھری چادر اکثر جیسے دو شخص بچھڑنے کے لئے ملتے ہیں
تمہیں معلوم ہے جب بھی پرانے یار گلیوں کی یوں ہی بے سود باتوں میں کئی گھنٹوں کی بے مصرف نشست رائیگاں کو یاد کرتے ہیں تو کتنا لطف آتا ہے پرانے گھر میں گزرے پل اور ان میں سب کہی اور ان کہی باتوں کو جب دہرایا جاتا ہے تو کتنا لطف آتا ہے تمہیں معلوم ہے جب اس طرح کے ان گنت لمحے جنہیں ہم ...
دیکھتے دیکھتے سب دھند میں تحلیل ہوئے دشت کہسار فلک آب نباتات سبھی بلڈنگیں چھوٹی بڑی دور تلک پھیلے گھر اکا دکا جو کہیں لوگ نظر آتے تھے وہ بھی مشغول تھے بے روح سی سرگرمی میں ہر کوئی نوحہ کناں تھا کہ پرانی صدیاں بوڑھی تہذیب کو دفنا کے ابھی لوٹی ہیں اور اب ڈھونڈھتی ہیں ان دیکھے ...
روز اس آس پہ دروازہ کھلا رکھتا ہوں شاید آ جائے وہ چپکے سے کبھی اس جانب وہ جو دنیا سے بہت دوری پر آگ کے خوف سے سہمے ہوئے اک لمحے میں چھپ کے بچے کی طرح بیٹھا ہے منتظر ہوں کہ کوئی اس کو سہارا دے دے جسے وہ تھام کے ظلمت کا سفر طے کر لے اور مل جائے وہ مجھ سے کہ مرے چہرے پر میری آنکھوں نے سجا ...
ترے نشان کو چنتا ہوا میں گلیوں میں نکل گیا ہوں بہت دور ایسے رستوں پر جہاں پہ خود کو بھی چاہوں تو ڈھونڈ سکتا نہیں سفر حیات کا لگتا ہے رائیگاں ہی گیا
رات کی راہ سے ہٹ کر کسی غم خانے سے چاند چپکے سے نکل آیا تھا کتنی کلیاں تھیں جو ذہنوں میں مہکتی دیکھیں برف کے ایک پگھلتے ہوئے سناٹے میں کتنی صدیاں تھیں جو خاموش گزرتے دیکھیں اپنی ہی آگ میں جلتے ہوئے پیڑوں پر اگر اس گھڑی بور جو اترا تو جنم ہوگا ضرور ایسی نظموں کا جو مہکار میں ڈوبی ...
جسم کی آگ کہاں بجھتی ہے لوگ کس وقت محبت کا نشہ سونگھتے ہیں کتنے ٹکڑوں میں بکھرتے ہیں وہ اور پھر جوڑتے ہیں ایک اک کر کے بدن کے اعضا اور یہی کہتے ہیں خاک کے قرب کی بیتاب کشش ایک بے فیض سی سرگرمی ہے جسم سے آگے کی منزل نہیں دیکھی ہم نے
میں اپنے جسم سے باہر نکل کے دیکھوں گا یہ کائنات مجھے کس طرح کی لگتی ہے فریب ذات کا احساس گرچہ اچھا ہے بہت کٹھن ہے سفر آگہی کی منزل کا بھٹک رہا ہوں میں صدیوں سے ایسی دنیا میں جہاں پہ جسم سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے ہر ایک خواب کو رستہ بدلنا پڑتا ہے
یہ ممکن ہے کہ میں تم کو نہ یاد آؤں مگر یہ بھی تو ممکن ہے اتر کر شب کی سیڑھی سے کوئی بے نام پرچھائیں ہٹا دے برف یادوں کی