جو راہ چھوٹ گئی تھی
جو راہ چھوٹ گئی تھی اسی کا اک کونا لپٹ کے پاؤں سے منزل پہ آ گیا ہوگا
جو راہ چھوٹ گئی تھی اسی کا اک کونا لپٹ کے پاؤں سے منزل پہ آ گیا ہوگا
کوئی ذی روح نہ تھا اطراف میں ویرانی تھی وقت بیمار تھا دم توڑ رہا تھا شاید شام کے موڑ پہ کچھ دھوپ پڑی تھی جس میں ایک بے شکل سے سائے کا لرزتا ہوا عکس رینگتے رینگتے اک لمبی صدا کے پیچھے ان گنت شمسی نظاموں کے جہاں سے نکلا آخر کار وہ اس کار گراں سے نکلا
معمولی بے کار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں مجھ کو اک آزار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں پاگل پن میں آ کر پاگل کچھ بھی تو کر سکتا ہے خود کو عزت دار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں ہنس پڑتا ہوں جب کوئی حالات کا رونا روتا ہے جیون کو دشوار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں میں واقف ہوں رنگوں کی ...
لاکھ بہکائے یہ دنیا ہو گیا تو ہو گیا دل سے جو اک بار میرا ہو گیا تو ہو گیا کیوں ندامت ہو مجھے لا اختیاری فعل پر میں تری نظروں میں رسوا ہو گیا تو ہو گیا کم زیادہ ہو تو سکتا ہے مگر چھٹتا نہیں جس کو جو اک بار نشہ ہو گیا تو ہو گیا دل بہت روتا ہے لیکن اس بت مغرور سے منقطع ہر ایک رشتہ ہو ...
رونق مکتب بتاؤ تو ذرا چار حرفی لفظ ہے وہ کون سا سر کو اس کے کاٹ ڈالیں ہم اگر ظلم کے معنی ہے دیتا سربسر تیسرا گر حرف اس کا دیں گرا اس کے معنی ہوں طریقہ قاعدہ مانتے ہیں اس کو سب پیر و جواں زور و طاقت میں ہے وہ اک پہلواں دیکھ لو تم آپ میں نے کہہ دیا چار شعروں کے ہے سر ہی میں چھپا
بنایا تھا چڑیا نے اک گھونسلہ کہ وہ ایک گھر کے تھا چھت میں بنا ہوئے ایک بار اس کے بچے وہاں کھلاتی غذا لا کے بچوں کو ماں وہ بہر غذا تھی کسی دن گئی پریشاں ہوئی جب وہ واپس ہوئی کہ بچے تو ہیں لیکن آفت یہ تھی کہ بیٹھا ہے بچوں میں اک سانپ بھی پریشان اور مضطرب ہو گئی بہت آہ زاری سے فریاد ...
کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے تو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسے جاگتے جاگتے اک عمر کٹی ہو جیسے جان باقی ہے مگر سانس رکی ہو جیسے ہر ملاقات پہ محسوس یہی ہوتا ہے مجھ سے کچھ تیری نظر پوچھ رہی ہو جیسے راہ چلتے ہوئے اکثر یہ گماں ہوتا ہے وہ نظر چھپ کے مجھے دیکھ رہی ہو جیسے ایک ...
نہ چہرے سے نہ آنکھوں سے عیاں عشق ابھی دل پر ترے اترا کہاں عشق ابھی تک صرف آوازیں سنی ہیں ابھی تک لکھ رہی ہیں انگلیاں عشق زباں پر اس قدر گردان کیوں ہے تو کیسے ہوش میں کہتا ہے ہاں عشق زمیں سے آسماں تک گل کھلے ہیں تڑپ کر ہو رہے ہیں جسم و جاں عشق یہی تو اعتبار شب کدہ ہے مرا حاصل ہے ...
پلکیں نیند سے بوجھل ہیں یا اب منظر کی تاب نہیں کیوں ان جلتی آنکھوں میں اب رنگ برنگے خواب نہیں اک مدت سے کس ناطق کی نوک زباں پر اٹکا ہوں میں اک لفظ ہوں گویا وہ بھی معنی سے سیراب نہیں آنکھیں ہیں یا خار مغیلاں چہرہ ہے یا صحرا ہے لفظ بہت نایاب ہیں پیارے درد مگر نایاب نہیں میری بلا ...
میں یہی سوچ کے کل رات نہیں سویا اگر نیند پھر آئی تو در خواب کا کھل جائے گا اور کتنے ہی عذابوں کا ستم بار ہجوم صف بہ صف بڑھتا ہوا میری طرف آئے گا